Tafsir As-Saadi
4:140 - 4:141

اور تحقیق نازل کیا ہے اس نے تم پر کتاب میں یہ کہ جب سنو تم آیتیں اللہ کی، کہ کفر کیا جارہا ہو ساتھ ان کے اور استہزاء کیا جارہا ہو ساتھ ان کے تو نہ بیٹھو تم ان کے ساتھ، یہاں تک کہ مشغول ہو جائیں وہ کسی اور بات میں اس کے علاوہ۔ بلاشبہ تم اس وقت ان جیسے ہی ہو گے تحقیق اللہ جمع کرنے والا ہے منافقوں اور کافروں کو جہنم میں سب کو(140) جو (منافق) انتظار کرتے ہیں تمھاری بابت، پھر اگر ہو تمھارے لیے فتح اللہ کی طرف سے تو کہتے ہیں کیا نہ تھے ہم تمھارے ساتھ؟ اور اگر ہو واسطے کافروں کے حصہ (غلبہ) تو کہتے ہیں کیا نہ غالب آنے لگے تھے ہم تم پراور (کیا نہ) بچایا تھا ہم نے تمھیں مسلمانوں سے؟ پس اللہ فیصلہ کرے گا تمھارے درمیان دن قیامت کےاور ہرگز نہیں کرے گا اللہ کافروں کے لیے اوپر مومنوں کے کوئی راہ (غلبے کی)(141)

[140] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں کفر اور معاصی کی مجالس میں موجود ہونے کی صورت میں اپنا شرعی حکم واضح کر دیا ہے۔ ﴿ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُ بِهَا﴾ ’’کہ جب تم (کہیں) سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جارہی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں ہر مکلف شخص پر فرض ہے کہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم و تکریم کرے۔ ان کو نازل کرنے کا یہی مقصد ہے اور اسی کی خاطر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام کائنات تخلیق کی ہے۔ پس ان پر ایمان لانے کی ضد ان کے ساتھ کفر کرنا، اور ان کی تعظیم و تکریم کی ضد ان کے ساتھ استہزاء اور ان کی تحقیر کرنا ہے۔ نیز اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ابطال کے لیے کفار و منافقین کا مجادلہ اور ان کی اپنے کفر کی تائید کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح ہر قسم کے بدعتی بھی داخل ہیں کیونکہ ان کا اپنے باطل نظریات کے لیے استدلال کرنا اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کو متضمن ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات حق کے سوا کسی چیز پر دلالت نہیں کرتیں اور صدق کے سوا کسی چیز کو مستلزم نہیں۔اسی طرح اس حکم میں ان مجالس کی حاضری بھی شامل ہے جن میں فسق و فجور اور معصیت کے کام ہوتے ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی اہانت ہوتی ہے اور اس کی حدود توڑی جاتی ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کی ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت کا منتہی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِيۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖۤ ﴾ ’’حتی کہ وہ اور باتیں کرنے لگیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور استہزاء کے سوا کوئی اور بات کرنے لگیں ﴿اِنَّـكُمۡ اِذًا﴾ ’’ورنہ تم بھی (ان ہی جیسے) ہوجاؤ گے۔‘‘ یعنی اگر تم آیت کریمہ میں مذکور حالت میں ان کے ساتھ بیٹھو گے ﴿ مِّؔثۡلُهُمۡ ﴾ ’’تو ان جیسے شمار ہو گے‘‘ کیونکہ تم ان کے کفر و استہزاء پر راضی تھے۔ کسی معصیت کے فعل پر راضی ہونا اس فعل کے ارتکاب کی مانند ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی ایسی مجلس میں موجود ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جا رہی ہو تو قدرت رکھتے ہوئے اس نافرمانی پر نکیر کرنا اور اس سے روکنا واجب ہے۔ اگر روکنے کی قدرت نہ ہو تو اس مجلس سے اٹھ کر چلا جانا ضروری ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡكٰفِرِيۡنَ فِيۡ جَهَنَّمَ جَمِيۡعًا﴾ ’’یقینا اللہ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے‘‘ جیسے وہ اس دنیا میں کفر و موالات پر مجتمع ہیں۔منافقین کو، ان کا ظاہری طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہونا، کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ١ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا١ؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ۰۰ يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ۰۰فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا١ؕ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾(الحدید : 57؍13۔15) ’’اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے، ٹھہرو! ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں! ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب، منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں تم ہمارے ساتھ تو تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم حوادث زمانہ کے منتظر رہے، تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا، جھوٹی آرزوؤں نے تمھیں دھوکے میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا اور تمھیں شیطان دھوکے باز دھوکہ دیتا رہا۔ آج تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے اور وہی تمھارا دوست ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ منافقین کی کفار کے ساتھ موالات اور اہل ایمان کے ساتھ عداوت متحقق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَرَبَّصُوۡنَ بِكُمۡ ﴾ ’’جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔‘‘ یعنی مستقبل میں تمھارے اچھے یا برے حالات کے منتظر ہیں انھوں نے اپنے نفاق کے مطابق ہر حالت کے بارے میں جواب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ فَتۡحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ ﴾’’پھر اگر اللہ تمھیں فتح دے تو یہ کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہیں تھے؟‘‘ وہ ظاہر کریں گے کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ تھے تاکہ طعن و تشنیع سے بچ سکیں نیز فے اور مال غنیمت میں سے حصہ وصول کر سکیں اور ان کے ساتھ مل کر وہ محفوظ رہیں۔﴿ وَاِنۡ كَانَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر کافروں کی فتح ہو کیونکہ ان کو ایسی فتح حاصل نہیں ہوتی جو ان کی دائمی نصرت کی ابتدا ہو۔ اگر ان کے لیے کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی انتہا یہ ہے کہ وہ عارضی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت حال ہوتی ہے ﴿ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے‘‘ ﴿ وَنَمۡنَعۡكُمۡ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾’’اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا نہیں؟‘‘ یعنی وہ کفار کے پاس بناوٹ اور تصنع سے کام لے کر ان سے کہتے تھے کہ قدرت اور طاقت کے باوجود انھوں نے ان سے لڑائی نہیں کی اور ان کو مسلمانوں سے بچائے رکھا اور وہ ہر لحاظ سے جنگ کے لیے گھر سے نکلنے سے رکے رہے، لڑائی سے گریز کرتے رہے اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتے رہے۔ اور ان کے بارے میں یہ تمام امور معروف ہیں۔﴿ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ کرے گا‘‘ اور اہل ایمان کو، ظاہری اور باطنی طور پر، بدلے میں جنت عطا کرے گا اور منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ﴿ وَلَنۡ يَّجۡعَلَ اللّٰهُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔‘‘ یعنی اللہ کفار کو اہل ایمان پر کبھی تسلط اور غلبہ عطا نہیں کرے گا، بلکہ اہل ایمان کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ اللہ اس جماعت کی مدد کرے گا، جو ان سے علیحدہ ہو گا اور ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان کی فتح و نصرت کے اسباب پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ اور کفار کا تسلط ختم ہوتا چلا جائے گا اور اس کا واضح طور پر مشاہدہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ بعض مسلمان، جن پر کفار حکومت کرتے ہیں وہ ان کے ہاں قابل احترام ہیں وہ ان کے دین سے کوئی تعرض نہیں کرتے وہ ان کے ہاں کمزور اور ماتحت بن کر نہیں رہتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو پوری عزت عطا کی گئی ہے۔ اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔