اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک عنقریب ہم داخل کریں گے ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، وعدہ ہے اللہ کا سچااور کون زیادہ سچا ہے اللہ سے قول (و قرار) میں؟(122)
[122] یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر علم، تصدیق اور اقرار کے ساتھ اس طرح ایمان لائیں جس طرح ان کو حکم دیا گیا ہے۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور نیک کام کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ اعمال جو ایمان سے جنم لیتے ہیں اور یہ تمام مامورات کو شامل ہے، چاہے وہ فرض ہوں یا مستحب، ان کا تعلق اعمال قلب سے ہو، اعمال لسان سے ہو اور بقیہ اعمال جوارح سے۔ ہر شخص کے لیے اس کے حال و مقام، اس کے ایمان اور عمل صالح کی تکمیل کے مطابق ثواب مرتب ہوتا ہے۔ ایمان و عمل میں جو کوتاہی واقع ہوتی ہے اس پر مترتب ہونے والا ثواب اس کی تلافی کر دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کے مطابق ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسولﷺکے تتبع سے معلوم کیا جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس پر مترتب ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’ہم انھیں ان باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں‘‘ جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو اس سے پہلے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کس بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ جنت میں مختلف انواع کے ماکولات، لذیذ قسم کے مشروبات، دلکش نظارے، حسین و جمیل بیویاں ، خوبصورت محل، آراستہ کیے ہوئے بالا خانے، پھل سے لدے ہوئے درخت، عجیب و غریب میوے، مسحور کن آوازیں، وافر نعمتیں، دوستوں کی مجلسیں اور جنت کے باغات میں اپنی یادوں کے تذکرے اور سب کچھ ہو گا۔ان سب سے اعلیٰ اور جلیل ترین نعمت جو جنت میں عطا ہو گی وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا، روح کا اس کے قرب سے فیض یاب ہونا، آنکھوں سے اس کا دیدار کرنا اور کانوں سے اس کے خطاب کو سننا۔ یہ نعمت بندے کو ہر نعمت و مسرت فراموش کرا دے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثبات و استقامت عطا نہ کی گئی ہو تو بندے خوشی سے اڑ جائیں اور فرحت و مسرت سے مر جائیں۔اللہ اللہ! کتنی شیریں ہو گی یہ نعمت اورکتنے بلند مرتبہ ہوں گے وہ انعامات جو رب کریم ان کو عطا کرے گا اور وہ بھلائی اور مسرت جو انھیں حاصل ہو گی۔ کوئی شخص ان کا وصف بیان نہیں کر سکتا اور ان تمام نعمتوں کا اتمام اور ان کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ان عالی شان منازل میں ہمیشہ رہیں گے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيۡلًا ﴾ ’’اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے بڑھ کر سچا ہے‘‘ اللہ عظیم نے سچ فرمایا ہے، اس کا قول اور اس کی بات سچائی کے بلند ترین مرتبے پر پہنچی ہوئی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سچا ہے اور اس کی خبر سچی ہے، اس لیے اس کا کلام جس چیز پر دلالت کرتا ہے وہ بھی اس کے مطابق اور سچائی کو متضمن ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے کلام سے مراد ہے۔اسی طرح رسول اللہﷺکا کلام سچا ہے اور سچائی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہﷺصرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے خبر دیتے ہیں اور آپ صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے ہی کلام کرتے ہیں۔