اور جو شخص مخالفت کرے رسول کی، بعد اس کے کہ واضح ہو گئی اس کے لیے ہدایت اور پیروی کرے سوائے راستے کے مسلمانوں کے تو پھیر دیں گے ہم اسے جدھر ، پھرتا ہے اور داخل کریں گے اس کو جہنم میں اور بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(115) یقیناً اللہ نہیں بخشے گا یہ کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دے گا جو علاوہ ہے اس کے، جس کے لیے چاہے گا اور جو شخص شریک ٹھہرائے اللہ کے ساتھ پس تحقیق گمراہ ہوگیا وہ گمراہ ہونا دور کا(116)
[115] یعنی جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت کرتا ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ سے عناد رکھتا ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد‘‘ یعنی دلائل قرآنی اور براہین نبوی کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد ﴿ وَيَتَّبِـعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے راستے کے خلاف چلے‘‘ اہل ایمان کے راستے سے مراد ان کے عقائد و اعمال ہیں ﴿ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى ﴾ ’’ہم اس کو پھیر دیتے ہیں اسی طرف جس طرف وہ پھرتا ہے‘‘ یعنی ہم اسے اور اس چیز کو جو اس نے اپنے لیے اختیار کی ہے چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتے ہیں اور ہم اسے بھلائی کی توفیق سے محروم کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر ترک کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جزا عدل و انصاف پر مبنی ہے کہ وہ اسے اس کی گمراہی میں حیران و پریشان چھوڑ دیتا ہے۔ اور وہ اپنی گمراہی میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف : 61؍5) ’’جب انھوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام : 6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہ لائے تھے (اب بھی ایمان نہ لائیں گے)۔‘‘اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت نہیں کرتا اور مومنین کے راستے کی اتباع کرتا ہے۔ اس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، رسول اللہﷺکی اتباع، اور مسلمانوں کی جماعت کی معیت کا التزام کرنا ہے۔ تب اگر اس سے کوئی گناہ صادر ہوتا ہے یا نفس کے تقاضے اور طبیعت کے غلبے کی بنا پر گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا تدارک کر دیتا ہے اور اسے برائی سے بچا کر اس پر احسان کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب یوسفuکے بارے میں فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ السُّوۡٓءَ وَالۡفَحۡشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(یوسف : 12؍24)’’تاکہ ہم اس طرح اس سے برائی اور بے حیائی کو روک دیں بلاشبہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔‘‘ یعنی یوسفuکے اخلاص کے سبب سے ان سے برائی کو دور کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ہر چنے ہوئے بندے کے ساتھ یونہی کرتا ہے۔ جیسا کہ علت کی عمومیت اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ وَنُصۡلِهٖ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم جہنم میں اسے بہت بڑے عذاب سے دوچار کریں گے ﴿ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ یعنی انجام کار یہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
[116] یہ وعید، جو رسول اللہﷺاور مومنین کی مخالفت پر مرتب ہوتی ہے گناہ کے چھوٹا بڑا ہونے کے اعتبار سے اس کے بہت سے مراتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا۔ ان میں سے بعض مراتب ایسے ہیں جو جہنم میں خلود کا باعث ہوں گے۔ باقی تمام اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور دوری کا موجب ہیں۔بعض گناہوں کا مرتبہ کمتر ہے۔ شاید دوسری آیت اس آیت کریمہ کے اطلاق کی تفصیل کی طرح ہے۔ یعنی شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی نہیں بخشے گا کیونکہ شرک اللہ رب العالمین، اور اس کی توحید میں نقص اور مخلوق کو، جو خود اپنے نفع و نقصان کی مالک نہیں، اس اللہ کے برابر قرار دینا ہے جو نفع و نقصان کا مالک ہے، ہر قسم کی نعمت صرف اسی کی طرف سے ہے، تمام تکلیفوں کو صرف وہی دور کرنے والا ہے ہر اعتبار سے کمال مطلق اور تمام وجوہ سے غنائے تام کا وہی مالک ہے۔ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ جس ہستی کی یہ عظمت و شان ہو، اس کی عبادت کے لیے اخلاص نہ ہو اور جو صفات کمال اور صفات غنا میں سے کسی چیز کی بھی مالک نہ ہو۔ بلکہ وہ عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا وجود نیست ہے، کمال نیست ہے، بے نیازی نیست ہے اور ہر لحاظ سے محتاجی ہی محتاجی ہے۔وہ گناہ جو شرک سے کمتر ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اپنی رحمت اور حکمت سے ان گناہوں کو بخش دے گا اور اگر چاہے گا تو اپنے عدل و حکمت سے ان کو عذاب دے گا۔اس آیت کریمہ سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ اجماع امت حجت ہے نیز یہ کہ وہ خطا سے محفوظ ہے۔ اس استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے راستے کی مخالفت کرنے پر جہنم اور خذلان کی وعید سنائی ہے اور مومنین کا راستہ مفرد اور مضاف ہے جو ان عقائد و اعمال پر مشتمل ہے جن پر تمام اہل ایمان عمل پیرا ہیں۔ جب تمام اہل ایمان کسی چیز کے وجوب، استحباب، تحریم، کراہت یا جواز پر متفق ہیں تو یہی ان کا راستہ ہے۔ اور جو کوئی اہل ایمان کے کسی چیز پر انعقاد اجماع کے بعد ان کی مخالفت کرتا ہے تو وہ اہل ایمان کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر گامزن ہے۔ اجماع امت کے حجت ہونے پر یہ آیت کریمہ بھی دلالت کرتی ہے ﴿ كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾(آل عمران : 3؍110) ’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لیے پیدا کی گئی ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔‘‘ اس آیت کریمہ میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اس امت کے اہل ایمان صرف نیکی ہی کا حکم دیتے ہیں، لہٰذا جب وہ کسی چیز کے وجوب یا استحباب پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ گویا وہ چیز ہے جس کا انھیں حکم دیا گیا۔ پس آیت کریمہ کی نص سے متعین ہو گیا کہ وہ معاملہ معروف ہی ہو گا اور معروف کے علاوہ جو کچھ ہے وہ منکر ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی چیز سے منع کرنے پر متفق ہو جاتے ہیں تو وہ انھی باتوں میں سے ہے جن سے انھیں روکا گیا ہے، پس وہ یقینا منکر ہے۔ اسی کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ ﴾(البقرۃ : 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں ’’امت وسط‘‘ بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اس امت کو معتدل اور بہترین امت بنایا ہے تاکہ وہ ہر چیز کے بارے میں لوگوں پر گواہ بنیں۔ جب وہ کسی حکم کے بارے میں یہ گواہی دیں کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے یا اس نے اس کو مباح قرار دیا ہے۔ تو ان کی شہادت معتبر اور معصوم ہے کیونکہ وہ جس چیز کی شہادت دے رہے تھے اس کا علم رکھتے ہیں اور اپنی شہادت میں عادل ہیں۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ اپنی شہادت میں عادل اور اس کا علم رکھنے والے نہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی اس کی نظیر ہے ﴿ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِيۡ شَيۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ ﴾(النساء : 4؍59) ’’اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو جائے تو معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔‘‘اس آیت کریمہ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جس معاملہ میں انکے درمیان کوئی اختلاف نہیں بلکہ اتفاق ہے، اسے وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے پر مامور نہیں ہیں۔ ایسا معاملہ قرآن اور سنت کے موافق ہی ہوگا، مخالف نہیں ہوسکتا۔ ان دلائل سے قطعی طور پر یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اس امت کا اجماع حجت ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی گمراہی کی برائی بیان کرتے ہوئے فرمایا: