اے لوگو! تحقیق آگئی تمھارے پاس ایک دلیل تمھارے رب کی طرف سےاور نازل کیا ہم نے تمھاری طرف ایک نور واضح(174) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور مضبوط پکڑا اس کو تو وہ ضرور داخل کرے گا ان کو اپنی رحمت اور فضل میں اور بتلا دے گا ان کو اپنے تک (پہنچنے کے لیے) راہ سیدھی(175)
[174] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں پر احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ان تک براہین قاطعہ اور واضح روشنی پہنچائی، ان پر حجت قائم کرتا ہے اور ان کے سامنے ہدایت کی راہ واضح کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمۡ بُرۡهَانٌؔ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’لوگو! تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس دلیل آچکی ہے۔‘‘ یعنی تمھارے پاس حق کی تائید میں قطعی دلائل آچکے ہیں جو حق کو واضح کرتے ہیں اور اس کی ضد کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ براہین دلائل عقلیہ، دلائل نقلیہ، آیات افقی اور آیات نفسی پر مشتمل ہیں ، فرمایا:﴿سَنُرِيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا فِي الۡاٰفَاقِ وَفِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُ الۡحَقُّ﴾(حم السجدہ: 41؍53) ’’ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کی ذات میں نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہو جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ اس برہان و دلیل کی عظمت و شرف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ تمھارے رب کی طرف سے ہے جس نے تمھاری دینی اور دنیوی تربیت کی ہے۔ یہ اس کی تربیت ہی ہے جس پر اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے تمھیں دلائل عطا کیے تاکہ وہ صراط مستقیم کی طرف تمھاری راہنمائی کرے اور تمھیں نعمتوں سے بھری ہوئی جنتوں تک پہنچائے۔﴿وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ نُوۡرًؔا مُّبِيۡنًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے تمھاری طرف واضح نور‘‘ وہ یہی قرآن عظیم ہے جو اولین و آخرین کے علوم، سچی خبروں ، عدل و احسان اور بھلائی کے احکام اور ہر قسم کے ظلم اور شر سے ممانعت پر مشتمل ہے۔ لوگ اگر قرآن سے روشنی حاصل کر کے اپنی راہوں کو روشن نہیں کریں گے تو اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اگر انھوں نے قرآن سے بھلائی کو حاصل نہ کیا تو بہت بڑی بدبختی میں پڑے رہیں گے۔
[175]تاہم قرآن عظیم پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں :(۱)﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف کیا اور یہ تسلیم کیا کہ وہ تمام اوصاف کاملہ سے متصف اور ہر نقص اور ہر عیب سے منزہ ہے۔ ﴿وَاعۡتَصَمُوۡا بِهٖ ﴾ ’’اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ہاں پناہ لی اور اپنی قوت اور طاقت سے بری ہو کر اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَسَيُدۡخِلُهُمۡ۠ فِيۡ رَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ وَفَضۡلٍ﴾ ’’ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کی بہشتوں ) میں داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت سے ڈھانپ لے گا، انھیں نیکیوں کی توفیق عنایت کرے گا، انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے گا اور ان سے بلائیں دور کرے گا ﴿وَّيَهۡدِيۡهِمۡ اِلَيۡهِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور اپنی طرف (پہنچنے کا)سیدھا راستہ دکھائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں علم و عمل کی توفیق اور انھیں حق اور اس پر عمل کی معرفت عطا کرے گا۔(۲) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے، اللہ کے پاس پناہ نہ لی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کر دے گا ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دے گا۔ انھوں نے ہدایت کی راہ کو اختیار نہ کیا بلکہ وہ واضح طور پر گمراہی میں جا پڑے۔ ایمان ترک کرنے پر یہ ان کی سزا ہے، پس ناکامی اور محرومی ان کا نصیب بن گئی ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے عفو، عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں ۔