اور جب سفر کرو تم زمین میں، پس نہیں تم پر گناہ یہ کہ قصر کرو تم نماز اگر ڈرو تم اس بات سے کہ فتنے میں ڈال دیں گے تمھیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، یقیناً کافر ہیں تمھارے دشمن ظاہر(101) اور جب ہوں آپ ان میں، پھر قائم کریں ان کے لیے نماز تو چاہیے کہ کھڑی ہو ایک جماعت ان میں سے آپ کے ساتھ اور چاہیے کہ (ساتھ) لے لے وہ اپنے ہتھیار، پھر جب سجدہ کر لے وہ تو ہو جائے تمھارے پیچھے اور چاہیے کہ آئے جماعت دوسری کہ نہیں نماز پڑھی اس نے، کہ نماز پڑھے وہ آپ کے ساتھ اور چاہیے کہ لے لے وہ اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار، چاہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ غافل ہو تم اپنے اسلحے اور اپنے سامان سے، پس ٹوٹ پڑیں وہ تم پر ٹوٹ پڑنا، یک بارگی اور نہیں گناہ تم پر اگر ہو تمھیں تکلیف بارش سے یا ہو تم بیمار یہ کہ رکھ دو تم اپنے ہتھیاراور (ساتھ) لے لو تم اپنا بچاؤ، تحقیق اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے عذاب رسواکن(102)
[101] یہ دو آیات کریمہ سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت اور نماز خوف کے لیے اصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب چلو تم زمین میں‘‘ یعنی سفر کے دوران۔ آیت کریمہ کا ظاہر سفر کے دوران نمازمیں قصر کی رخصت کا تقاضا کرتا ہے سفر خواہ کیسا ہی ہو، خواہ معصیت کا سفر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ جمہور فقہاء یعنی ائمہ ثلاثہ اور دیگر اہل علم آیت کے معنی اور مناسبت کے اعتبار سے آیت کے عموم کی تخصیص کرتے ہوئے معصیت کے سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ رخصت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سہولت ہے کہ جب وہ سفر کریں تو نماز میں قصر کر لیا کریں اور روزہ چھوڑ دیا کریں۔ یہ تخفیف گناہ کا سفر کرنے والے شخص کے حال سے مناسبت نہیں رکھتی۔ ﴿ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں‘‘ یعنی تم پر کوئی حرج اور گناہ نہیں۔ یہ چیز قصر کے افضل ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ میں مذکورہ نفئ حرج اس وہم کا ازالہ کرتی ہے جو بہت سے نفوس میں واقع ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو نماز قصر کے واجب ہونے کے بھی منافی نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورۂ البقرۃ کی اس آیت میں گزر چکی ہے ﴿ اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ...الي آخر الآيۃ ﴾(البقرۃ : 2؍158) ’’صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں… آیت کے آخر تک۔‘‘اس مقام پر وہم کا ازالہ ظاہر ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں نماز کا وجوب اس کی اس کامل صفت کے ساتھ متحقق ہے۔ اور یہ وہم اکثر نفوس سے اس وقت تک زائل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس امر کا ذکر نہ کیا جائے جو اس کے منافی ہے۔ اتمام پر قصر کی افضلیت کو دو امور ثابت کرتے ہیں:اول: رسول اللہﷺکا اپنے تمام سفروں کے دوران میں قصر کا التزام کرنا۔ثانی: قصر، بندوں کے لیے وسعت، رخصت اور رحمت کا دروازہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی رخصتوں سے استفادہ کیا جائے۔ جس طرح وہ یہ بات ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کا کوئی کام کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز میں سے کچھ کم کر دو‘‘ اور یہ نہیں فرمایا (اَنْ تَقْصُرُوا الصَّلٰوۃَ) ’’نماز کو کم کر دو‘‘ اس میں دو فائدے ہیں:اول: اگر یہ کہا ہوتا کہ ’’نماز کو کم کر دو‘‘ تو قصر غیر منضبط اور غیر محدود ہوتی۔ اور بسا اوقات یہ بھی سمجھا جا سکتا تھا کہ اگر نماز کا بڑا حصہ کم کر دیا جائے اور صرف ایک رکعت پڑھ لی جائے، تو کافی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے (مِنَ الصَّلٰوۃِ) کا لفظ استعمال فرمایا۔ تاکہ وہ اس امر پر دلالت کرے کہ قصر محدود اور منضبط ہے اور اس بارے میں اصل مرجع وہ نماز قصر ہے جو رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرامyکے فعل سے ثابت ہے۔ثانی: حرف جار (مِنْ) تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ صرف بعض فرض نمازوں میں قصر ہے تمام نمازوں میں جائز نہیں۔ کیونکہ فجر اور مغرب کی نماز میں قصر نہیں۔ صرف ان نمازوں میں قصر کر کے دو رکعت پڑھی جاتی ہیں جن میں چار رکعتیں فرض کی گئی ہیں۔جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ سفر میں نماز قصر ایک رخصت ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ مفسرین میں اس قید کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں وارد ہوئی ہے ﴿ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اگر تم اس بات سے ڈرو کہ کافر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے‘‘ جس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ نماز قصر اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ یہ دو امور ایک ساتھ موجود نہ ہوں سفر اور خوف۔ ان کے اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ (اَنْ تَقْصُرُوْا) سے مراد صرف عدد رکعات میں کمی ہے یا عدد رکعات اور صفت نماز دونوں میں کمی ہے؟اشکال صرف پہلی صورت میں ہے اور یہ اشکال امیر المومنین جناب عمر بن خطابtکو لاحق ہوا تھا۔ حتیٰ کہ انھوں نے رسول اللہﷺسے پوچھا ’’یارسول اللہ! ہم نماز میں قصر کیوں کرتے ہیں حالانکہ ہم مامون ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے ﴿ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اگر تمھیں کافروں کا خوف ہو کہ وہ تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے‘‘ رسول اللہﷺنے جواب میں فرمایا: ’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے پس تم اللہ تعالیٰ کے صدقہ کو قبول کرو‘‘(اَوْ کَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ)(صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین وقصرہا، حديث:1573)اس صورت میں یہ قید ان غالب حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کی گئی تھی جن سے رسول اللہﷺاور صحابہ کرام دو چار تھے۔ کیونکہ رسول اللہﷺکے اکثر سفر جہاد کے لیے ہوتے تھے۔اس میں دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قصر کی رخصت کی مشروعیت میں حکمت اور مصلحت بیان کی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں وہ انتہائی مشقت بیان کی گئی ہے، جس کا قصر کی رخصت کے بارے میں تصور کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے سفر اور خوف کا اجتماع اور اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اکیلے سفر میں قصر نہ کی جائے جو کہ مشقت کا باعث ہے۔ رہی قصر کی دوسری صورت یعنی عدد رکعات اور نماز کی صفت میں قصر تو یہ قید اپنے اپنے باب کے مطابق ہو گی۔ یعنی انسان کو اگر سفر اور خوف دونوں کا سامنا ہو تو عدد اور صفت دونوں میں قصر کی رخصت ہے۔ اگر وہ بلا خوف کسی سفر پر ہے تو صرف عدد رکعات میں قصر ہے اور اگر صرف دشمن کا خوف لاحق ہے تو صرف وصف نماز میں قصر ہے۔
[102] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ میں نماز خوف کی صفت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ وَاِذَا كُنۡتَ فِيۡهِمۡ فَاَقَمۡتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور (اے پیغمبر!) جب آپ ان (مجاہدین کے لشکر میں ہوں) اور ان کو نماز پڑھانے لگو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کے ساتھ نماز پڑھیں اور اس کے ان واجبات کو پورا کریں جن کا پورا کرنا آپ پر اور آپ کے اصحاب پر لازم ہے۔پھر اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر بیان فرمائی ﴿ فَلۡتَقُمۡ طَآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ مَّعَكَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑا ہو‘‘ اور دوسری جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو جیسا کہ آیت کا ٹکڑا ﴿ فَاِذَا سَجَدُوۡا ﴾’’جب وہ سجدہ کرچکیں۔‘‘ اس پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو آپﷺکے ساتھ نماز میں شریک ہیں اپنی نماز مکمل کر لیں۔ یہاں نماز کو سجدے سے تعبیر کیا ہے تاکہ سجدے کی فضیلت ظاہر ہو۔ نیز یہ کہ سجدہ نماز کا رکن بلکہ سب سے بڑا رکن ہے۔﴿ فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَؔآىِٕكُمۡ١۪ وَلۡتَاۡتِ طَآىِٕفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا ﴾ ’’تو یہ تمھارے پیچھے آجائیں اور وہ دوسری جماعت آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی‘‘ اور یہ وہ گروہ ہے جو دشمن کے مقابلے میں کھڑا تھا ﴿ فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ ﴾ ’’اب یہ گروہ آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے گروہ کے نماز سے چلے جانے کے بعد امام نماز میں باقی رہے اور دوسرے گروہ کا انتظار کرے جب دوسرا گروہ آجائے تو ان کے ساتھ اپنی باقی نماز پڑھے پھر بیٹھ جائے اور ان کا انتظار کرے جب وہ اپنی نماز مکمل کر لیں تو ان کے ساتھ سلام پھیرے۔یہ نماز خوف اد اکرنے کے متعدد طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ رسول اللہﷺسے نماز خوف کے متعدد طریقے مروی ہیں۔ ان تمام طریقوں سے نماز پڑھنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ نماز باجماعت دو وجوہ سے فرض عین ہے۔اول: اللہ تعالیٰ نے خوف کی اس شدید حالت میں یعنی دشمن کے حملہ کے خوف کی حالت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز کا حکم دیا ہے۔ جب اس شدید حالت میں بھی جماعت کو واجب قرار دیا ہے تو امن و اطمینان کی حالت میں اس کا واجب ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ثانی: نماز خوف ادا کرنے والے نمازی نماز کی بہت سی شرائط اور لوازم کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس نماز میں نماز کو باطل کرنے والے بہت سے افعال کو نظرانداز کر کے ان کو معاف کر دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ صرف جماعت کے وجوب کی تاکید کی بنا پر ہے۔ کیونکہ فرض اور مستحب میں کوئی تعارض نہیں۔ اگر جماعت کے ساتھ نماز کا پڑھنا فرض نہ ہوتا، تو اس کی خاطر نماز کے ان واجبات کو ترک کرنے کی کبھی اجازت نہ دی جاتی۔آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ افضل یہ ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ اگر ایسا کرنا کسی خلل کا باعث ہو تو متعدد ائمہ کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے اجتماع و اتفاق اور ان کے عدم افتراق کی خاطر ہے تاکہ یہ اتفاق ان کے دشمنوں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈال دے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز خوف کے اندر مسلح اور ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ نماز خوف میں اگرچہ کچھ زائد حرکات ہوتی ہیں اور نماز کے بعض احوال چھوٹ جاتے ہیں تاہم اس میں ایک راجح مصلحت ہے اور وہ ہے نماز اور جہاد کا اجتماع اور ان دشمنوں سے ہوشیار رہنا جو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور ان کے مال و متاع لوٹنے کے سخت حریص ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَدَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡ تَغۡفُلُوۡنَ عَنۡ اَسۡلِحَتِكُمۡ وَاَمۡتِعَتِكُمۡ فَيَمِيۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ مَّيۡلَةً وَّاحِدَةً﴾ ’’کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے بے خبر ہو جاؤ تو وہ تم پر اچانک دھاوا بول دیں۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے عذر کو قبول فرمایا جو کسی مرض یا بارش کی وجہ سے اپنا اسلحہ اتار دیتا ہے مگر بایں ہمہ وہ دشمن سے چوکنا ہے۔ ﴿ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ كَانَ بِكُمۡ اَذًى مِّنۡ مَّطَرٍ اَوۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسۡلِحَتَكُمۡ١ۚ وَخُذُوۡا حِذۡرَؔكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ﴾ ’’ہاں! اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ تمھیں تکلیف ہو بوجہ بارش کے یا تم بیمار ہو۔ اور بچاؤ کی چیزیں ساتھ رکھو۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ اور اس کا رسوا کن عذاب یہ ہے کہ اس نے اہل ایمان اور اپنے دین کے موحدین انصار کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کو جہاں کہیں پائیں ان کو پکڑیں اور ان کو قتل کریں، ان کے ساتھ جنگ کریں، ان کا محاصرہ کریں، ہر جگہ ان کے لیے گھات لگائیں اور ہر حال میں ان سے چوکنا رہیں۔ ان کی طرف سے کبھی غافل نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ کفار اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد و ثنا ہے کہ اس نے اہل ایمان پر احسان فرمایا اور اس نے اپنی مدد اور تعلیم کے ذریعے سے ان کی تائید فرمائی اگر وہ اس تعلیم پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہوں تو ان کاپرچم کبھی سرنگوں نہیں ہو سکتا اور کسی زمانے میں بھی دشمن ان پر غالب نہیں آ سکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَؔآىِٕكُمۡ ﴾ ’’جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہوجائیں۔‘‘ دلالت کرتا ہے کہ اس گروہ نے دشمن کے مقابلے میں جانے سے پہلے اپنی نماز مکمل کر لی تھی۔ اور یہ کہ رسول اللہﷺسلام پھیرنے سے پہلے دوسرے گروہ کے منتظر تھے۔ کیونکہ پہلے ذکر فرمایا کہ وہ گروہ نماز میں آپﷺکے ساتھ کھڑا ہو پس آپﷺسے ان کی مصاحبت کی خبر دی۔ پھر رسولﷺکو چھوڑ کر فعل کو ان کی طرف مضاف کیا یہ چیز ہمارے اس موقف پر دلالت کرتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَلۡتَاۡتِ طَآىِٕفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ ﴾ ’’پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے‘‘ اس امر پر دلیل ہے کہ پہلا گروہ نماز پڑھ چکا تھا۔ اور دوسرے گروہ کی تمام نماز امام کی معیت میں پڑھی گئی۔ ان کی پہلی رکعت حقیقی طور پر امام کے ساتھ تھی اور دوسری حکمی طور پر۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ امام ان کا انتظار کرے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز مکمل کر لیں پھر ان کے ساتھ سلام پھیرے۔ یہ چیز غور کرنے والے پر صاف واضح ہے۔