Tafsir As-Saadi
4:66 - 4:68

اور اگر بے شک فرض کر دیتے ہم ان پر یہ کہ قتل کرو تم اپنی جانوں کو یا نکلو تم اپنے گھروں سے تو نہ کرتے وہ یہ کام مگر تھوڑے ان میں سےاور اگر بلاشبہ کر لیتے وہ (وہ کام) کہ نصیحت کیے جاتے ہیں وہ اس کی تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور زیادہ ثابت قدم رکھنے والا (دین میں)(66) اور تب ، البتہ دیتے ہم انھیں اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(67) اور ضرور چلاتے ہم انھیں راستے سیدھے پر(68)

[66] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کیے ہوتے مثلاً، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کر سکتے، پس انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کیے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لیے آسان ہے اور ان میں کسی کے لیے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہو جائیں۔ تاکہ اپنے رب کے لیے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے اس چیز پر عمل کیا ہوتا جس کی انھیں نصیحت کی گئی ہے، یعنی تمام اوقات کے مطابق ان کے لیے جو اعمال مقرر کیے گئے ہیں، ان کے لیے اپنی ہمتیں صرف کرتے ان کے انتظام اور ان کی تکمیل کے لیے ان کے نفوس پوری کوشش کرتے اور جو چیز انھیں حاصل نہ ہو سکتی اس کے لیے کوشش نہ کرتے اور اس کے درپے نہ ہوتے اور بندے کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے حال پر غور کرے جس کو قائم کرنا لازم ہے اس کی تکمیل میں جدوجہد کرے۔ پھر بتدریج تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا رہے یہاں تک کہ جو دینی اور دنیاوی علم و عمل اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے اسے حاصل کر لے۔ یہ اس شخص کے برعکس ہے جو اس معاملے پر ہی نظریں جمائے رکھتا ہے جہاں تک وہ نہ پہنچ سکا اور نہ اس کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ تفریق ہمت، سستی اور عدم نشاط کی بنا پر اس منزل تک نہیں پہنچ سکا۔پھر ان کو جو نصیحت کی گئی ہے اس پر عمل کرنے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان کے چار مراتب ہیں:اول: بھلائی کا حصول۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’البتہ ان کے لیے بہتر ہوتا‘‘ یعنی ان کا شمار نیک لوگوں میں ہوتا جو ان افعال خیر سے متصف ہیں جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور ان سے شریر لوگوں کی صفات زائل ہو جاتیں کیونکہ کسی چیز کے ثابت ہونے سے اس کی ضد کی نفی لازم آتی ہے۔ثانی: ثابت قدمی اور اس میں اضافے کا حصول ۔ کیونکہ اہل ایمان کے ایمان کو قائم رکھنے کے سبب سے، جسے قائم رکھنے کی انھیں نصیحت کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں، اوامر و نواہی میں فتنوں کے وارد ہونے اور مصائب کے نازل ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے، تب انھیں ثبات حاصل ہوتا ہے اوامر پر عمل کرنے اور ان نواہی سے اجتناب کی توفیق عطا ہوتی ہے نفس جن کے فعل کا تقاضا کرتا ہے اور ان مصائب کے نازل ہونے پر ثابت قدمی اور استقامت عطا ہوتی ہے جن کو بندہ ناپسند کرتا ہے۔ بندے کو صبر و رضا اور شکر کی توفیق کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا ہوتی ہے پس بندے پر اس کی ثابت قدمی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوتی ہے اور اسے نزع کے وقت اور قبر میں ثابت قدمی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے اوامر کو قائم رکھنے والا بندۂ مومن شرعی احکام کا عادی بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان احکام سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان احکام کا مشتاق بن جاتا ہے اور یہ الفت اور اشتیاق نیکیوں پر ثبات کے لیے اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
[67] ثالث: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاِذًا لَّاٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اور تب تو انھیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ہم اسے اجر عظیم سے نوازتے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہے اور ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے طائر خیال کا وہاں سے گزر ہوا ہے۔
[68] رابع: صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ۔ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی شرف کی حامل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت حق کے علم کو، حق کے ساتھ محبت اور حق کو ترجیح دینے اور اس پر عمل کرنے کو اور اس پر فلاح و سعادت کے موقوف ہونے کو متضمن ہوتی ہے۔ پس جس کسی کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کر دی گئی اسے گویا ہر بھلائی کی توفیق عطا کر دی گئی اور اس سے ہر برائی اور ہر ضرر کو دور کر دیا گیا۔