Tafsir As-Saadi
4:11 - 4:12

وصیت کرتا ہے تمھیں اللہ تمھاری اولاد کی بابت، واسطے مرد کے ہے مثل حصے دو عورتوں کے۔ پھر اگر ہوں (صرف) عورتیں (ہی، دو یا) زیادہ دو سے تو ان کے لیے ہے دو تہائی اس میں سے جو چھوڑ گیا وہ اور اگر ہو ایک ہی (لڑکی) تو اس کے لیے ہے آدھااور واسطے اس کے ماں باپ کے، ہر ایک کے لیے ان میں سے چھٹا حصہ ہے اس سے جو وہ چھوڑ گیا، اگر ہے اس کی اولاد۔ پس اگر نہ ہو اس کی اولاد اور وارث ہوں اس کے ماں باپ ہی تو اس کی ماں کے لیے ہے تیسرا حصہ۔ پس اگر ہوں اس کے (ایک سے زیادہ) بھائی (بہن) تو اس کی ماں کا ہے چھٹا حصہ۔ بعد وصیت کے کہ وصیت کر جائے وہ اس کی یا (بعد) قرض کے۔ تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، نہیں تم جانتے کون ان میں سے زیادہ قریب ہے تمھارے لیے بہ اعتبار نفع کے۔ (یہ) مقرر ہے اللہ کی طرف سے، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(11) اور تمھارے لیے آدھا ہے اس کا جو چھوڑ گئیں تمھاری بیویاں اگر نہ ہو ان کی اولاد۔ پس اگر ہو واسطے ان کے اولاد تو تمھارے لیے ہے چوتھا حصہ اس سے جو وہ چھوڑ گئیں، بعد وصیت کے کہ وصیت کر جائیں وہ اس کی یا (بعد) قرض کے۔ اور ان (بیویوں) کے لیے ہے چوتھا حصہ اس سے جو چھوڑ جاؤ تم، اگر نہ ہو تمھاری اولاد، پس اگر ہو تمھاری اولاد تو ان (بیویوں) کے لیے ہے آٹھواں حصہ، اس سے جو چھوڑ جاؤ تم، بعد وصیت کے کہ وصیت کر جاؤ تم اس کی یا (بعد) قرض کے۔ اور اگر ہو وہ مرد کہ وراثت لی جارہی ہے (اس کی) کلالہ یا عورت ہو(ایسی ہی) اور واسطے اس کے ایک بھائی ہے یا ایک بہن تو ہر ایک کے لیے ان دونوں میں سے چھٹا حصہ ہے۔ پس اگر ہوں وہ زیادہ اس سے تو وہ شریک ہوں گے تہائی حصے میں۔ بعد وصیت کے کہ وصیت کر دی جائے اس کی یا (بعد) قرض کے۔ بشرطیکہ نہ نقصان پہنچانے والا ہو وہ، (یہ) وصیت ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ جاننے والا بردبار ہے(12)

[11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِيۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھاری اولاد کے بارے میں تمھیں وصیت (حکم) فرماتا ہے۔‘‘ یعنی اے والدین کے گروہ! تمھاری اولاد تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں وصیت کی ہے تاکہ تم ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کی دیکھ بھال کرو۔ تم ان کو تعلیم دو ادب سکھاؤ، انھیں برائیوں سے بچاؤ، انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقویٰ کے دائمی التزام کا حکم دو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ ﴾(التحریم:66؍6) ’’اے ایمان دارو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘پس اولاد کے بارے میں والدین کو وصیت کی گئی ہے۔ اس لیے چاہیں تو وہ اس وصیت پر عمل کریں تب ان کے لیے بہت زیادہ ثواب ہے اور چاہیں تو اس وصیت کو ضائع کر دیں تب وہ سخت وعید اور عذاب کے مستحق ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ان کے والدین سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے والدین کو ان کی اولاد کے بارے میں وصیت کی درآں حالیکہ والدین اپنی اولاد کے لیے کمال شفقت کے حامل ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اولاد کے لیے وراثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ یعنی اگر اصحاب الفروض نہ ہوں یا اصحاب الفروض کو دینے کے بعد ترکہ بچ جائے تو صلبی اولاد اور بیٹے کی اولاد کے لیے وراثت کا حکم یہ ہے کہ دو لڑکیوں کا حصہ ایک لڑکے کے برابر ہے۔ اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے نیز اگر میت کی صلبی اولاد موجود ہو تو وراثت انھی میں تقسیم ہوگی۔ اگر میت کے بیٹے بیٹیاں ہیں تو پوتے پوتیوں کو وراثت نہیں ملے گی۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ میت کے بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہیں، یہاں دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت کہ صرف بیٹے ہوں، اس کا ذکر آگے آئے گا۔ دوسری صورت کہ صرف بیٹیاں ہوں، اس کا ذکر ذیل میں ہے۔بیٹیوں کے لیے وراثت کے احکام:اگر صرف بیٹیاں وارث ہوں تو ان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ كُنَّ نِسَآءًؔ فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ ﴾ یعنی اگر صلبی بیٹیوں یا پوتیوں کی تعداد تین یا تین سے زیادہ ہے ﴿ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ﴾ ’’تو ان سب کے لیے دو تہائی ترکہ ہے۔‘‘ ﴿ فَلَهَا النِّصۡفُ ﴾ ’’اگر ایک بیٹی یا پوتی ہے تو اس کے لیے نصف ترکہ ہے‘‘ اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔باقی رہی یہ بات کہ اس پر اجماع کے بعد یہ اصول کہاں سے مستفاد ہوا کہ دو بیٹیوں کے لیے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ہے؟۔۔۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اصول اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنۡ كَانَتۡ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصۡفُ ﴾ سے ماخوذ ہے، کیونکہ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے اگر بیٹی ایک سے زائد ہو تو وراثت کا حصہ بھی نصف سے منتقل ہو کر آگے بڑھے گا اور نصف کے بعد دو تہائی حصہ ہی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ جب میت نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی ہو تو ترکہ میں سے بیٹے کے لیے دو تہائی حصہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کا یہ حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی حصہ ہے۔ نیز اگر بیٹی اپنے بھائی کی معیت میں وراثت میں سے ایک تہائی حصہ لیتی ہے درآں حالیکہ بھائی بہن کی نسبت وراثت میں اس کے لیے زیادہ نقصان کا باعث ہے تو بہن کی معیت میں بیٹی کا وراثت سے حصہ لینا زیادہ اولیٰ ہے۔نیز بہنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ كَانَتَا اثۡنَتَيۡنِ فَلَهُمَا الثُّلُـثٰنِ مِمَّؔا تَرَكَ ﴾(النساء:4؍176) ’’اگر دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کے لیے ترکے میں سے دو تہائی حصہ ہے۔‘‘ دو بہنوں کے لیے دو تہائی ترکہ کے بارے میں یہ واضح نص ہے۔ جب دو بہنیں میت سے رشتہ میں بعد کے باوجود اس کے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ لیتی ہیں تو دو بیٹیاں میت سے رشتہ میں قرب کی بنا پر دو تہائی ترکہ لینے کی زیادہ مستحق ہیں۔ نیز صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺنے سعدtکی دو بیٹیوں کو دو تہائی ترکہ عطا کیا۔باقی رہا یہ اعتراض کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اگر بیٹیاں دو سے زیادہ ہوں‘‘ کا کیا فائدہ؟ کہا جاتا ہے کہ اس کا فائدہ یہ ہے۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ کہ یہ معلوم ہو جائے کہ زیادہ سے زیادہ حصہ دو تہائی ہی ہے۔ وارث بیٹیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ وراثت کا حصہ دو تہائی سے زیادہ نہیں ہو گا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب میت کی صلب میں سے ایک بیٹی ہو اور ایک یا ایک سے زائد پوتیاں ہوں تو بیٹی کے لیے نصف ترکہ ہے اور اس دو تہائی میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ایک سے زائد بیٹیوں یا پوتیوں کے لیے مقرر کیا ہے، چھٹا حصہ باقی بچ جاتا ہے تو یہ چھٹا حصہ پوتی یا پوتیوں کو دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے اس چھٹے حصے کو ’’دو تہائی کا تکملہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور اس کی مثال پوتی کی معیت میں وہ پوتیاں ہیں جو اس سے زیادہ نیچے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر بیٹیاں یا پوتیاں پورے کا پورا دو تہائی حصہ لے لیں تو وہ پوتیاں جو زیادہ نیچے ہیں ان کا حصہ ساقط ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے صرف دو تہائی کا حصہ مقرر کیا ہے جو کہ پورا ہو چکا ہے۔ اگر ان کا حصہ ساقط نہ ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے لیے دو تہائی سے زیادہ حصہ مقرر ہو اور یہ بات نص کے خلاف ہے اور ان تمام احکام پر علماء کا اجماع ہے۔ وللہ الحمد.اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مِمَّؔا تَرَكَ ﴾ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ میت ترکہ میں جو کچھ بھی چھوڑتی ہے خواہ وہ زمین کی صورت میں جائیداد ہو، گھر کا اثاثہ یا سونا چاندی وغیرہ ہو حتیٰ کہ دیت بھی جو اس کے مرنے کے بعد ہی واجب ہوتی ہے اور وہ قرضے جو میت کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ ورثاء ان سب چیزوں کے وارث ہوں گے۔ماں باپ کے لیے وراثت کے احکام:پھر اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے لیے وراثت کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلِاَبَوَيۡهِ ﴾ اس سے مراد ماں اور باپ دونوں ہیں ﴿ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ مِمَّؔا تَرَكَ اِنۡ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ ﴾ یعنی اگر میت کا ایک یا ایک سے زائد صلبی بیٹا یا بیٹی، پوتا یا پوتی موجود ہوں۔ تو پس ماں اولاد (بیٹے یا پوتے)کی معیت میں چھٹے حصے سے زیادہ نہیں لے گی۔باپ کے لیے وراثت کے احکام:اگر میت کی نرینہ اولاد موجود ہے تو ان کی معیت میں باپ چھٹے حصے سے زیادہ نہیں لے گا۔ اگر اولاد بیٹی یا بیٹیاں ہیں اور مقررہ حصے ادا کرنے کے بعد کچھ نہ بچے، جیسے ماں باپ اور دو بیٹیاں ہوں، تو باپ کا استحقاق عصبہ باقی نہیں رہے گا۔اور اگر بیٹی یا بیٹیوں کے حصے کے بعد کچھ بچ جائے تو باپ چھٹا حصہ مقررہ حصے کے طور پر اور باقی مال عصبہ ہونے کے اعتبار سے لے گا۔ اس لیے کہ اصحاب الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد جو بچ جائے تو اس کا وہ مرد زیادہ مستحق ہوتا ہے جو میت کے زیادہ قریب ہو، اس لیے اس صورت میں باپ بھائی اور چچا وغیرہ سے زیادہ قریب ہے۔﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ﴾ ’’اور اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے‘‘ یعنی باقی ترکہ باپ کے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مال کی اضافت بیک وقت ماں اور باپ کی طرف کی ہے پھر ماں کا حصہ مقرر کر دیا، تو یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ باقی مال باپ کے لیے ہے۔اس سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ میت کی اولاد کی عدم موجودگی میں میت کا باپ اصحاب فروض میں شمار نہیں ہوتا بلکہ وہ عصبہ کی حیثیت سے تمام مال یا مقرر کردہ حصوں (فروض) سے بچے ہوئے باقی مال کا حق دار ہو گا۔اگر ماں باپ کی موجودگی میں میت کا خاوند یا بیوی بھی موجود ہو۔ جن کو (عمریتین) سے تعبیر کیا جاتا ہے… تو خاوند یا بیوی اپنا حصہ لیں گے، ماں باقی میں سے ایک تہائی لے گی اور جو بچ رہے گا اس کا مالک میت کا باپ ہو گا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ﴾یعنی جس مال کے وارث ماں باپ ہوں اس کا ایک تہائی حصہ ماں کے لیے ہے اور وہ ان دو صورتوں میں یعنی میت کے خاوند، ماں اور باپ کے وارث ہونے کی صورت میں چھٹا حصہ، اور میت کی بیوی، ماں اور باپ کے وارث ہونے کی صورت میں چوتھا حصہ ہے۔ پس یہ آیت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ میت کی ماں، میت کی اولاد کی عدم موجودگی میں تمام مال کی ایک تہائی کی وارث ہے۔ جب تک یہ نہ کہا جائے کہ یہ مذکورہ دو صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ خاوند یا بیوی جو حصہ لیتی ہے، وہ اس حصے کی طرح ہے جو قرض خواہ لیتے ہیں، اس لیے وہ سارے مال سے ہو گا اور باقی مال کے وارث ماں باپ ہوں گے۔ کیونکہ اگر ہم کل مال کا تیسرا حصہ ماں کو عطا کر دیں تو اس سے میت کے خاوند کی معیت میں ماں کا حصہ باپ کے حصے سے بڑھ جائے گا یا میت کی بیوی کی معیت میں باپ کا حصہ ماں کی نسبت چھٹے حصے کے نصف سے زیادہ ہو جائے گا جس کی کوئی نظیر نہیں، کیونکہ اصول یہ ہے کہ ماں، باپ کے مساوی حصہ لے گی یا باپ اس سے دگنا لے گا جو ماں کے حصہ میں آتا ہے۔﴿ فَاِنۡ كَانَ لَهٗۤ اِخۡوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ ﴾ ’’اگر مرنے والے کے بھائی ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے‘‘ یعنی حقیقی بھائی ہوں یا باپ کی طرف سے (علاتی بھائی) ہوں یا ماں کی طرف سے (اخیافی بھائی) ہوں خواہ وہ مرد ہو یا عورتیں۔۔۔ وارث بنتے ہوں یا وہ باپ یا دادا کی موجودگی میں محجوب ہوں۔مگر کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَهٗۤ اِخۡوَةٌ ﴾ کا ظاہر غیر ورثاء کو شامل نہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ محجوب کو نصف حصہ نہیں پہنچتا۔۔۔ تب اس صورت میں میت کے وارث بننے والے بھائیوں کے سوا ماں کو ایک تہائی حصہ سے کوئی بھائی محجوب نہیں کر سکتا۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ میت کے بھائیوں کی ماں کو ایک تہائی حصے سے محجوب کر دینے میں حکمت یہ ہے کہ کہیں ان کے لیے مال میں کچھ بڑھ نہ جائے حالانکہ وہ معدوم ہے۔ مگر یہاں ایک شرط عائد کی گئی ہے کہ بھائی دو یا دو سے زائد ہوں۔ البتہ اس میں اشکال یہ ہے کہ یہاں ﴿ اِخۡوَةٌ ﴾ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں جمع مقصود نہیں بلکہ مجرد تعدد (متعدد ہونا) مقصود ہے۔ اور یہ تعدد دو کے عدد پر بھی صادق آتا ہے۔ کبھی جمع کا صیغہ تو بول لیا جاتا ہے، مگر اس سے مراد دو ہوتے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور سلیمانiکے بارے میں فرمایا:﴿ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍78) ’’اور ہم ان کے فیصلے کو دیکھ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اخیافی بھائیوں کے بارے میں فرمایا ﴿ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّؔنۡهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَ كۡثَرَ مِنۡ ذٰلِكَ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾(النساء:4؍12) ’’اگر ایسے مرد یا عورت کی وراثت ہو جو کلالہ ہو یعنی جس کی اولاد ہو نہ باپ، مگر اس کے بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔‘‘ پس یہاں بھی جمع کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے مگر بالاجماع اس سے مراد دو اور دو سے زائد افراد ہیں۔اس صورت میں اگر میت اپنے پیچھے ماں، باپ اور کچھ بھائی وارث چھوڑتا ہے تو ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے اور باقی ترکے کا وارث باپ ہے پس انھوں نے ماں کو ایک تہائی حصے سے محجوب کر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ باپ نے ان کو بھی محجوب کر دیا۔ البتہ اس میں ایک دوسرا احتمال موجود ہے، جس کی رو سے ماں کے لیے ایک تہائی اور باقی ترکہ باپ کے لیے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ ﴾ یعنی میت کے ذمے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نفاذ کے بعد جو کچھ باقی بچتا ہے وہ میت کا ترکہ ہے جس کے مستحق ورثاء ہیں اور یہ وراثت قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نفاذ کے بعد فروض اور ورثاء کے حصوں میں تقسیم ہو گی اور آیت میں وصیت کو مقدم رکھا گیا ہے، باوجود اس بات کے کہ اس کا نفاذ قرض کی ادائیگی کے بعد ہو گا، اس کی وجہ وصیت کی اہمیت کو واضح کرنا ہے (تاکہ ورثاء اس کو نظرانداز نہ کریں) علاوہ ازیں وصیت کا نفاذ ورثاء پر شاق گزرتا ہے (اور وہ اس پر عمل کرنے سے بالعموم گریز کرتے ہیں) وگرنہ قرض کی ادائیگی، وصیت پر مقدم ہے اور وصیت اصل مال میں سے ہو گی۔ جہاں تک وصیت کا معاملہ ہے تو وہ صرف ایک تہائی مال یا اس سے کم میں، نیز صرف غیروارث اجنبیوں کے لیے جائز ہے اس کے علاوہ اگر وصیت کی گئی ہے تو وہ نافذ نہیں ہو گی البتہ اگر ورثاء اجازت دے دیں تو نافذ ہو سکتی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اٰبَآؤُكُمۡ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُوۡنَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعًا ﴾’’تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے اعتبار سے تمھارے زیادہ قریب ہے‘‘ یعنی اگر وراثت کے حصے تمھاری عقل اور تمھارے اختیار کے مطابق بنائے جاتے تو اس قدر نقصان پہنچتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ عقل ناقص ہے اور ہر زمان و مکان کے مطابق جو چیز زیادہ اچھی اور زیادہ لائق ہے اس کی معرفت حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ پس انسان نہیں جانتا کہ اس کی اولاد یا والدین میں سے دینی اور دنیاوی مقاصد کے حصول میں کون اس کے لیے زیادہ فائدہ مند اور اس کے زیادہ قریب ہے۔﴿ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا ہے بے شک اللہ پورے علم اور کامل حکمتوں والا ہے‘‘ یعنی وراثت کے ان حصوں کو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اس نے جو شریعت بنائی ہے اسے محکم کیا ہے اور اس نے جو چیز مقدر کی ہے اسے بہترین اندازے کے ساتھ مقدر کیا ہے۔ عقل ان جیسے احکام وضع کرنے سے قاصر ہے جو ہر حال اور ہر زمان و مکان کے موافق اور نفاذ کی صلاحیت رکھتے ہوں۔شوہر اور بیویوں کے لیے وراثت کے احکام:
[12] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَكُمۡ ﴾ یعنی اے شوہرو! ﴿ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّؔا تَرَؔكۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ١ؕ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّؔا تَرَؔكۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَؔكُنۡ لَّـكُمۡ وَلَدٌ١ۚ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّؔا تَرَؔكۡتُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوۡصُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ ﴾ ’’اور جو کچھ تمھاری بیویاں (ترکے میں) چھوڑ جائیں اس میں سے نصف کے تم حق دار ہو بشرطیکہ ان سے اولاد نہ ہو۔ اگر ان کے اولاد ہے تو تمھیں جو کچھ وہ چھوڑ جائیں اس کا چوتھائی ملے گا (یہ تقسیم) مرنے والی کی وصیت کی تعمیل اور اس کے قرضے کی (ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے) اور ان کے لیے جو کچھ تم چھوڑ جاؤ اس کا چوتھائی حصہ ہے بشرطیکہ تمھاری اولاد نہ ہو اور اگر تمھاری اولاد ہو تو ان کے لیے تمھارے ترکے کا آٹھواں حصہ ہوگا (یہ تقسیم) تمھاری وصیت کی تکمیل یا قرضے (کی ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے)‘‘ اولاد کے مسمیٰ کے زمرے میں جس کے وجود اور عدم وجود کو میاں بیوی کی وراثت میں شرط بنایا گیا ہے، صلبی اولاد یا بیٹے کی اولاد لڑکے یا لڑکیاں خواہ ایک ہو یا متعدد جو اس شوہر یا بیوی سے ہوں یا کسی اور سے، شمار ہوتی ہیں اس میں بیٹیوں کی اولاد شامل نہیں اور اس پر اجماع ہے۔(کلالہ)کا معنی اور اس کے احکام:﴿ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ ﴾ ’’اور اگر کوئی مرد یا عورت ہو (جو ترکہ چھوڑ جائے) اور اس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا اور بھائی یا بہن ہو‘‘ اس سے مراد اخیافی (ماں شریک)بہن بھائی ہیں جیسا کہ بعض قراء ت میں بھی وارد ہے۔ اور فقہاء کا اجماع ہے کہ یہاں بہن بھائی سے مراد اخیافی بہن بھائی ہیں۔ اگر میت کلالہ ہے۔ یعنی میت کا باپ ہے نہ بیٹا، یعنی باپ ہے نہ دادا، بیٹا ہے نہ پوتا، بیٹی ہے نہ پوتی۔۔۔۔ خواہ نیچے تک چلے جائیں۔۔۔۔ ایسی میت کو کلالہ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقtنے اس کی تفسیر بیان کی ہے اور اسی مفہوم پر اجماع واقع ہو گیا۔ وَلِلہِ الْحَمْدُ!﴿ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّؔنۡهُمَا ﴾ یعنی بھائی اور بہن دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ السُّدُسُ ﴾ چھٹا حصہ ہے ﴿ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَكۡثَرَ مِنۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اگر وہ ایک سے زائد ہوں ﴿ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ یعنی ایک تہائی میں سب شریک ہیں اور ایک تہائی سے زیادہ نہیں ملے گا خواہ ان کی تعداد دو سے بڑھ جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں مرد اور عورتیں سب برابر ہیں کیونکہ لفظ ’’شریک‘‘ مساوات کا تقاضا کرتا ہے۔ (یعنی اس صورت میں مرد کو عورت سے دگنا حصہ نہیں، بلکہ برابر کا حصہ ملے گا)لفظ ’’کلالہ‘‘ دلالت کرتا ہے کہ فروع نیچے تک اور اصول مرد اوپر تک خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ جائیں، وہ ماں کی اولاد کو ساقط کر دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اخیافی بہن بھائیوں کو صرف کلالہ کی صورت میں وارث بنایا ہے اور اگر وہ کلالہ کی صورت میں وارث نہیں بنتے تو وہ کسی اور صورت میں میت کے وارث نہیں بن سکتے۔ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ ’’مسئلہ حماریہ‘‘ کے مطابق حقیقی بھائی ساقط ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ یعنی اگر میت کا شوہر، ماں اور حقیقی بھائی بھی ہوں تو شوہر کے لیے نصف ترکہ، ماں کے لیے چھٹا حصہ اور اخیافی بھائیوں کے لیے ایک تہائی حصہ ہے اور حقیقی بھائی ساقط ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی ترکہ کو اخیافی بھائیوں کی طرف مضاف کیا ہے اگر اس ترکہ میں حقیقی بھائیوں کو شریک کر لیا جائے تو یہ اس چیز کو جمع کرنا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تفریق کی ہے۔ نیز اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اخیافی بھائی اصحاب فروض ہیں اور حقیقی بھائی عصبہ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺنے فرمایا ’’میراث کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔‘‘(صحیح البخاری، الفرائض، حديث:6732، وصحیح مسلم، الفرائض، حديث:1615) اور اصحاب فروض وہ لوگ ہیں جن کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے۔زیر بحث کلالہ کے مسئلہ میں اصحاب فروض کو دینے کے بعد کچھ باقی نہیں بچتا اس لیے حقیقی بھائی ساقط ہو جائیں گے اور یہی صحیح موقف ہے۔ رہی حقیقی بھائیوں اور بہنوں کی وراثت یا باپ کی طرف سے بھائیوں اور بہنوں کی وراثت، تو یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يَسۡتَفۡتُوۡنَكَ۠١ؕ قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِي الۡكَلٰلَةِ ﴾(النساء:4؍176) میں مذکور ہے۔ پس ایک حقیقی یا باپ کی طرف سے بہن کے لیے نصف ترکہ ہے۔ اگر دو ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ترکہ ہے۔اگر کلالہ کی ایک حقیقی بہن، ایک یا زائد باپ کی طرف سے بہنیں ہوں تو ترکہ کا نصف حصہ حقیقی بہن کو ملے گا اور دو تہائی میں سے باقی جو کہ چھٹا حصہ بنتا ہے دو تہائی کی تکمیل کے لیے باپ کی طرف سے بہن یا بہنوں کو ملے گا۔ اگر حقیقی بہنیں دو تہائی حصہ لے لیں تو باپ کی طرف سے بہنیں ساقط ہو جائیں گی جیسا کہ بیٹیوں اور پوتیوں کے بارے میں گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اگر بھائی اور بہنیں وارث ہوں تو ایک بھائی کو دو بہنوں کے مساوی حصہ ملے گا۔قاتل اور مختلف دین رکھنے والے کے لیے وراثت:اگر یہ کہا جائے کہ آیا قرآن کریم سے قاتل، غلام، غیر مسلم، جزوی غلام، مخنث، باپ کی طرف سے بھائیوں کی معیت میں دادا، عول، رد، ذوالارحام، بقیہ عصبہ، بیٹیوں کی معیت میں باپ شریک بہنوں یا پوتیوں کی وراثت مستفاد ہوتی ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس بارے میں بعض دقیق اشارے اور تنبیہات موجود ہیں، گہرے غور و فکر کے بغیر ان اشارات کو سمجھنا مشکل ہے۔رہا قاتل اور مخالف دین یعنی غیر مسلم، تو یہ بات معروف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مال کو ورثاء میں ان کے میت سے قرب اور دینی اور دنیاوی فوائد کے اعتبار سے تقسیم کرنے کی جو حکمت بیان کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وارث نہیں بن سکتے… اللہ تعالیٰ نے اپنی اس حکمت بالغہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے ﴿ لَا تَدۡرُوۡنَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعًا ﴾(النساء : 4؍11) ’’تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے اعتبار سے تمھارے زیادہ قریب ہے۔‘‘یہ بات معلوم اور واضح ہے کہ قاتل نے اپنے مورث کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے لہٰذا وہ امر جو اس کے لیے وراثت کا موجب ہے، قتل کے ضرر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ قتل اس نفع کی ضد ہے جس پر وراثت مرتب ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قتل سب سے بڑا مانع ہے جو میراث کے حصول سے روکتا ہے اور قطع رحمی کا باعث بنتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾(الانفال:8؍75) ’’اور رشتہ دار اللہ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ نیز ایک شرعی قاعدہ مشہور ہے کہ ’’جو کوئی وقت سے پہلے کوئی چیز حاصل کرنے میں جلدی کرتا ہے اسے اس چیز سے محرومی کی سزا دی جاتی ہے۔‘‘مندرجہ بالا توضیح سے واضح ہوتا ہے کہ اگر وارث، مورث کے دین سے مختلف دین رکھتا ہے تو وہ وراثت سے محروم ہے۔ وراثت کا موجب، جو کہ نسب کا اتصال ہے اور وراثت کا مانع جو کہ اختلاف دین ہے اور اختلاف دین ہر لحاظ سے وارث کو مورث سے علیحدہ کر دیتا ہے۔ پس موجب اور مانع میں تعارض ہے۔ مانع زیادہ قوی ہے اور موجب وراثت کو روک دیتا ہے۔ بنا بریں مانع کے ہوتے ہوئے موجب پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اس اصول کی وضاحت اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حقوق کو کفار رشتہ داروں کے حقوق پر اولیت دی ہے۔ اس لیے جب مسلمان وفات پا جاتا ہے تو اس کا مال اس شخص کی طرف منتقل ہو گا جو اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ تو اسی صورت میں صادق آئے گا جب وارث اور مورث کا دین ایک ہو۔وارث اور مورث کے دین میں تباین اور اختلاف کی صورت میں دینی اخوت مجرد نسبی اخوت پر مقدم ہے۔ علامہ ابن القیمa جلاء الافھام میں رقمطراز ہیں ’’اس لفظ کے معنیٰ پر مواریث کی آیت میں غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان توارث کو ’’عورت‘‘ کی بجائے ’’زوجہ‘‘ کے لفظ کے ساتھ معلق کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے ﴿ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ ﴾ اس میں اس بات کی تعلیم ہے کہ یہ توارث اس زوجیت کی بنا پر واقع ہوا ہے جو کامل مشابہت اور تناسب کا تقاضا کرتی ہے۔ مومن اور کافر کے مابین کوئی مشابہت اور کوئی تناسب نہیں ہوتا اس لیے ان کے مابین توارث واقع نہیں ہو سکتا قرآن کریم کے مفردات اور مرکبات کے اسرار نہاں اس سے بہت بلند ہیں کہ عقل مندوں کی عقل اس کا احاطہ کر سکے۔۔۔‘‘غلاموں کے لیے وراثت کے احکام:جہاں تک غلام کا معاملہ ہے تو نہ وہ خودکسی کا وارث بن سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا وارث بن سکتا ہے۔۔۔ رہا یہ معاملہ کہ کوئی اس کا وارث نہیں بن سکتا تو یہ بالکل واضح ہے کیونکہ اس کا کوئی مال ہی نہیں جس کا کوئی وارث ٹھہرے، بلکہ اس کے برعکس اس کا تمام مال اس کے آقا کی ملکیت ہے رہی یہ بات کہ وہ وارث بھی نہیں ہو سکتا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اگر اس کے ہاتھ میں کوئی چیز آتی بھی ہے تو وہ اس کے مالک کی ملکیت ہوتی ہے۔ پس وہ میت کے لیے اجنبی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس قسم کے ارشادات:﴿ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ ﴾ ، ﴿ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾اور ﴿لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ ﴾ وغیرہ اس کے لیے ہے جو ملکیت کا اثبات کر سکتا ہو اور غلام کے لیے چونکہ ملکیت کا اثبات ممکن نہیں، اس لیے معلوم ہوا کہ وہ میراث کا حق دار نہیں۔رہا وہ شخص جو جزوی طور پر آزاد اور جزوی طور پر غلام ہو تو اس کے احکام میں بھی تبعیض ہوگی۔ پس اس میں جو آزادی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے اللہ نے وراثت کا جو حق مترتب کیا ہے، اس کا وہ مستحق ہو گا، کیونکہ آزادی کی وجہ سے وہ مالک بننے کے قابل ہے اور اس میں جو غلامی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے وہ اس کے قابل نہیں۔ تب اس صورت میں یہ جزوی طور پر آزاد ہے۔ وراثت میں حصہ لے گا اور خود اس کی میراث بھی اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگی اور اپنی آزادی کی مقدار کے مطابق دوسروں کو وراثت سے محجوب کرے گا اور جب غلام، قابل تعریف اور قابل مذمت، ثواب کا حق دار اور عذاب کا حق دار، ان موجبات کی مقدار کے مطابق ہو سکتا ہے جو اسے ان امور کا مستحق بناتی ہیں تو یہ معاملہ بھی اسی طرح ہے۔مخنث کے لیے وراثت کے احکام:مخنث کا معاملہ تین امور سے خالی نہیں ہوتا:مخنث کی ذکوریت واضح ہوتی ہے (یعنی اس میں مرد کی علامتیں پائی جاتی ہیں) یا اس کی انوثیت واضح ہوتی ہے۔ (اس میں عورت کی علامتیں غالب ہوتی ہیں) یا اس کا مذکر ہونا یا مونث ہونا واضح نہیں ہوتا تب اس کو ’’مشکل‘‘ کہتے ہیں۔اگر مخنث کا معاملہ واضح ہے تو اس کی وراثت کا مسئلہ بھی واضح ہے۔ چنانچہ اگر اس میں مرد کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر اس نص کا اطلاق ہو گا جو مردوں کے بارے میں وارد ہوئی ہے اور اگر اس میں عورت کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر عورتوں کے احکام کا اطلاق ہو گا۔ اگر وہ مشکل ہے تو اگر وہ مرد اور عورت ہیں جن کا حصہ وراثت مختلف نہیں۔ (بلکہ یکساں ہے) جیسے اخیافی بہن بھائیوں کا معاملہ ہے تو اس میں معاملہ بالکل واضح ہے۔اور اگر اس کو مرد مقدر کرتے ہوئے یا عورت مقدر کرتے ہوئے اس کا حصہ وراثت مختلف ہو اور ہمارے پاس اس کے بارے میں تیقن کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔ تو ہم اسے وہ حصہ نہ دیں گے جو دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ بنتا ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں پر ظلم کا احتمال ہے جو اس کی معیت میں وراثت کے حق دار ہیں اور نہ ہم اسے کم ترین حصہ دیں گے کیونکہ اس صورت میں خود اس پر ظلم کا احتمال ہے۔ پس ان کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِعۡدِلُوۡا١۫ هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى ﴾(المائدہ : 5؍8) ’’عدل کیا کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘اس قسم کی صورتحال میں ہمارے پاس اس سے زیادہ کوئی عدل کا راستہ نہیں جس کا گزشتہ سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾(البقرۃ : 2؍286) ’’اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن:64؍16) ’’پس جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو۔‘‘دادا کے لیے وراثت کے احکامرہا حقیقی بھائیوں یا باپ شریک (علاتی) بھائیوں کی موجودگی میں میت کے دادا کے لیے وراثت کا مسئلہ کہ آیا مذکورہ بھائی دادا کی معیت میں وراثت میں سے حصہ لیں گے یا نہیں ۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب حضرت ابوبکر صدیقtکے اس فتویٰ کی تائید کرتی ہے کہ دادا بھائیوں کو محجوب کر دے گا، چاہے وہ حقیقی بھائی ہوں یا علاتی (باپ شریک) یا اخیافی (ماں شریک) ہوں۔ جیسے باپ ان سب کو محجوب کر دیتا ہے۔اس کی توضیح یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک سے زائد مقامات پر دادا کو باپ کہا گیا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ١ۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِيۡهِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ١ؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ ﴾(البقرۃ:2؍133) ’’جب یعقوب وفات پانے لگے تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انھوں نے جواب دیا تیرے معبود اور تیرے آباء ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفuکا قول نقل فرمایا:﴿ وَاتَّبَعۡتُ مِلَّةَ اٰبَآءِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾(یوسف:12؍38) ’’میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی ملت کی پیروی کی ہے۔‘‘پس اللہ تعالیٰ نے دادا اور باپ کے دادا کو ’’باپ‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دادا باپ کے مقام پر ہوتا ہے اور وراثت میں اس کا وہی حصہ ہے جو باپ کا حصہ ہے جس کو باپ محجوب کرتا ہے اس کو دادا بھی محجوب کرے گا(یعنی باپ کی عدم موجودگی میں)اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ میت کے باپ کی عدم موجودگی میں میت کی میراث میں میت کی اولاد وغیرہ کی معیت میں اس کے بھائیوں، چچاؤں اور چچاؤں کے بیٹوں کے ہوتے ہوئے دادا کا وہی حکم ہے جو باپ کا حکم ہے۔۔۔۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اخیافی بھائیوں کے علاوہ دوسرے بھائیوں کو محجوب کرنے میں بھی دادا کا وہی حکم ہو جو باپ کا حکم ہے اور جب بیٹے کا بیٹا صلبی بیٹے کی مانند ہے تو دادا باپ کے مقام پر کیوں نہیں ہو سکتا اور جب باپ کا دادا میت کے بھتیجے کی موجودگی میں، اہل علم کے اجماع کے مطابق، بھتیجے کو محجوب کر دے گا۔ تو پھر میت کا دادا میت کے بھائی کو کیوں محجوب نہیں کر سکتا؟ لہٰذا جو دادا کی معیت میں بھائیوں کو وارث قرار دیتا ہے اس کے پاس کوئی نص ہے نہ اشارہ نہ تنبیہ اور نہ قیاس صحیح۔عول اور اس کے احکامعول کے مسائل کے احکام قرآن مجید سے مستفاد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب مواریث کے لیے حصے مقرر کر دیے ہیں اور ان کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔وہ ایک دوسرے کو محجوب کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ اگر وہ ایک دوسرے کو محجوب کرتے ہیں تو وراثت میں محجوب ساقط ہو جاتا ہے اور وہ کسی چیز کا مستحق نہیں رہتا۔ اگر وہ ایک دوسرے کو محجوب نہیں کرتے تو وہ مندرجہ ذیل دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہ ترکہ کے تمام حصے کے وارث نہیں بنتے۔ (یعنی ورثاء کو ان کے شرعی حصے دینے کے بعد بھی ترکہ بچ جاتا ہے)یا وہ ترکہ کے تمام حصوں کے وارث اس طرح بنتے ہیں کہ یہ مقرر کردہ حصے مجموعی طور پر نہ تو ترکہ سے کم ہوتے ہیں اور نہ زیادہ۔ یا مقرر کردہ حصے ترکہ سے بڑھ جاتے ہیں۔پہلی دو صورتوں میں ہر وارث اپنا پورا حصہ حاصل کرتا ہے مگر آخری صورت میں جب حصے ترکہ سے بڑھ جائیں تویہ بھی دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو ہم بعض ورثاء کا وہ حصہ کم کر دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے اور ان میں سے باقی ورثاء کا حصہ پورا پورا عطا کرتے ہیں۔ یہ ترجیح بلادلیل ہے ان میں سے کوئی ایک نقصان اٹھانے کا کسی دوسرے سے زیادہ مستحق نہیں۔پس دوسری صورت کا یوں تعین ہوتا ہے کہ ہم امکانی حد تک ہر وارث کو اس کا پورا حصہ ادا کرتے ہیں اور موجود ترکہ کو ان کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کر دیتے ہیں جیسے مقروض کے اس مال کو قرض خواہوں کے مابین تقسیم کیا جاتا ہے جو قرض خواہوں کے مطالبے سے کم ہوتا ہے۔ اب اس مال کو عول کے اصول کو استعمال کیے بغیر تقسیم کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم فرائض (وراثت) میں عول کا مسئلہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیا ہے۔رد اور اس کے احکامعول کے اس طریقے کے بالکل برعکس رد کا اصول معلوم ہوا، اس لیے کہ جب اصحاب فروض میں ترکہ کو تقسیم کرنے کے بعد ترکہ میں سے کچھ بچ جائے۔ اور اس کا کوئی حق دار نہ ہو اور قریب یا دور میت کا عصبہ بھی نہ ہو۔ اگر یہ بچا ہوا ترکہ کسی ایک کو عطا کر دیں تو یہ بلادلیل ترجیح ہے۔ اور یہ بچا ہوا کسی ایسے شخص کو دے دینا جو میت کا قریبی نہیں ہے تو یہ گناہ، کج روی اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مخالفت ہے ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾(الانفال:8؍75) ’’اور رشتہ دار اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ پس یہ بات متحقق ہو گئی کہ بچا ہوا ترکہ اصحاب فروض کو ان کے حصے کے مطابق واپس لوٹا دینا چاہیے۔زوجین کی طرف رد کے احکامان فقہاء کے نزدیک جو بچے ہوئے ترکے کو زوجین کی طرف لوٹانے کے قائل نہیں، ان کے مسلک کے مطابق زوجین اپنے مقررہ حصے سے زیادہ لینے کے مستحق نہیں، کیونکہ ان کے درمیان نسبی قرابت نہیں ہوتی۔ مگر صحیح مسلک یہ ہے کہ رد کے ضمن میں زوجین کا حکم بھی وہی ہے جو باقی ورثاء کا ہے۔ مذکورہ بالا دلیل سب کو اسی طرح شامل ہے جس طرح اصول عول میں سب شامل ہیں۔میراث میں ذوی الارحام کا حکماس کے ذریعے سے ذوی الارحام کی وراثت بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اگر میت کے پیچھے کوئی ایسا شخص نہ بچے جو اصحاب فروض (جن کے حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں) یا عصبہ (میت کا قریب ترین رشتے دار) میں شمار ہوتا ہو تو میراث کا معاملہ دو امور کے مابین گھومتا ہے۔ ترکہ کا مال بیت المال میں جمع ہو جس سے اجنبی لوگ استفادہ کریں یا ترکہ میت کے ان اقارب کی طرف لوٹ جائے جو ورثاء کے متفق علیہ قریبی ہیں۔ ان دونوں میں سے دوسرا مسلک متعین ہے اور اس کی صحت پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾(الانفال:8؍75)اس لیے میراث کو اولو الارحام کے علاوہ کسی اور طرف پھیرنا اس شخص کو محروم کرنا ہے جو دوسروں سے زیادہ اس کا مستحق ہے۔ پس ذوی الارحام کو وارث بنانا متعین ہو گیا اور جب ان کو وارث بنانا متعین ہو گیا تو یہ معلوم ہو گیا کہ کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے حصے مقرر نہیں فرمائے۔ نیز یہ کہ ان کے اور میت کے درمیان کچھ واسطے ہیں جن کے سبب سے وہ میت کے رشتہ دار بنے پس ان کو اسی مقام پر رکھا جائے گا جس کے ذریعے سے وہ میت کے قریبی بنتے ہیں۔ واللہ اعلم۔میت کا عصبہ کون ہے؟ اور میراث میں اس کا حکمرہی باقی عصبہ کی وراثت جیسے بیٹے، بھائی، بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، تو ان کے بارے میں رسول اللہﷺنے فرمایا: ’الحقوا الفرائض باھلھا، فمابقی فلاولیٰ رجل ذکر‘ (صحیح البخاری، الفرائض، باب میراث ابن الابن اذا لم يکن ابن، حديث: 6735 و صحیح مسلم، الفرائض، باب الحقوا الفرائض بأھلھا......، حديث: 1615)’’وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دے دو جو بچ جائے اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔‘‘اور فرمایا: ﴿ وَلِكُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِيَ مِمَّؔا تَرَكَ الۡوَالِدٰؔنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ﴾(النساء : 4؍33) ’’جو مال ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر مر جاتے ہیں ہم نے ہر ایک کے حق دار مقرر کر دیے ہیں۔‘‘ جب ہم اصحاب فروض کو ان کے مقررہ حصے عطا کر دیں اور کچھ باقی نہ بچے تو عصبہ کسی چیز کا حق دار نہیں ہوتا اور اگر ترکہ میں سے کچھ باقی بچ جائے تو عصبہ میں سے جو سب سے زیادہ مستحق ہیں وہ اپنی جہات اور درجات کے مطابق حصہ لیں گے۔عصبہ کی جہاتعصبہ کی پانچ جہات ہیں: بیٹے، باپ، بھائی اور بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، پھر ولاء۔ ان میں سے اس کو مقدم رکھا جائے گا جو جہت کے اعتبار سے سب سے قریب ہے۔ اگر تمام ایک ہی جہت میں واقع ہوں تو ان میں وہ زیادہ مستحق ہے جو منزلت کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے۔ اگر منزلت کے اعتبار سے سب برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ قوی ہے وہ زیادہ مستحق ہے اور وہ حقیقی بھائی ہے۔ اگر ہر پہلو سے برابر ہوں تو سب عصبہ میں شریک ہوں گے، اللہ اعلم۔رہا باپ شریک بہنوں کا بیٹیوں کی معیت یا بھتیجیوں کی معیت میں عصبہ ہونا اور ان کا ترکہ میں سے اپنے حصوں سے زائد لینا ۔۔۔۔ تو قرآن مجید میں ایسی کوئی چیز نہیں جو یہ دلالت کرتی ہو کہ بہنیں بیٹیوں کی وجہ سے ساقط ہو جائیں گی۔ جب صورتحال یہ ہو اور بیٹیوں کے اپنا حصہ لینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ بہنوں کو دیا جائے گا اور ان کو چھوڑ کر اس عصبہ کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی جو ان سے بعید تر ہے۔ مثلاً بھتیجا اور چچا اور وہ لوگ جو ان سے بھی بعید تر ہیں۔ واللہ اعلم۔