اگر بچو گے تم ان بڑے گناہوں سے کہ روکے جاتے ہو تم ان سے تو دور کر دیں گے ہم تم سے تمھاری برائیاں اور داخل کریں گے تمھیں جگہ میں عزت کی(31)
[31] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر وہ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کریں گے تو وہ ان کے تمام گناہ اور برائیاں بخش دے گا اور انھیں اچھا ٹھکانا عطا کرے گا جہاں خیر کثیر ہو گا اور وہ ہے جنت جو ایسی نعمتوں پر مشتمل ہے جو کسی آنکھ نے کبھی دیکھی نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی بشر کے حاشیہ خیال میں ان کا گزر ہوا ہے۔ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب میں ان فرائض کا بجا لانا بھی شامل ہے جن کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ نماز پنجگانہ، نماز جمعہ، رمضان کے روزے رکھنا وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا ’’نماز پنجگانہ، اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان کے مابین جو گناہ سرزد ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو مٹا دیتا ہے بشرطیکہ کبائر سے بچتے رہیں۔‘‘(صحیح مسلم، الصلوٰۃ، باب الصلوات الخمس ......الخ، حديث:552)گناہ کبیرہ کی بہترین تعریف یہ ہے : گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جو دنیا میں حد کا موجب ہو یا آخرت میں اس پر سخت وعید آئی ہو یا اس کے مرتکب کے ایمان کی نفی یا اس پر لعنت کی گئی ہو یا اس گناہ پر سخت غصے کا اظہار کیا گیا ہو۔