بے شک جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور چاہتے ہیں وہ کہ تفریق کریں درمیان اللہ اور اس کے رسولوں کے اور کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں ساتھ بعض کے اور کفر کرتے ہیں ساتھ بعض کے اور وہ چاہتے ہیں کہ اختیار کریں درمیان اس کے کوئی راہ(150) یہ لوگ، وہی ہیں کافر اصل اور ہم نے تیار کیا ہے واسطے کافروں کے عذاب رسواکن(151) اور جو لوگ ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور نہیں تفریق کی انھوں نے درمیان کسی ایک کے ان میں سے یہ لوگ ہیں جلد دے گا ان کو (اللہ) اجر ان کے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(152)
[150] یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (۲) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں ۔پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾(البقرۃ: 2؍98) ’’جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔‘‘اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔
[152,151] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔‘‘ اور (حقا) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا مرتبہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے۔ اور ان کے کافر ہونے کی… یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں … وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انھوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ یا اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں .... تب اس کے بعد سوائے خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں ۔ جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔ ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾’’اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ جس طرح انھوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾ ’’اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنھیں لے کر انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمۡ يُفَرِّؔقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔‘‘ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں ) کے صلے عطا فرمائے گا۔‘‘ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حسب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔