Tafsir As-Saadi
4:97 - 4:99

تحقیق جو لوگ کہ فوت کرتے ہیں ان کو فرشتے دراں حالیکہ وہ ظلم کرنے والے ہیں اپنی جانوں پر تو کہتے ہیں کس حال میں تھے تم؟ کہتے ہیں وہ، تھے ہم کمزور زمین میں، کہتے ہیں وہ(فرشتے) کیا نہ تھی زمین اللہ کی فراخ؟ پس ہجرت کرتے تم اس میں، پس یہ لوگ ان کا ٹھکانا جہنم ہےاور بہت بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(97) مگر وہ جو کمزور ہیں مردوں اور عورتوں اور بچوں سے، نہیں (اختیار) کر سکتے وہ کوئی تدبیر اور نہ پاتے ہیں کوئی راہ(98) پس یہ لوگ، امید ہے کہ اللہ معاف فرما دے انھیں اور ہے اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا(99)

[97] اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے جو ہجرت کی قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا اور دارالکفر ہی میں مر جاتا ہے۔ کیونکہ جب فرشتے اس کی روح قبض کریں گے تو اس کو سخت زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ فِيۡمَ كُنۡتُمۡ﴾’’تم کس حال میں تھے‘‘ اور کیسے تم نے اپنے تشخص کو مشرکین کے درمیان ممیز رکھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے اور بسا اوقات اہل ایمان کے خلاف تم نے کفار کی مدد کی، تم خیر کثیر، اللہ کے رسول کی معیت میں جہاد، مسلمانوں کی رفاقت اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی معاونت کی سعادت سے محروم رہے۔﴿ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ وہ کہیں گے کہ ہم کمزور مجبوراور مظلوم تھے اور ہجرت کی قدرت نہ رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ اپنے اس قول میں سچے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے اور ان کو وعید سنائی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اس نے حقیقی مستضعفین کو مستثنی قرار دیا ہے اس لیے فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کیا اللہ کی زمین وسیع و فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے‘‘ یہ استفہام تقریری ہے یعنی ہر ایک کے ہاں یہ چیز متحقق ہے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بندۂ مومن جہاں کہیں بھی ہو اگر وہاں اپنے دین کا اظہار نہیں کر سکتا تو زمین اس کے لیے بہت وسیع ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يٰعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ اَرۡضِيۡ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعۡبُدُوۡنِ﴾(العنکبوت : 29؍56) ’’اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین بہت وسیع ہے پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جن کے پاس کوئی عذر نہیں، فرمایا:﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے‘‘ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ اس میں سبب موجب کا بیان ہے جس پر ، اس کی شرائط کے جمع ہونے اور موانع کے نہ ہونے کے ساتھ، مقتضا مرتب ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مانع اس مقتضا کو روک دیتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ ہجرت سب سے بڑا فرض ہے اور اس کو ترک کرنا حرام بلکہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے وفات پائی اس نے اپنا وہ رزق، عمر اور عمل پورا کر لیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔ یہ دلیل لفظ ’’تَوَفّٰی‘‘ سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اگر اس نے وہ سب کچھ پورا نہیں کیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا تو لفظ ’’ تَوَفّٰی ‘‘ کا اطلاق صحیح نہیں۔ اس آیت میں فرشتوں پر ایمان لانے اور ان کی مدح کی دلیل بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اثبات، ان کی تحسین اور اپنی موافقت کے انداز میں فرشتوں سے خطاب کیا ہے۔
[99,98] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حقیقی مستضعفین کو مستثنیٰ قرار دیا جو کسی وجہ سے ہجرت کرنے پر قادر نہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ سَبِيۡلًا﴾ ’’نہ وہ کوئی راستہ جانتے ہیں۔‘‘ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّعۡفُوَ عَنۡهُمۡ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴾ ’’امید ہے کہ ان لوگوں کو اللہ بخش دے اور اللہ بہت درگزر کرنے والا اور نہایت بخشنے والا ہے‘‘ )عَسَی( اور اس کا ہم معنی کلمہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان کے تقاضے کے مطابق اس کو لازم کرتا ہے۔جو کوئی کچھ نیک اعمال بجا لاتا ہے اس کو ثواب کی امید دلانے میں فائدہ ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص ہے جو پوری طرح عمل نہیں کرتا اور نہ وہ اس عمل کو اس طریقے سے بجا لاتا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے بلکہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے لہٰذا وہ اس ثواب کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی امر واجب کی تعمیل کرنے سے عاجز ہو وہ معذور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد سے عاجز رہنے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ ﴾(الفتح : 48؍17) ’’نہ تو اندھے کے لیے کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر۔‘‘ اور تمام احکام کی عمومی اطاعت کے بارے میں فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن : 64؍16) ’’اپنی استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَيْءٍ فَاْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جس چیز کا میں تمھیں حکم دوں مقدور بھر اس پر عمل کرو‘‘ (صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ في العمر، حديث:1337) جب انسان پوری کوشش کرتا ہے مگر اس پر ہر قسم کے حیلے کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تب اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوتا کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ حِيۡلَةً ﴾ ’’وہ کوئی تدبیر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے‘‘ یعنی وہ لاچار ہیں۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ حج و عمرہ اور اس قسم کی دیگر عبادات میں جن میں سفر کی ضرورت پیش آتی ہے، رہنمائی کرنے والے کا ہونا بھی ’’استطاعت‘‘ کی شرطوں میں سے ہے۔