کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دعویٰ کرتے ہیں اس بات کا کہ وہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے جو اُتارا گیا طرف آپ کی اور جو نازل کیا گیا پہلے آپ سے، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ فیصلہ لے جائیں طرف طاغوت کی، حالانکہ حکم دیے گئے تھے وہ یہ کہ کفر کریں ساتھ اس کے۔ اور ارادہ کرتا ہے شیطان یہ کہ گمراہ کر دے ان کو گمراہ کرنا دور کا(60) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ تم طرف اس کی جو نازل کیا اللہ نے اور (آؤ) طرف رسول کی تو دیکھیں گے آپ منافقوں کو، رکتے ہیں وہ آپ سے اعراض کرتے ہوئے(61) پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے ان کو مصیبت، بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے، پھر آتے ہیں وہ آپ کے پاس، قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی، نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور موافقت کا(62) یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ جو ان کے دلوں میں ہے، پس اعراض کریں آپ ان سے اور نصیحت کریں انھیں اور کہیں ان سے ان کے دلوں میں بات اثر کرنے والی(63)
[61,60] اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے ﴿ الَّذِيۡنَ يَزۡعُمُوۡنَ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہﷺلے کر آئے اور جو کچھ آپﷺسے پہلے تھا۔ بایں ہمہ ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَحَاكَمُوۡۤا۠ اِلَى الطَّاغُوۡتِ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔‘‘ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ﴿ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’انھیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔‘‘ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کر دیا ہے ﴿ وَيُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّضِلَّهُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انھیں بہکا کر راستے سے دور کردے۔‘‘ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انھیں حق سے دور کر دے۔
[62] فرمایا ﴿ فَكَـيۡفَ ﴾ یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے ﴿ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے‘‘ یعنی گناہ معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے ﴿ ثُمَّ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔‘‘ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے ہیں ﴿ يَحۡلِفُوۡنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّتَوۡفِيۡقًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔‘‘ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی تحکیم میں ہے ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ : 5؍50) ’’جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے؟‘‘
[63] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے نفاق اور برے مقاصد کو جانتا ہے ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کا کچھ خیال نہ کریں۔‘‘ یعنی ان کی پروا نہ کیجیے اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے اس پر دھیان نہ دیجیے ﴿ وَعِظۡهُمۡ﴾ ’’اور انھیں نصیحت کریں۔‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتے ہوئے اور ترک اطاعت پر انھیں ڈراتے ہوئے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیجیے ﴿ وَقُلۡ لَّهُمۡ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًۢا بَلِيۡغًا ﴾ ’’اور ان سے وہ بات کیجیے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو‘‘ یعنی اپنے درمیان اور ان کے درمیان معاملے کو راز رکھتے ہوئے انھیں نصیحت کیجیے۔ حصول مقصد کے لیے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے اور ان کو برائیوں سے روکنے اور زجر و توبیخ میں پوری کوشش سے کام لیجیے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہ گار کے ساتھ اگر اعراض کیا جائے تو پوشیدہ طور پر اس کے لیے خیر خواہی کا اہتمام ضرور کیا جائے اور اس کو نصیحت کرنے میں پوری کوشش سے کام لیا جائے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کر سکے۔