وہ(فرشتے)جو اٹھائے ہوئے ہیں عرش کو اورجو اس کےاردگرد ہیں وہ پاکیزگی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور ایمان رکھتے ہیں اس پر اور بخشش مانگتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، (کہ) اے ہمارے رب! گھیر لیا ہے تو نے ہر چیز کو (اپنی) رحمت اور علم سے، پس بخش دے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی اور پیروی کی تیرے راستے کی اور بچا ان کو عذاب دوزخ سے(7) اے ہمارے رب! اور داخل کر ان کو باغوں میں (جو) ہمیشہ رہنے والے (ہیں) وہ جن کا وعدہ کیا ہے تو نے ان سے اورجو نیک ہوئے ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اوران کی اولاد میں سے، بے شک تو بڑا غالب نہایت حکمت والا ہے(8) اور بچا ان کو برائیوں سے اور جس کو تو بچائے گا برائیوں سے اس دن، تو تحقیق رحم کر دیا تو نے اس پر، اور یہی ہے کامیابی بڑی(9)
[7] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لیے مقرر فرمائے ہیں، یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً: ان کے لیے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لیے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتے اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اور اسی طرح اپنے رب کے قریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لیے ان کی خیرخواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ يَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ ﴾ ’’جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی رحمٰن کا عرش، جو تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ جو تمام مخلوقات میں سب سے بڑا، سب سے وسیع، سب سے خوبصورت اور اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے، جو زمین و آسمان اور کرسی پر چھایا ہوا ہے۔ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عرش اٹھانے پر مقرر کیا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب سے بڑے اور سب سے طاقتور فرشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان فرشتوں کو اپنا عرش اٹھانے کے لیے چن لینا، ذکر میں ان کو مقدم رکھنا اور ان کو اپنے قرب سے سرفراز کرنا دلالت کرتا ہے کہ یہ سب سے افضل فرشتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾(الحاقۃ: 69؍17)’’اور اس روز تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔‘‘﴿وَمَنۡ حَوۡلَهٗ﴾ ’’اور جو اس کے اردگرد ہیں‘‘ یعنی قدرومنزلت اور فضیلت میں اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں۔‘‘ یہ ان فرشتوں کی، ان کی کثرت عبادت خاص طور پر تسبیح و تحمید کی بنا پر مدح ہے۔ تسبیح و تحمید میں تمام عبادات داخل ہیں کیونکہ تمام عبادات کے ذریعے سے اس طرح اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کی جاتی ہے کہ بندہ اپنی عبادات کو غیراللہ سے ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرتا ہے۔ نیز یہ عبادات اللہ تعالیٰ کی حمد ہیں بلکہ حمد ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ رہا بندے کا قول (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ)تو یہ بھی اسی میں داخل ہے اور جملہ عبادات میں شامل ہے۔﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور وہ مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔‘‘ یہ ایمان کے جملہ فوائد اور اس کے فضائل میں سے ہے کہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور گناہوں سے پاک ہیں، اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، لہٰذا پس بندۂ مومن اپنے ایمان کے سبب سے اس عظیم فضیلت کو حاصل کرتا ہے۔چونکہ مغفرت کے لیے کچھ اسباب ہیں جن کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی اور یہ اسباب اس خیال سے بالکل مختلف ہیں جو بہت سے اذہان میں آتا ہے کہ مغفرت طلب کرنے کی غرض و غایت مجرد گناہوں کی بخشش ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فرشتوں کی دعائے مغفرت اور ان امور کا ذکر فرمایا جن کے بغیر دعائے مغفرت کی تکمیل نہیں ہوتی، چنانچہ فرمایا:﴿رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا ﴾ ’’اے ہمارے رب! تیری رحمت اور علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ تیرے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، تجھ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز تیرے علم سے اوجھل ہے نہ آسمان میں اور کوئی چھوٹی چیز تجھ سے چھپی ہوئی ہے نہ کوئی بڑی چیز۔ تیری رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ علوی اور سفلی تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے لبریز اور اس کی رحمت تمام کائنات پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کی تمام مخلوق اس رحمت سے بہرہ مند ہوتی ہے۔ ﴿فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا ﴾ ’’پس جن لوگوں نے توبہ کی انھیں بخش دے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک اور معاصی سے توبہ کی ﴿وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ ﴾ ’’اور جو تیرے راستے پر گامزن ہوئے‘‘ تیرے رسولوں کی اتباع، تیری توحید اور تیری اطاعت کے ذریعے سے ﴿وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ ﴾ ’’اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے‘‘ یعنی (اے اللہ!) ان کو عذاب سے اور اس کے اسباب سے بچا۔
[8]﴿رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِ اِ۟ الَّتِيۡ وَعَدۡتَّهُمۡ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل فرما جن کا تونے ان سے وعدہ فرمایا‘‘ یعنی جن کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر وعدہ کیا۔ ﴿وَمَنۡ صَلَحَ ﴾ ’’اور جو صالح ہوں‘‘ یعنی جو ایمان اور عمل صالح کے ذریعے سے درست ہوں۔ ﴿مِنۡ اٰبَآىِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ ﴾ ’’ان کے آباء واجداد اور ان کی بیویوں میں سے‘‘ یعنی ان کی بیویوں، عورتوں کے شوہروں، ان کے دوستوں اور رفقاء میں سے ﴿وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ﴾’’اور ان کی اولاد میں سے‘‘﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے، تیری عزت کی قسم! تو ان کے گناہ بخش دیتا ہے، ان کی تکلیف دور کر دیتا ہے اور انھیں ہر بھلائی تک پہنچا دیتا ہے۔ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ ’’حکیم‘‘ اس کو کہتے ہیں جو تمام اشیاء کو ان کے لائق حال مقام پر رکھتا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کرتے جو تیری حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بلکہ تیری حکمت، جس کی تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر خبر دی ہے اور تیرا فضل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ تو اہل ایمان کو بخش دے۔
[9]﴿وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور انھیں برائیوں سے بچالے‘‘ یعنی تو ان کو برے اعمال اور ان کی جزا سے دور رکھ کیونکہ یہ انسان کو بہت تکلیف دیتے ہیں۔ ﴿وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور جس کو تو اس دن عذابوں سے بچالے گا۔‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ﴾ ’’تو بے شک تو نے اس پر رحمت کی۔‘‘ کیونکہ تیری رحمت تیرے بندوں پر ہمیشہ سایہ کناں رہی ہے، بندوں کے گناہ اور ان کی برائیاں ہی انھیں اس رحمت سے محروم کرتے ہیں۔ جس کو تو نے برائیوں سے بچا لیا اسے تو نے نیکیوں کی توفیق اور ان کی جزائے حسن سے بہرہ مند کیا۔ ﴿وَذٰلِكَ ﴾ ’’اور یہ‘‘یعنی منہیات کا دور ہونا، برائیوں سے بچانا اور محبوب و مرغوب کا حاصل ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کے سبب سے ہے۔ ﴿هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں اور مقابلہ کرنے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی نہیں ہے۔فرشتوں کی یہ دعا اس حقیقت کو متضمن ہے کہ فرشتے اپنے رب کی کامل معرفت سے سرفراز ہیں وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کو وسیلہ بناتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کی طرف سے اپنے اسماء کو وسیلہ بنانے اور جو دعا مانگی جا رہی ہو اس کی مناسبت سے اسمائے الٰہی کو وسیلہ بنانے کو پسند کرتا ہے۔ بندوں کی دعا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول اور نفوس بشری کے تقاضوں کے اثرات کے ازالے کے لیے ہوتی ہے، جن کے نقص اور ان کے تقاضوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ، لہٰذا جب وہ ان معاصی اور اس کے مبادی و اسباب کا تقاضا کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے۔ تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات ’’رَحِیْم‘‘ اور ’’عَلِیْم‘‘ کو وسیلۂ دعا بنایا۔اس کی ربوبیت عامہ اور ربوبیت خاصہ کا اقرار ان کا اللہ تعالیٰ کے متعلق کمال ادب کو متضمن ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ۔یہ تو ان کی اپنے رب کے سامنے دعا ہے جو ہر لحاظ سے ایک محتاج ہستی سے صادر ہوتی ہے۔ جو کسی بھی حال کو اپنا وسیلہ نہیں بنا سکتی۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا کرم و احسان ہے۔اپنے رب کے ساتھ ان کی موافقت، ان اعمال یعنی عبادات سے محبت کو متضمن ہے جن کو وہ پسند کرتا ہے، جسے وہ قائم کرتے ہیں اور محبت کرنے والوں کی جدوجہد کی طرح جدوجہد کرتے ہیں، وہ ہیں اہل ایمان، اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق میں سے انھی سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مکلف مخلوق کو ناپسند کرتا ہے مگر ان میں سے اہل ایمان کو پسند کرتا ہے۔فرشتوں کی اہل ایمان کے ساتھ محبت ہے کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، ان کے احوال کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کسی شخص کے لیے دعا کرنا، اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ دعا کرنے والا اس شخص سے محبت کرتا ہے کیونکہ انسان صرف اسی کے لیے دعا مانگتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا اپنے ارشاد:﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ کے بعد کا فرشتوں کی دعا کی تفصیل اور شرح بیان کرنا، کتاب اللہ میں تدبیر کی کیفیت کی طرف لطیف اشارے کو متضمن ہے۔ نیز یہ اس بات کو بھی متضمن ہے کہ تدبر کرنے والا صرف مفرد لفظ کے معنی پر اقتصار نہ کرے۔ بلکہ اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ لفظ کے معنی پر خوب تدبر اور غوروفکر کرے۔ جب اچھی طرح معنی کا فہم حاصل کر لے تو اپنی عقل سے اس معاملے میں غور کرے، ان طریقوں پر غور کرے جو اس منزل تک پہنچاتے ہیں اور جن کے بغیر یہ ناتمام ہے اور جن پر تمام دارومدار ہے۔ اس کو یقین قطعی ہو جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہے، جیسا کہ اسے یقین ہے کہ وہ معنیٔ خاص اللہ تعالیٰ کی مراد ہے جس پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے۔ وہ چیز جو اس کے لیے اس یقین کی موجب ہے کہ یہی معنی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے، دو امور ہیں: ۱۔ اس کی معرفت اور اس بات کا یقین کہ یہ معنی کے توابع میں سے ہے اورمراد الٰہی اسی پر موقوف ہے۔ ۲۔ اس حقیقت کا علم رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی کتاب میں تدبروتفکر کریں۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ ان معانی سے کیا لازم آتا ہے۔ اسی نے خبردی ہے کہ اس کی کتاب سراسر ہدایت، نور اور ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرنے والی ہے، یہ فصیح ترین اور ایضاح کے اعتبار سے جلیل ترین کلام ہے۔ اس سے بندۂ مومن توفیق الٰہی کے مطابق علم عظیم اور خیرکثیر سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ ہماری اس تفسیر میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نوازا ہے۔ کبھی کبھی بعض آیات میں، صحیح الفکر مگر غوروتدبر سے محروم شخص پر اس کا ماخذ مخفی رہتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنی رحمت کے خزانے کھول دے جو ہمارے احوال اور تمام مسلمانوں کے احوال کی اصلاح کا سبب بنیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ہم اس کی نگاہ کرم کے منتظر ہیں، اس کے احسان کووسیلہ بناتے ہیں، جس سے ہم ہر آن اور ہر لحظہ بہرہ مند رہتے ہیں۔ ہم اس سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں، یقینا ہمارے نفس کی برائی ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے راستے کی رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت کریم اور عطا کرنے والا ہے جس نے ہمیں اسباب اور ان کے مسببات عطا کیے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اس بات کو متضمن ہے کہ مومن کے ساتھ رہنے والے اشخاص، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست بھی اس کی صحبت کے باعث سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں، مومن کی صحبت ان کے لیے ایسی بھلائی کے حصول کا سبب بنتی ہے جو اس کے عمل اور اسباب عمل سے خارج ہے، جیسا کہ فرشتے اہل ایمان اور ان کے نیک والدین، ان کی نیک بیویوں اور ان کی نیک اولاد کے لیے دعا کرتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اہل ایمان کے ماں باپ، بیویوں اور اولاد میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَنۡ صَلَحَ ﴾ کے مطابق ’’صلاحیت‘‘ کا وجود لازم ہے تب اس صورت میں، ان کے لیے فرشتوں کی یہ دعا، ان کے عمل ہی کا نتیجہ ہے۔ واللہ أعلم۔