Tafsir As-Saadi
4:95 - 4:96

نہیں برابر ہو سکتے (وہ جو ہیں)، بیٹھ رہنے والے مومنوں میں سے، نہیں ہیں وہ تکلیف (عذر رکھنے) والےاور جو جہاد کرنے والے ہیں راستے میں اللہ کے، ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، فضیلت دی ہے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو، ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، بیٹھ رہنے والوں پر مرتبے میں اور سب سے وعدہ کیا ہے اللہ نے بھلائی کااور فضیلت دی ہے اللہ نے مجاہدین کو اوپر بیٹھ رہنے والوں کے بہ لحاظ اجر عظیم کے(95)(یعنی ) درجے ہیں اس کی طرف سے اور بخشش اور رحمت اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان(96)

[96,95] یعنی اہل ایمان میں سے وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ذریعے سے جہاد کرتا ہے اور وہ شخص جو جہاد کے لیے نہیں نکلتا اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ قتال نہیں کرتا، دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے کی ترغیب ہے اور سستی اور کسی عذر کے بغیر جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔ رہے وہ لوگ جو کسی تکلیف میں مبتلا ہیں مثلاً مریض، اندھا اور لنگڑا وغیرہ اور وہ شخص جس کے پاس جہاد پر جانے کے لیے سامان وغیرہ نہیں، تو یہ لوگ بغیر عذر گھر بیٹھ رہنے والوں میں شمار نہیں ہوں گے۔ ہاں! وہ شخص جو کسی تکلیف میں مبتلا ہے اور وہ اپنے گھر بیٹھ رہنے پر خوش اور راضی ہے اور وہ یہ نیت بھی نہیں رکھتا کہ اگر یہ مانع موجود نہ ہوتا تو وہ جہاد میں ضرور شریک ہوتا۔ اور اس کے دل میں کبھی جہاد کی خواہش بھی نہیں ہوئی تو ایسا شخص بغیر عذر گھر بیٹھ رہنے والوں میں شمار ہو گا۔جو کوئی یہ عزم رکھتا ہے کہ اگر یہ مانع موجود نہ ہوتا تو وہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا، وہ جہاد کی تمنا اور آرزو کرتا ہے اور اس کے دل میں جہاد کی خواہش پیدا ہوئی ہے تو ایسا شخص جہاد کرنے والوں میں شمار ہو گا۔ کیونکہ نیت جازم کے ساتھ جب وہ عمل مقرون ہوتا ہے جو قولاً یا فعلاً نیت کرنے والے کے اختیار میں ہے تو وہ اس صاحب نیت کو فاعل کے مقام پر فائز کر دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ مجاہدین کو گھر بیٹھ رہنے والوں پر بلندئ درجات کی فضیلت سے نوازا ہے۔ یہ فضیلت اجمالاً بیان فرمائی ہے۔ اس کے بعد صراحت کے ساتھ اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور رحمت کا وعدہ فرمایا جو ہر بھلائی کے حصول اور ہر برائی کے سدباب پر مشتمل ہے۔صحیحین میں مروی ایک حدیث کے مطابق رسول اللہﷺنے ان درجات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’جنت کے اندر سو درجے ہیں اور ان ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان۔ اس جنت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘(صحیح البخاری، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین في سبيل اللہ، حديث:2790)یہ ثواب جو اللہ تعالیٰ نے جہاد پر مرتب کیا ہے اس کی نظیر سورۂ صف کی یہ آیات ہیں : ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنۡجِيۡكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ۰۰تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾(الصف : 61؍10-12) ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو کیا میں تمھیں ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمھیں دردناک عذاب سے نجات دے، تم اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرو۔ اگر تم علم رکھتے ہو تو یہی تمھارے لیے بہتر ہے۔ وہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں جنت میں داخل کرے گا۔ جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور جنت جاوداں میں پاکیزہ آرام گاہوں میں داخل کرے گا، یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ذرا حسن انتقال پر غور فرمائيے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حالت سے دوسری بلند تر حالت کی طرف منتقل ہونے کا کیسے ذکر فرمایا ہے۔ سب سے پہلے مجاہد اور غیر مجاہد کے درمیان مساوات (برابر ہونے) کی نفی فرمائی۔ پھر تصریح فرمائی کہ مجاہد کو گھر بیٹھ رہنے والے پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے پھر مغفرت، رحمت اور بلند درجات کے ذریعے سے مجاہد کو فضیلت عطا کرنے کی طرف انتقال فرمایا۔ فضیلت اور مدح کے موقع پر فروتر سے بلند تر حالت کی طرف اور مذمت اور برائی کے موقع پر بلند تر حالت سے فروتر حالت کی طرف یہ انتقال، لفظوں کے اعتبار سے حسین تر اور نفوس انسانی میں کارگر ہونے کے اعتبار سے مؤثر تر ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دیتا ہے جبکہ دونوں ہی کو فضیلت حاصل ہو تو وہ ایسے لفظ کے ساتھ فضیلت بیان کرنے سے احتراز کرتا ہے جو دونوں کا جامع ہو۔ تاکہ کسی کو یہ وہم لاحق نہ ہو کہ کم تر فضیلت کی حامل چیز کی مذمت بیان کی ہے۔ جیسا کہ یہاں بیان فرمایا ﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اللہ نے سب کے ساتھ اچھا وعدہ کیا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ محولہ بالا سورۂ صف کی آیات میں فرمایا ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’مومنوں کو خوش خبری دے دیجیے‘‘ فرمایا: ﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ﴾(الحدید : 57؍10) ’’تم میں سے جس شخص نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیا (اور جس نے فتح مکہ کے بعد یہ کام کیے) برابر نہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾(الحدید : 57؍10) ’’اور اللہ نے سب کے ساتھ اچھا وعدہ کیا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾(الانبیاء : 21؍79) ’’پس فیصلہ کرنے کا طریقہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو علم و حکمت عطا کی تھی۔‘‘پس جو کوئی شخصیات کے درمیان، گروہوں کے درمیان اور اعمال کے درمیان فضیلت کی تحقیق کرتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اس نکتہ کو خوب سمجھ لے۔ اسی طرح اگر وہ بعض شخصیات اور مقالات کی مذمت بیان کرتا ہے تو ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دینے کے لیے ایسا اسلوب استعمال کرے جو دونوں کو جامع ہو۔ تاکہ جس کو فضیلت دی گئی ہے وہ اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ اسے کمال حاصل ہے۔ مثلاً جب یہ کہا جائے کہ نصاریٰ مجوسیوں سے بہتر ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہیے کہ دونوں ہی کافر ہیں۔ جب یہ کہا جائے قتل زنا سے زیادہ بڑا جرم ہے تو ساتھ یہ بھی بتانا چاہیے کہ دونوں گناہ کبیرہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺنے حرام قرار دیا ہے اور ان گناہوں پر زجر و توبیخ کی ہے۔چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجاہدین کے ساتھ مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو اس کے اسمائے کریمہ (اَلْغَفُوْرُ) اور (اَلرَّحِیْمُ) سے صادر ہوتی ہیں اس لیے اس آیت کریمہ کے اختتام پر فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘