Tafsir As-Saadi
4:123 - 4:124

نہیں ہے (مدار) تمھاری خواہشات پر اور نہ خواہشات پر اہل کتاب کی(بلکہ) جو کوئی عمل کرے گا برا، بدلہ دیا جائے گا ساتھ اس کے اور نہیں پائے گا وہ سوائے اللہ کے کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار(123) اور جو کوئی عمل کرے گا نیک مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو، پس یہ لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ تل برابر (بھی)(124)

[123] یعنی معاملہ، نجات اور تزکیہ تمھاری اور اہل کتاب کی خواہشات پر مبنی نہیں۔ (اَلْاَمَانِيِّ) سے مراد ایسی خواہشات اور تمنائیں ہیں جو عمل سے عاری اور محض دعویٰ ہوں۔ اگر ان تمناؤں کا مقابلہ ان جیسی دیگر تمناؤں سے کیا جائے تو یہ ان کی جنس میں شمار ہوں گی۔ ہر امر میں تمنا اور آرزو کا یہی معاملہ ہے۔ تب ایمان اور ابدی سعادت محض خواہشات اور آرزوؤں سے کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟ اہل کتاب کی جھوٹی خواہشات اور تمناؤں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ کر چکا ہے، وہ کہا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔‘‘ یہ تو تھے اہل کتاب، اور دیگر لوگ جو کسی کتاب اور کسی رسول کی طرف منسوب نہیں۔ ان کی آرزوئیں تو بدرجہ اولیٰ باطل ہیں۔اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کامل عدل و انصاف کی بنا پر ان لوگوں کو بھی اس دائرے میں شامل کیا ہے جو اپنے آپ کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں۔ اگر انسان اپنے دعویٰ کی صحت پر دلیل و برہان فراہم نہ کرے تو کسی بھی دین کی طرف مجرد انتساب کسی کام نہیں آتا۔ اعمال دعوے کی تصدیق یا تکذیب کرتے ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًؔا يُّجۡزَ بِهٖ ﴾ ’’جو برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ اصول تمام عاملین کو شامل ہے کیونکہ (سوء) ’’برائی‘‘ کا اطلاق چھوٹے یا بڑے ہر قسم کے گناہ پر ہوتا ہے اسی طرح ’’جزا‘‘ میں تھوڑی یا زیادہ، دنیاوی یا اخروی ہر قسم کی جزا شامل ہے۔اس مقام پر لوگ بے شمار درجات میں منقسم ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے نیک (یا برے) اعمال بہت کم ہوں گے اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے نیک (یا برے) اعمال بہت زیادہ ہوں گے۔ پس جن کے اعمال سارے کے سارے برائی پر مشتمل ہوں گے اور ایسے لوگ صرف کافر ہی ہوں گے جب ان میں سے کوئی توبہ کیے بغیر مر جائے تو اس کی جزا یہ ہو گی کہ وہ دردناک عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس کے اعمال نیک ہوں گے اور وہ اپنے غالب احوال میں درست طرز عمل اپنانے والا ہو گا، البتہ کبھی کبھار اس سے چھوٹے موٹے گناہ صادر ہو جاتے رہے ہوں گے تو اس کو اپنے بدن، قلب، اپنے محبوب شخص یا مال و منال میں جو رنج و غم اور اذیت و الم پہنچتے ہیں تو یہ تکالیف بھی اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ ان دو حالتوں کے درمیان بہت سے مراتب ہیں۔عام برے عمل کی یہ جزا صرف ان لوگوں سے مخصوص ہے جو توبہ نہیں کرتے، کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔ جیسا کہ نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ وَلَا يَجِدۡ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہیں پائے گا وہ اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار‘‘ یہ اس وہم کے ازالہ کے لیے ہے کہ شاید وہ شخص جو اپنے (برے) عمل پر بدلے کا مستحق ہے، یہ زعم رکھتا ہو کہ کبھی اس کا کوئی حمایتی یا مددگار یا کوئی سفارشی اس سے عذاب کو دور کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی نفی کی ہے، اس کا کوئی حمایتی نہیں ہو گا جو اس کے لیے اس کا مطلوب حاصل کر سکے اور نہ اس کا کوئی مددگار ہو گا جو اس کا ڈر دور کر سکے سوائے اس کے رب اور مالک کے۔
[124]﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جونیک اعمال کرے‘‘ اس میں تمام اعمال قلب اور اعمال بدن شامل ہیں۔ اور عمل کرنے والوں میں جن و انس، چھوٹا بڑا اور مرد و عورت سب داخل ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ مِنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ ’’مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو‘‘ ایمان تمام اعمال کی قبولیت کے لیے اولین شرط ہے۔ کوئی عمل اس وقت تک نیک ہو سکتا ہے نہ قبول اور نہ اس پر ثواب مترتب اور نہ وہ کسی عذاب سے بچا سکتا ہے جب تک کہ عمل کرنے والا مومن نہ ہو۔ ایمان کے بغیر اعمال اس درخت کی شاخوں کی مانند ہیں جس کی جڑ کاٹ دی گئی ہو اور اس عمارت کی مانند ہیں جسے پانی کی موج پر تعمیر کیا گیا ہو۔ ایمان درحقیقت وہ اصل، اساس اور قاعدہ ہے جس پر ہر چیز کی بنیاد ہے اس قید کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ہر عمل جو مطلقا بیان کیا گیا ہو وہ ایمان کی قید سے مقید ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’تو ایسے لوگ‘‘ یعنی وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں ﴿ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ ایسی جنت میں داخل ہوں گے جو ان نعمتوں پر مشتمل ہو گی جنھیں نفس چاہتے ہیں اور آنکھیں جن سے لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ نَقِيۡرًا ﴾ ’’اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔‘‘ ان کے اعمال خیر میں ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہو گی۔ بلکہ وہ ان اعمال کا پورا پورا، وافر اور کئی گنا اجر پائیں گے۔