اور عبادت کرو تم اللہ کی اور نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو اور (کرو) ماں باپ کے ساتھ احسان اور رشتے داروں کے ساتھ اور یتیموں (کے ساتھ) اور مسکینوں (کے ساتھ) اور پڑوسی قرابت دار اور پڑوسی اجنبی (کے ساتھ) اور ہم نشیں (کے ساتھ) اور مسافر کے ساتھ اور (ان کے ساتھ) جن کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہے اترانے والا فخر کرنے والا(36) وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کرنے کا اور چھپاتے ہیں وہ جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کیا ہم نے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا(37) اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں مال اپنے دکھلاوے کے لیے لوگوں کو اور نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اللہ کے اور نہ ساتھ یوم آخرت کے اور جو شخص کہ ہو شیطان اس کا ہم نشیں تو برا ہے وہ ہم نشیں(38)
[37,36] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لا شریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامر و نواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے جس میں اس کا کوئی شریک ہے نہ معاون اور مددگار۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اپنے حقوق کے قیام کا حکم دینے کے بعد حقوق العباد کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے (حقوق العباد کے مراتب میں اصول یہ قائم فرمایا ہے) جو سب سے زیادہ قریب ہے اس کے سب سے زیادہ حقوق ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو‘‘ یعنی ان کے ساتھ احسان کرو ان سے اچھی گفتگو، ان کے ساتھ تخاطب میں نرمی اور فعل جمیل کر کے ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے ممنوعہ امور سے اجتناب اور ان کی ضروریات پر خرچ کر کے، ان کے دوستوں اور دیگر متعلقین کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کر کے اور ان رشتے داریوں کو قائم اور ان کے حقوق ادا کر کے، جن سے صرف والدین کی وجہ سے رشتے داری ہے۔احسان (یعنی حسن سلوک) کی دو اضداد ہیں، برا سلوک اور عدم احسان (حسن سلوک نہ کرنا) اور ان دونوں سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَّبِذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’او رقرابت والوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی دیگر اقرباء کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔یہ آیت کریمہ تمام اقارب کو شامل ہے۔ خواہ وہ زیادہ قریبی ہوں یا قدرے دور کے رشتہ دار ہوں۔ ان کے ساتھ قول و فعل کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آئے اور اپنے قول و فعل سے ان کے ساتھ قطع رحمی نہ کرے۔ ﴿ وَالۡيَتٰمٰى ﴾ ’’اور یتیموں کے ساتھ‘‘ یعنی وہ چھوٹے بچے جو اپنے باپ سے محروم ہو گئے ہوں تمام مسلمانوں پر ان کا حق ہے۔۔۔ خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔۔۔ کہ وہ ان کی کفالت کریں ان کے ساتھ نیک سلوک کریں، ان کی دلجوئی کریں، ان کو ادب سکھائیں اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی بہترین تربیت کریں۔ ﴿ وَالۡمَسٰكِيۡنِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کو فقر و حاجت نے بے حرکت اور عاجز کر دیا ہو ،جنھیں اتنی ضروریات زندگی حاصل نہ ہوں جو ان کو کفایت کر سکیں اور نہ ان کو جن کے یہ کفیل ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو ضروریات زندگی مہیا کی جائیں ان کا فقر و فاقہ دور کیا جائے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی جائے اور حتی الامکان ان امور کا انتظام کیا جائے۔ ﴿ وَالۡجَارِ ذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’اور رشتہ دار ہمسایوں کے ساتھ‘‘ یعنی رشتہ دار پڑوسی، اس کے دو حقوق ہیں۔ پڑوس کا حق اور قرابت کا حق۔ پس وہ اپنے پڑوسی پر حق رکھتا ہے اور اس کے حسن سلوک کا مستحق ہے۔ یہ سب عرف کی طرف راجع ہے۔اسی طرح ﴿ وَالۡجَارِ الۡجُنُبِ ﴾’’اور اجنبی ہمسایوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ پڑوسی جو قریبی نہ ہو۔ پڑوسی کا دروازہ جتنا زیادہ قریب ہو گا اس کا حق اتنا ہی زیادہ مؤکد ہو گا۔ پڑوسی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ہدیہ اور صدقہ دیتا رہے، اس کو دعوت پر بلاتا رہے اور اقوال و افعال میں نرمی اور ملاطفت سے پیش آیا کرے اور قول و فعل سے اس کو اذیت دینے سے باز رہے۔﴿ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَنۢۡبِ ﴾’’پہلو کے ساتھی سے حسن سلوک کرو‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد شریک سفر ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد بیوی ہے اور بعض اہل علم اس کا اطلاق مطلق ساتھی پر کرتے ہیں اور یہی زیادہ قرین صحت ہے۔ کیونکہ یہ لفظ اس کو شامل ہے جو سفر و حضر میں ساتھ رہے اور یہ لفظ بیوی کو بھی شامل ہے۔ ساتھی پر ساتھی کا حق ہے جو اس کے مجرد اسلام سے زائد ہے یعنی دینی اور دنیاوی امور میں اس کی مدد کرنا، اس کی خیر خواہی کرنا، آسانی اور تنگی، خوشی اور غمی میں اس کے ساتھ وفا کرنا۔ جو اپنے لیے پسند کرنا اس کے لیے بھی وہی پسند کرنا، اور جو اپنے لیے ناپسند کرنا وہ اس کے لیے بھی ناپسند کرنا، صحبت جتنی زیادہ ہو گی، یہ حق اتنا ہی زیادہ، اور مؤکد ہو گا۔﴿ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ﴾ وہ غریب الوطن شخص جو دور اجنبی شہر میں ہو، وہ خواہ محتاج ہویا نہ ہو، اس کی شدت احتیاج اور وطن سے دور ہونے کی وجہ سے مسلمانوں پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے نہایت انس و اکرام کے ساتھ اس کے مقصد تک پہنچائیں۔ ﴿ وَمَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ﴾ ’’اور جن کے تمھارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے‘‘ یعنی آپ کی ملکیت میں آدمی ہوں یا بہائم ان کی ضروریات کا انتظام رکھنا، ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا، بوجھ اٹھانے میں ان کی مدد کرنا ان کی مصلحت اور بھلائی کی خاطر ان کی تادیب کرنا ان کا آپ پر حق ہے۔ پس جو ان احکامات کی تعمیل کرتا ہے وہ اپنے رب کے سامنے جھکنے والا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ انکساری سے پیش آنے والا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور اس کی شریعت کی پیروی کرتا ہے۔ یہی شخص ثواب جزیل (بہت زیادہ ثواب) اور ثنائے جمیل کا مستحق ہے اور جو ان احکامات پر عمل نہیں کرتا وہ اپنے رب سے روگردان، اس کے اوامر کا نافرمان اور مخلوق کے لیے غیر متواضع ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنے والا ، خود پسند اور بے حد فخر کرنے والا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا ﴾ ’’یقینا اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ خود پسند ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تکبر سے پیش آتا ہے ﴿ فَخُوۡرَاِۨ ﴾ ’’اپنی بڑائی بیان کرنے والا ہے‘‘ وہ لوگوں کے سامنے فخر اور گھمنڈ کے ساتھ اپنی تعریفیں کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا فخر اور تکبر ان حقوق کو ادا کرنے سے مانع رہتا ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ بخل کرتے ہیں‘‘ یعنی جو حقوق واجب ہیں ان کو ادا نہیں کرتے ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’اور وہ لوگوں کو بخیلی کا حکم دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنے قول و فعل سے لوگوں کو بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں ﴿وَيَكۡتُمُوۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو (مال) اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کر رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو علم عطا کیا جس کے ذریعے سے گمراہ راہ پاتے ہیں اور جاہل رشد و ہدایت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس علم کو ان لوگوں سے چھپاتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کا اظہار کرتے ہیں، اس طرح وہ مخلوق اور حق کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں۔ پس انھوں نے مالی بخل اور علمی بخل کو یکجا کر دیا اور اپنے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ اور دوسروں کے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ کو جمع کر دیا۔ یہ کفار کی صفات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾ ’’اور ہم نے کفار کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر کے ساتھ پیش آئے، اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنے سے انکار کیا اور اپنے بخل اور بے راہ روی کی وجہ سے دوسروں کو محروم کرنے کا باعث بنے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو دردناک عذاب اور دائمی رسوائی کے ذریعے سے رسوا کیا۔ اے اللہ! ہر برائی سے ہم تیری پناہ کے طلبگار ہیں۔
[38] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مال کے بارے میں خبر دی ہے جو محض دکھاوے اور شہرت کی خاطر اور اللہ تعالیٰ پر عدم ایمان کی بنا پر خرچ کیا جاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ رِئَآءَؔ النَّاسِ ﴾ ’’جو لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ لوگ انھیں دیکھیں، ان کی مدح و ثنا کریں اور ان کی تعظیم کریں ﴿ وَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے‘‘ یعنی ان کا مال، اخلاص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور ثواب کی امید پر خرچ نہیں ہوتا۔ یعنی یہ سب کچھ درحقیقت شیطان کا نقش قدم اور اس کے اعمال ہیں جن کی طرف وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ جہنمیوں میں شامل ہو جائیں۔ یہ اعمال شیطان کی دوستی اور شیطان کی انگیخت پر ان سے سرزد ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّؔكُنِ الشَّيۡطٰنُ لَهٗ قَرِيۡنًا فَسَآءَؔ قَرِيۡنًا ﴾ ’’اور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو وہ بدترین ساتھی ہے‘‘ بدترین ہے وہ مصاحب اور ساتھی جو اپنے ساتھی کی ہلاکت چاہتا ہے اور اسے ہلاک کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔جس طرح کوئی شخص اس نعمت میں بخل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہے۔ وہ نافرمان، گناہ گار اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت کا مرتکب ہے، اسی طرح وہ شخص بھی گناہ گار، اپنے رب کا نافرمان اور سزا کا مستحق ہے جو غیر اللہ کی عبادت کے لیے خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو حکم دیا ہے کہ نہایت اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کے حکم پر عمل کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾(البینۃ 98؍5) ’’ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے اس کی عبادت کریں۔‘‘ یہی وہ عمل ہے جو اللہ کے ہاں قابل قبول ہے اور اس عمل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے والا مدح و ثواب کا مستحق ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ایسے عمل کی ترغیب دینے کے لیے فرمایا: