اے لوگو! تحقیق آگیا تمھارے پاس یہ رسول حق لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ایمان لاؤ تم، (ہوگا یہ) بہتر تمھارے لیے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور ہے اللہ خوب جاننے والا حکمت والا(170)
[170] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں ۔ اس نے اس سبب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ایمان کا موجب ہے اور ایمان کے اندر جو فوائد اور عدم ایمان کے اندر جو نقصانات ہیں ان سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ایمان کا موجب سبب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دینا ہے کہ رسول اللہﷺ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ۔ آپ کی تشریف آوری فی نفسہ حق اور جو شریعت آپ لائے ہیں وہ بھی حق ہے۔عقلمند شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ مخلوق کا اپنی جہالت میں سرگرداں رہنا اور اپنے کفر میں ادھر ادھر مارے مارے پھرنا جبکہ رسالت منقطع ہو چکی ہو .... اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی رحمت کے لائق نہیں ۔ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف رسول کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ان کو گمراہی اور ضلالت میں سے رشد و ہدایت کی پہچان کروائیں ۔ آپﷺ کی رسالت میں مجرد غور و فکر ہی آپ کی نبوت کی صداقت کی قطعی دلیل ہے۔ اسی طرح اس عظیم شریعت اور صراط مستقیم میں غور و فکر، جس کے ساتھ آپ تشریف لائے ہیں ۔ آپﷺ کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اس میں گزشتہ زمانوں اور آئندہ آنے والے زمانوں کے امور غیبیہ نیز اللہ تعالیٰ اور روز آخرت کے بارے میں ایسی ایسی خبریں دی گئی ہیں کہ کوئی شخص وحی اور رسالت کے بغیر ان کی معرفت حاصل نہیں کر سکتا اور اس میں ہر قسم کی خیر و صلاح، رشد و ہدایت، عدل و احسان، صدق، نیکی، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کا حکم دیا گیا ہے اور ہر قسم کے شر، فساد، بغاوت، ظلم، بدخلقی، جھوٹ اور والدین کی نافرمانی سے روکا گیا ہے جن کے بارے میں قطعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بندے کی بصیرت میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے پس یہ ہے وہ سبب جو بندے کو ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ رہی ایمان میں فائدے کی بات تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ﴿خَيۡرًا لَّـكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ خیر، شر کی ضد ہے۔ پس ایمان اہل ایمان کے ابدان، ان کے دلوں ، ان کی ارواح اور ان کی دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ ایمان پر مصالح اور فوائد مترتب ہوتے ہیں ، چنانچہ ہر قسم کا ثواب، خواہ وہ اسی دنیا میں حاصل ہو یا آخرت میں ، ایمان ہی کا ثمرہ ہے اور فتح و نصرت، ہدایت، علم، عمل صالح، مسرتیں ، فرحتیں ، جنت اور جنت کی تمام نعمتیں ، ان سب کا سبب ایمان ہے۔ جیسے دنیاوی اور اخروی بدبختی عدم ایمان یا نقص ایمان کے باعث ہے۔رہا رسول اللہﷺ پر عدم ایمان کا ضرر تو اسے ان فوائد کی ضد سے معلوم کیا جا سکتا ہے جو ایمان کے باعث حاصل ہوتے ہیں اور بندہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ تمام گناہ گاروں کا گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔‘‘ یعنی زمین و آسمان میں ہر چیز اس کی مخلوق، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر اور تصرف کے تحت ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘ ﴿حَكِيۡمًا ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت کا مالک ہے۔ پس وہ جانتا ہے کہ کون ہدایت اور کون گمراہی کا مستحق ہے۔ ہدایت اور گمراہی کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنے میں وہ حکمت سے کام لیتا ہے۔