Tafsir As-Saadi
4:40 - 4:42

بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرتا برابر ایک ذرے کےاور اگر ہو کوئی نیکی تو دگنا کر دے گا اس کو اور دے گا اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(40) پس کیا حال ہوگا جب لائیں گے ہم ہر امت سے ایک گواہ اور لائیں گے ہم آپ کو (اے رسول!) ان پر گواہ(41) اس دن چاہیں گے وہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی انھوں نے رسول کی کاش کہ برابر کر دی جائے ساتھ ان کے زمین اور نہ چھپا سکیں گے وہ اللہ سے کوئی بات(42)

[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کامل عدل و فضل کے بارے میں خبر دیتا اور آگاہ فرماتا ہے کہ وہ عدل کے متضاد صفات، یعنی ظلم سے۔ خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر۔ پاک ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ ﴾ ’’اللہ کسی کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کرتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نیکیوں میں ذرہ بھر کمی کرے گا نہ اس کی برائیوں میں ذرہ بھر اضافہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰۷ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾(الزلزال : 99؍7۔8)’’جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘﴿ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا ﴾ ’’اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے‘‘ یعنی وہ اس نیکی کو دس گنا یا اس کے حسب حال، اس کے نفع کے مطابق اور نیکی کرنے والے کے اخلاص، محبت اور کمال کے مطابق اس سے بھی کئی گنا زیادہ کر دے گا ﴿ وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے‘‘ یعنی وہ عمل کے ثواب سے زیادہ عطا کرے گا۔ مثلاً وہ اسے دیگر اعمال کی توفیق سے نوازے گا، بہت سی نیکی اور خیر کثیر عطا کرے گا۔
[41] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾ ’’پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے‘‘ وہ کیسے حالات ہوں گے اور وہ عظیم فیصلہ کیسا ہو گا۔ جو اس حقیقت پر مشتمل ہو گا کہ فیصلہ کرنے والا کامل علم، کامل عدل اور کامل حکمت کا مالک ہے اور وہ مخلوق میں سب سے زیادہ سچی شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔ یہ شہادت انبیاء ومرسلین کی شہادت ہے جو وہ اپنی امتوں کے خلاف دیں گے اور جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اس کا اقرار کریں گے۔ اللہ کی قسم یہ وہ فیصلہ ہے جو تمام فیصلوں میں سب سے زیادہ عام، سب سے زیادہ عادل اور سب سے عظیم ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے کمال فضل، عدل و انصاف اور حمدوثناء کا اقرار کرتے رہ جائیں گے۔ وہاں کچھ لوگ فوز و فلاح، عزت اور کامیابی کی سعادت سے بہرہ ور ہوں گے اور کچھ فضیحت و رسوائی اور عذاب مہین کی بدبختی میں گرفتار ہوں گے۔
[42] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ ﴾ ’’جس روز کافر اور رسول کے نافرمان آرزو کریں گے‘‘ یعنی ان میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار اور رسول کی نافرمانی اکٹھے ہو گئے ہیں ﴿ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’کہ کاش انھیں زمین کے ساتھ ہموار کر دیا جاتا‘‘ یعنی وہ خواہش کریں گے کہ کاش زمین انھیں نگل لے اور وہ مٹی ہو کر معدوم ہو جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾(النباء : 78؍40)’’اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا۔‘‘﴿ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور وہ نہیں چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات‘‘ بلکہ وہ اپنی بداعمالیوں کا اعتراف کریں گے ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس روز اللہ تعالیٰ انھیں پوری پوری جزا دے گا۔ یعنی ان کی جزائے حق۔ اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق اور کھلا کھلا بیان کر دینے والا ہے اور کفار کے بارے میں یہ جو وارد ہوا ہے کہ وہ اپنے کفر و انکار کو چھپائیں گے تو قیامت کے بعض مواقع پر ایسا کریں گے جبکہ وہ یہ سمجھیں گے کہ ان کا کفر سے انکار اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں کسی کام آ سکے گا۔ لیکن جب وہ حقائق کو پہچان لیں گے اور خود ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تب تمام معاملہ روشن ہو کر سامنے آجائے گا۔ پھر ان کے لیے چھپانے کی کوئی گنجائش باقی رہے گی نہ چھپانے کا کوئی فائدہ ہی ہوگا۔