Tafsir As-Saadi
4:142 - 4:143

بلاشبہ منافق فریب دیتے ہیں اللہ کو اور وہ (بھی) فریب دینے والا ہے ان کواور جب کھڑے ہوتے ہیں طرف نماز کی تو کھڑے ہوتے ہیں کاہلی سے، دکھلاتے ہیں لوگوں کو اور نہیں یاد کرتے اللہ کو مگر بہت تھوڑا(142) متردد ہیں درمیان اس (کفرو ایمان) کے، نہ ان کی طرف اور نہ ان کی طرف اور جس کو گمراہ کرے اللہ، پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(143)

[142] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی قبیح صفات اور مکروہ علامات کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ ان کا طریق اللہ کو فریب دینا ہے یعنی بظاہر وہ مومن ہیں مگر باطن میں کافر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے دیں گے اور اللہ تعالیٰ کو ان کے کرتوتوں کا علم نہیں اور وہ ان کا دھوکا اپنے بندوں پر ظاہر نہیں کرے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ خود ان کو دھوکے میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا مجرد یہ حال ہونا اور اس راستے پر گامزن رہنا ان کا اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کرنا ہے بھلا اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص پوری دوڑ دھوپ کرے مگر اس کا ماحصل رسوائی، ذلت اور محرومی کے سوا کچھ نہ ہو۔ یہ چیز اس شخص کی کم عقلی پر دلالت کرتی ہے کہ وہ معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے نیکی خیال کرتا ہے اور اسے بڑی عقل مندی اور چال بازی سمجھتا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جہالت اور خذلان اسے کس انجام پر پہنچائیں گے۔قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دھوکہ یہ ہو گا۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے ﴿ يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ١ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا١ؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ۰۰ يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ …﴾(الحدید : 57؍13) ’’اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے ٹھہرو ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں، ان سے کہا جائے گا پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو، پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب۔ منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟‘‘ان منافقین کی صفات یہ ہیں ﴿ وَاِذَا قَامُوۡۤا اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾ ’’جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ نماز جو کہ سب سے بڑی عملی نیکی ہے۔ اگر وہ نماز کے لیے کھڑے ہو ہی جاتے ہیں ﴿ قَامُوۡا كُسَالٰى ﴾ ’’تو سست ہوکر۔‘‘ یعنی بوجھل پن کے ساتھ تنگ دل اور زچ ہو کر اٹھتے ہیں۔’’کاہلی‘‘ کا اطلاق ان پر تب ہوتا ہے جب ان کے دلوں میں رغبت کا فقدان ہو، اگر انکے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب کی طرف رغبت سے خالی نہ ہوتے اور ان میں ایمان معدوم نہ ہوتا تو ان سے سستی اور کسل مندی کبھی صادر نہ ہوتی۔ ﴿ يُرَؔآءُوۡنَ النَّاسَ ﴾ ’’لوگوں کے دکھانے کو۔‘‘ یعنی یہ ان کی فطرت ہے اور یہی ان کے اعمال کا مصدر ہے۔ ان کے اعمال لوگوں کے دکھاوے کے لیے ہیں انکا مقصد محض ریاکاری اور لوگوں سے تعظیم اور احترام حاصل کرنا ہے۔ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص نہیں کرتے۔ لہٰذا فرمایا: ﴿ وَلَا يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت کم۔‘‘ کیونکہ ان کے دل ریا سے لبریز ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کا التزام صرف مومن ہی کر سکتا ہے، کیونکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت سے لبریز ہے۔
[143]﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں۔ نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف۔‘‘ یعنی وہ اہل ایمان اور کفار کے گروہوں کے درمیان متذبذب اور متردد ہیں۔ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہیں نہ کفار کے ساتھ۔ انھوں نے اپنا باطن کفار کو عطا کر رکھا ہے اور ظاہر مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اور یہ سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور جس کو اللہ بھٹکائے تو آپ اس کے لیے کبھی بھی راستہ نہیں پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ اس کی ہدایت کا کوئی راستہ اور اس کو گمراہی سے بچانے کے لیے کوئی وسیلہ نہیں پائیں گے کیونکہ اس پر رحمت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اس کی رحمت کی بجائے اللہ تعالیٰ کا غضب و انتقام اس کا نصیب بن چکا ہے۔یہ تمام مذموم اوصاف اشارتاً دلالت کرتے ہیں کہ اہل ایمان ان کی متضاد صفات سے متصف ہیں اور وہ ہیں ظاہر و باطن میں صدق اور اخلاص۔ انھیں اپنی نمازوں، عبادات اور کثرت ذکر الٰہی میں جو نشاط حاصل ہوتا ہے وہ سب معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت عطا کی اور صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ پس ایک عقل مند شخص کو چاہیے کہ وہ ان دو امور پر غور کرے اور جو اس کے لیے بہتر ہے اسے اختیار کر لے۔ واللہ المستعان۔