Tafsir As-Saadi
4:15 - 4:16

اور وہ جو کریں بے حیائی کا کام تمھاری عورتوں میں سے تو گواہ ٹھہرا لو تم ان پر چار مرد اپنے میں سے۔ پس اگر وہ گواہی دیں تو بند رکھو ان کو گھروں میں یہاں تک کہ ختم کر دے ان کو موت یا بنا دے اللہ ان کے لیے کوئی راستہ(15) اور وہ دو مردجو کریں یہی بے حیائی کا کام تم میں سے تو ایذا دو ان کو، پس اگر وہ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو درگزر کرو ان سے، بلاشبہ اللہ ہے بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان(16)

[15] یعنی عورتیں ﴿ وَالّٰتِيۡ يَاۡتِيۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’جو زنا کا ارتکاب کرتی ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ نے زنا کو اس کی قباحت اور برائی کی وجہ سے فاحشہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ ﴿ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا۠ عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’اپنے میں سے چار اہل ایمان عادل مردوں کو گواہ بنا لو‘‘ ﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ فِي الۡبُيُوۡتِ ﴾ ’’اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں محبوس کر دو‘‘ اور باہر جانے سے روک دو جو شک و شبہ کا موجب ہے۔ نیز گھر میں محبوس کر دینا ایک قسم کی سزا بھی ہے ﴿حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے‘‘ یعنی یہ محبوس رکھنے کی انتہا ہے ﴿ اَوۡ يَجۡعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيۡلًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں گھروں میں محبوس کرنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ مقرر فرما دے۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں بلکہ یہ تو اس وقت تک کے لیے غایت مقرر ہے (جب تک اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی اور راستہ نہیں نکال دیتا) اسلام کی ابتدا میں یہی طریقہ رائج رہا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا متبادل حکم نازل نہیں فرما دیا۔ اور وہ ہے شادی شدہ زانی اور زانیہ کو رجم کرنا اور غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگانا۔
[16] اور اسی طرح ﴿ وَالَّذٰنِ يَاۡتِيٰؔنِهَا مِنۡكُمۡ ﴾ تمھارے مردوں اور عورتوں میں سے جو کوئی اس فحش کام کا ارتکاب کرتا ہے ﴿ فَاٰذُوۡهُمَا ﴾ پس انھیں زبانی طور پر زجر و توبیخ اور ملامت کرو اور اس برے کام پر عار دلاؤ اور ان کو عبرت ناک مارپیٹ کی سزا دو، جس سے یہ اس فحش کام سے رک جائیں۔ تب اس صورت میں مردوں کو اس فحش کام کے ارتکاب پر مار پیٹ کی سزا دی جائے اور عورتوں کو گھروں میں محبوس رکھ کر سزا دی جائے۔پس حبس (گھر میں بند کر دینا) کی انتہا، موت ہے اور مار پیٹ کی اذیت کی انتہا، توبہ اور اصلاح ہے بنا بریں فرمایا ﴿ فَاِنۡ تَابَا ﴾ یعنی اگر وہ اپنے اس گناہ سے رجوع کر لیں جس کا انھوں نے ارتکاب کیا اس فعل پر نادم ہوں اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم کریں ﴿ وَاَصۡلَحَا ﴾ یعنی اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں جو ان کی سچی توبہ پر دلالت کرے ﴿ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمَا ﴾ تو ان کو اذیت پہنچانے سے گریز کرو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا ﴾ یعنی وہ خطاکار گناہ گاروں کی توبہ کو بہت کثرت سے قبول کرتا ہے، وہ عظیم رحمت و احسان کا مالک ہے۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے انھیں توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان سے صادر ہونے والے گناہوں کے بارے میں ان سے نرمی اختیار کی۔ان دو آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ زنا کی شہادت میں چار مومن مردوں کی گواہی ضروری ہے اور ان کی عدالت کی شرط عائد کرنا بطریق اولیٰ ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس فحش کام کے بارے میں بہت سختی کی ہے تاکہ اس سے بندوں کی پردہ پوشی رہے۔ یہاں تک کہ اس بارے میں عورتوں کی شہادت، خواہ وہ اکیلی ہو یا مردوں کی معیت میں، ناقابل قبول ٹھہرایا ہے اور چار مردوں سے کم کی گواہی بھی قبول نہیں کی نیز اس میں صراحت کے ساتھ شہادت کو لازم قرار دیا ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور یہ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے ﴿ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا۠ عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّؔنۡكُمۡ ﴾ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا: ﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا ﴾ یعنی ایک ایسے معاملے میں اشارہ کنایہ کے بغیر صریح شہادت لازم ہے جسے آنکھوں سے مشاہدہ کیا گیا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قول و فعل سے اذیت پہنچانا اور قید کر دینا، اس کو اللہ نے معصیت کاری کے لیے تعزیر بنایا جس سے زجروتوبیخ کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔