پس کیا ہے تمھیں کہ منافقوں (کے بارے) میں دو گروہ ہوگئے؟ اور اللہ نے الٹ دیا ان کو بہ سبب ان (اعمال) کے جو انھوں نے کمائے، کیا چاہتے ہو تم کہ ہدایت دو ان کو جنھیں گمراہ کیا اللہ نے؟ اور جسے گمراہ کرے اللہ پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(88) چاہتے ہیں یہ لوگ کاش کہ کفر کرو تم جس طرح کفر کیا انھوں نے، پس ہو جاؤ تم (اور وہ) برابر، پس نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں راستے میں اللہ کے ، پھر اگر پھر جائیں وہ تو پکڑو ان کو اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کو اور نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست اور نہ مددگار(89) سوائے ان لوگوں کے جو جا ملتے ہیں اس قوم سے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ہے یا آتے ہیں تمھارے پاس (اس حال میں) کہ تنگ ہیں ان کے سینے اس بات سے کہ لڑیں وہ تم سے یا لڑیں وہ اپنی قوم سےاور اگر چاہتا اللہ تو مسلط کر دیتا ان کو تم پر پس لڑتے وہ تم سے ، پھر اگر کناہ کش رہیں وہ تم سےاور نہ لڑیں تم سے اور پیش کریں تمھاری طرف صلح تو نہیں بنائی اللہ نے تمھارے لیے ان پر کوئی راہ (ان سے لڑنے کی)(90) عنقریب تم پاؤ گے کچھ اور لوگوں کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں وہ تم سے اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (بھی) جب بھی لوٹائے جاتے ہیں وہ طرف فتنے کی تو الٹا دیے جاتے ہیں اس میں، پس اگر وہ نہ کنارہ کش رہیں تم سے اور نہ پیش کریں تمھاری طرف صلح اور نہ روکیں تم سے اپنے ہاتھ تو پکڑو تم ان کو اور قتل کرو تم ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کواور یہی لوگ ہیں کہ کیا ہم نے تمھارے لیے ان پر غلبہ ظاہر(91)
[89,88] ان آیات کریمہ(یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ: ’’صحیحین میں حضرت زید بن ارقمt سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامy کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَتَيۡنِ﴾ ’’پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہورہے ہو؟‘‘ (اس موقع پر) نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطینت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔‘‘اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ (محقق) پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ …﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہورہی ہے) (ص۔ي) میں مذکور منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامyمیں اشتباہ واقع ہو گیا۔ چنانچہ بعض صحابہyان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے۔ اور بعض صحابہyکو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انھوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انھی کی مانند ہو جاؤ۔ پس جب تمھارے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ﴿ فَلَا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔‘‘ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔ نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ کسی چیز سے ممانعت درحقیقت اس کی ضد کا حکم ہے اور اس حکم کی مدت ان کی ہجرت تک ہے۔ اگر وہ ہجرت کر کے آجاتے ہیں تو ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو دیگر مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺہر اس شخص پر اسلام کے احکام جاری فرماتے تھے جو آپﷺکے ساتھ تھا اور ہجرت کر کے آپ کی خدمت میں پہنچ گیا تھا۔ خواہ وہ حقیقی مومن تھا یا محض ایمان کا اظہار کرتا تھا۔اگر وہ ہجرت نہیں کرتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں ﴿ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کردو۔‘‘ یعنی جب بھی اور جس جگہ تم ان کو پاؤ ان کو قتل کر دو۔ یہ آیت کریمہ ان جملہ دلائل میں شامل ہے جو حرام مہینوں میں قتال کی حرمت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ جمہور اہل علم کا قول ہے۔ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ یہ تمام نصوص مطلق ہیں، حرام مہینوں میں قتال کی تحریم کی تخصیص پر محمول ہوں گی۔
[90] پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین میں سے تین گروہوں کو قتال سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں سے دو گروہوں کو ترک کرنے کا حتمی حکم دیا ہے۔ ان میں پہلا گروہ وہ ہے جو کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جاتا ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ پس ان منافقین کو اس قوم میں شامل قرار دیا جائے گا اور جان و مال کے بارے میں ان کا بھی وہی حکم ہو گا جو اس قوم کا ہو گا۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ حَصِرَتۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَنۡ يُّقَاتِلُوۡؔكُمۡ۠ اَوۡ يُقَاتِلُوۡا قَوۡمَهُمۡ ﴾ ’’ان کے دل تمھارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم کے ساتھ۔ وہ دونوں فریقوں کے ساتھ قتال ترک کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ قتال نہ کیا جائے اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَيۡكُمۡ فَلَقٰتَلُوۡؔكُمۡ۠ ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کو تم پر مسلط کر دیتا، پس وہ تم سے لڑتے‘‘ اس معاملے میں تین صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں: وہ یا تو تمھارے ساتھ ہوتے اور تمھارے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے، ان سے ایسا ہونا مشکل ہے۔اب معاملہ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ جنگ تمھارے اور ان کی قوم کے درمیان ہو یا دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہو اور یہ صورت تمھارے لیے زیادہ آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تم پر مسلط کرنے پر قادر ہے۔پس تم عافیت کو قبول کرو اور اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو جس نے ان کو تمھارے خلاف لڑنے سے روکا حالانکہ وہ تمھارے خلاف لڑنے کی طاقت رکھتے تھے ﴿ فَاِنِ اعۡتَزَلُوۡؔكُمۡ فَلَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ وَاَلۡقَوۡا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اگر وہ تمھارے ساتھ جنگ کرنے سے کنارہ کشی کر لیں اور تمھاری طرف صلح اور سلامتی کا پیغام بھیجیں تو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے ان پر زیادتی کرنے کی کوئی راہ نہیں رکھی۔‘‘
[91] تیسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو تمھارے احترام سے قطع نظر صرف اپنی بھلائی چاہتے ہیں۔ اور یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے‘‘ یعنی ان منافقین میں سے ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّاۡمَنُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں۔‘‘ یعنی وہ تم سے ڈرتے ہوئے تمھارے ساتھ پرامن رہنا چاہتے ہیں ﴿ وَ يَاۡمَنُوۡا قَوۡمَهُمۡ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَى الۡفِتۡنَةِ اُرۡكِسُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں (لیکن) جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنے کفر اور نفاق پر قائم ہیں اور جب کبھی وہ کسی فتنہ سے دوچار ہوتے ہیں، یہ فتنہ انھیں اندھا کر دیتا ہے اور وہ پہلی حالت پر لوٹ جاتے ہیں اور ان کا کفر و نفاق بڑھ جاتا ہے یہ لوگ بھی اس صورت میں دوسرے گروہ کی مانند ہیں حالانکہ درحقیقت یہ اس گروہ کے مخالف ہیں۔ کیونکہ دوسرے گروہ نے مسلمانوں کے خلاف اپنے نفس پر خوف کی وجہ سے قتال ترک نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے احترام کی بنا پر ترک کیا ہے۔ جبکہ اس گروہ نے تمھارے خلاف قتال، احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے ترک کیا ہے بلکہ اگر وہ اہل ایمان کے خلاف لڑنے کا کوئی موقع پائیں تو اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے تمھارے خلاف لڑیں۔ لہٰذا اگر یہ لوگ واضح طور پر اہل ایمان کے ساتھ لڑنے سے کنارہ کشی نہ کریں۔ تو وہ گویا تمھارے خلاف جنگ کرتے ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَعۡتَزِلُوۡؔكُمۡ۠ وَيُلۡقُوۡۤا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ ﴾ ’’اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریں نہ تمھاری طرف پیغام صلح بھیجیں۔‘‘ یعنی اگر وہ تمھارے ساتھ امن اور صلح نہیں چاہتے ﴿ وَيَكُفُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ۠١ؕ وَاُولٰٓىِٕكُمۡ جَعَلۡنَا لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سُلۡؔطٰنًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں تو انھیں پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ۔ یہی ہیں جن پر ہم نے تمھیں ظاہر حجت عنایت فرمائی ہے‘‘ تب ہم نے تمھیں ان کے خلاف ایک واضح حجت عطا کر دی ہے کیونکہ وہ تمھارے خلاف ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ صلح اور امن کے رویے کو ترک کر رہے ہیں۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کریں۔