Tafsir As-Saadi
4:148 - 4:149

نہیں پسند کرتا اللہ اونچی آواز سے برائی کی بات کرنے کو مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو اور ہے اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا(148) اگر تم علانیہ کرو کوئی بھلائی یا خفیہ کرو اسے یا معاف کر دو برائی کو تو اللہ (بھی) ہے بہت معاف کرنے والا بڑی قدرت والا(149)

[148] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی اعلانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچاتے ہیں ، مثلاً: گالی گلوچ، قذف اور سب و شتم کرنا۔ اس لیے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے ، مثلاً: ذکر الٰہی، اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ﴾ ’’مگر وہ جو مظلوم ہو۔‘‘ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لیے بد دعا کر سکتا ہے، شکایت کر سکتا ہے اور اس شخص کو اعلانیہ بری بات کہہ سکتا ہے جس نے اعلانیہ بری بات کہی ہے، البتہ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس پر بہتان لگائے یا اس کے ظلم سے بڑھ کر زیادتی کرے یا ظالم کے علاوہ کسی اور کو گالی وغیرہ دے۔ بایں ہمہ معاف کر دینا اور ظلم و زیادتی میں مقابلہ نہ کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری: 42؍40)’’پس جس کسی نے معاف کر دیا اور اصلاح کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًا عَلِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ (سب کچھ) سنتا، جانتا ہے۔‘‘ چونکہ آیت کریمہ برے، اچھے اور مباح کلام کے احکام پر مشتمل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ وہ سننے والا ہے، تمھارے اقوال سنتا ہے اس لیے ایسی بات کہنے سے بچو جو تمھارے رب کی ناراضی کا باعث بنے اور وہ تمھیں سزا دے۔ اس آیت کریمہ میں اچھی بات کہنے کی بھی ترغیب ہے ﴿ عَلِيۡمًا ﴾ وہ تمھاری نیتوں اور تمھارے اقوال کے مصدر کو جانتا ہے۔
[149] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ تُبۡدُوۡا خَيۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡهُ ﴾ ’’اگر تم بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔‘‘ یہ قولی و فعلی، ظاہری و باطنی ، واجب و مستحب ہر بھلائی کو شامل ہے۔ ﴿اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’یا برائی سے درگزر کروگے۔‘‘ یعنی وہ شخص جو تمھارے بدن، تمھارے اموال اور تمھاری عزت و ناموس کے معاملے میں تمھارے ساتھ برا سلوک کرے تم اسے معاف کر دو کیونکہ عمل کی جزا عمل کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے جو کسی کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيۡرًا ﴾ ’’تو اللہ بھی معاف کرنے والا صاحب قدرت ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے بندوں کی لغزشوں اور ان کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور ان کی پردہ پوشی کرتا ہے اور کامل عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے ان سے معاملہ کرتا ہے۔ جو اس کی قدرت کاملہ سے صادر ہوتے ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے معانی میں تدبر و تفکر کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ خلق و امر ان اسماء و صفات سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اسماء و صفات خلق و امر کا تقاضا کرتے ہیں ۔ بنابریں اسمائے حسنی کو احکام کی علت بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے عمل اور برا سلوک کرنے والے کو معاف کر دینے کا ذکر کیا ہے اس لیے اس نے اس پر یہ امر مرتب فرمایا کہ اس نے اپنے اسماء کی معرفت کو ہمارا مدار بنا دیا اور یہ چیز ہمیں ان اسماء حسنی کے ثواب خاص کے ذکر سے مستغنی کرتی ہے۔