Tafsir As-Saadi
4:44 - 4:46

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ خریدتے ہیں وہ گمراہی کو اور چاہتے ہیں یہ کہ گمراہ ہو جاؤ تم راستے سے(44) اور اللہ خوب جانتا ہے تمھارے دشمنوں کو اور کافی ہے اللہ دوست اور کافی ہے اللہ مددگار(45) کچھ ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، بدل ڈالتے ہیں باتوں کو ان کی جگہوں سے اور کہتے ہیں، سنا ہم نے اور نافرمانی کی ہم نے اور سُن! نہ سنایا جائے تواور (کہتے ہیں) رَاعِنَا، موڑتے ہوئے اپنی زبانیں اور طعن کرتے ہوئے دین میں اور اگر بلاشبہ وہ کہتے ہیں، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نے اور سنیے! اور دیکھیے ہمیں تو یقیناً ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور درست تراور لیکن لعنت کی ان پر اللہ نے بہ سبب ان کے کفر کے، پس نہیں ایمان لاتے وہ مگر تھوڑے ہی(46)

[44] اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی مذمت ہے جنھیں کتاب عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے کہ وہ ان کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑیں اور ان کا ساتھی بننے سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے بارے میں ﴿ يَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَةَ ﴾ گمراہی خریدتے ہیں یعنی گمراہی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اسے ترجیح دیتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنی محبوب چیز کی طلب میں مال کثیر خرچ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ پس یہ لوگ ہدایت پر گمراہی کو، ایمان پر کفر کو اور سعادت پر شقاوت کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِيۡلَ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ گم کر لو۔‘‘ پس وہ تمھیں گمراہ کرنے کے بے حد خواہش مند ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا ولی اور مددگار ہے اس لیے ان کے سامنے ان کفار کی گمراہی اور ان کی دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔
[45] اس لیے فرمایا ﴿ وَؔ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اللہ ہی کافی کارساز ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمام امور میں اپنے لطف و کرم کی وجہ سے اپنے بندوں کے تمام احوال میں ان کی سرپرستی فرماتا ہے اور ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہوں کو آسان کرتا ہے ﴿ وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ ہی کافی مددگار ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان کے دشمنوں کے خلاف مدد عطا کرتا ہے اور ان کے سامنے واضح کرتا ہے کہ انھیں کن لوگوں سے بچنا چاہیے وہ ان کے خلاف ان کی مدد کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کی ولایت اور سرپرستی میں خیر کا حصول اور اس کی نصرت میں شر کا زوال ہے۔
[46] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی گمراہی، عناد اور ان کے حق پر باطل کو ترجیح دینے کی کیفیت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور جو یہودی ہیں۔‘‘ یعنی یہودی، اور اس سے مراد یہودیوں کے گمراہ علماء ہیں ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ ﴾ ’’ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ وہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ کلمات الٰہی میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے۔ یہ تحریف یا تو لفظ میں ہوتی تھی یا معنی میں یا دونوں میں۔ یہ ان کی تحریف تھی کہ آنے والے نبی کی وہ صفات جو ان کی کتابوں میں بیان کی گئی تھیں وہ محمد رسول اللہﷺکے سوا کسی پر منطبق اور صادق نہ آتی تھیں۔ (یہودی کہتے تھے) کہ یہ صفات رسول اللہﷺکی نہیں کسی اور کی بیان ہوئی ہیں ان صفات سے مراد رسول اللہﷺنہیں ہیں وہ ان صفات کو چھپاتے تھے۔ پس علم کے بارے میں یہ ان کا بدترین حال ہے۔ انھوں نے حقائق کو بدل ڈالا حق کو باطل بنا دیا اور پھر انھوں نے اس کی وجہ سے اس حق کا انکار کر دیا۔رہا عمل اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کا حال تو کہا کرتے تھے ﴿ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے سن لیا اور نہیں مانا۔‘‘ یعنی ہم نے تیری بات سنی اور تیرے حکم کی نافرمانی کی۔ یہ کفر و عناد اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے کی انتہا ہے۔ اسی طرح وہ رسول اللہﷺکو انتہائی سوء ادبی، اور بدترین خطابات کے ساتھ مخاطب کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے ﴿ وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ ﴾ ’’سنیے نہ سنوائے جاؤ۔‘‘ اور ان الفاظ سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہماری بات سن اور تجھے وہ بات نہ سنوائی جائے جو تجھے پسند ہے بلکہ وہ بات سنوائی جائے جو تجھے ناپسند ہے ﴿ وَّرَؔاعِنَا ﴾ اس رعونت سے ان کی مراد تھی قبیح عیب۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ لفظ میں ان معنوں کا احتمال ہے جو ان کے معنی مراد کے علاوہ ہیں، اس لیے یہ اللہ اور اس کے رسولﷺکے بارے میں رائج ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ اس لفظ کو، جس کا وہ اپنی زبانوں کو مروڑ کر تلفظ کرتے تھے، دین میں طعن اور رسول اللہﷺکی عیب چینی کا ذریعہ بناتے تھے۔ اور باہم ایک دوسرے کو نہایت صراحت سے بتاتے تھے اسی لیے فرمایا:﴿ لَيًّـۢا بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ وَطَعۡنًا فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’زبانوں کو مروڑ کر اور دین میں عیب لگانے کو‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز کی طرف ان کی راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانۡظُرۡنَا لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ﴾ ’’اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے فرماں برداری کی اور آپ سنیے اور ہمیں دیکھیے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب تھا‘‘ چونکہ یہ کلام رسول اللہﷺکو مخاطب ہونے کے بارے میں حسن خطاب، ادب لائق، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے اوامر کی تعمیل کو متضمن ہے نیز یہ کلام ان کے طلب علم، ان کے سوال کو سننے اور ان کے معاملے کو درخور اعتنا سمجھنے کے بارے میں حسن ملاطفت کا حامل ہے۔ اس لیے یہ وہ راستہ ہے جس پر انھیں گامزن ہونا چاہیے، مگر چونکہ ان کی طبائع پاکیزگی سے محروم ہیں اس لیے انھوں نے اس سے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و عناد کے باعث انھیں دھتکار دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کی، پس اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت تھوڑے۔‘‘