وہی ہے جو دکھاتا ہے تمھیں اپنی نشانیاں اور نازل کرتا ہے تمھارے لیے آسمان سے رزق، اور نہیں نصیحت پکڑتا مگر وہ جو رجوع کرتا ہے (13)پس تم پکارو اللہ کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو، اگرچہ ناپسند (برا) سمجھیں کافر(14)(وہ) بہت بلند درجوں والا عرش کا مالک ہے وہ ڈالتا ہے روح (وحی) اپنے حکم سے اوپر جس کے چاہتا ہے اپنے بندوں سے تاکہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن سے (15) جس دن وہ (قبروں سے) نکلیں گے نہیں مخفی ہو گی اللہ پر ان میں سے کوئی چیز، (اللہ تعالی پوچھے گا)کس کے لیے ہے بادشاہی آج کے دن؟ ( پھر خود ہی فرمائے گا)اللہ ہی کے لیے جو ایک ہے بڑا زبردست (16) آج بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو ساتھ اس کے جو اس نے کمایا، نہیں کوئی ظلم آج، بلاشبہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے (17)
[13] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے باطل میں سے حق کو واضح کیا، وہ اپنے بندوں کو آیات نفسیہ، آیات آفاقیہ اور آیات قرآنیہ کا مشاہدہ کراتا ہے جو ہر مطلوب و مقصود پر اس طرح دلالت کرتی ہیں کہ ان میں غوروفکر کرنے والے کے لیے معرفت حقائق میں ادنیٰ سا بھی شک نہیں رہتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے حق کو مشتبہ رکھا ہے نہ صواب کو مشکوک۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے دلائل کو متنوع طریقوں سے بیان اور آیات کو واضح کیا تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جوزندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ مسائل جتنے اہم اور بڑے ہوں گے، ان کے دلائل اتنے ہی زیادہ اور آسان ہوں گے۔ آپ توحید میں غور کیجیے، توحید کا مسئلہ بڑے مسائل میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اس لیے اس کے عقلی اور نقلی دلائل بہت زیادہ اور متنوع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تمثیلیں بیان کی ہیں اور بہت کثرت سے استدلال کیا ہے اس لیے اس مقام پر توحید کے جملہ دلائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَادۡعُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’پس اللہ کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو۔‘‘ جب اس نے ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، تو ایک بڑی نشانی کی طرف اشارہ کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَيُنَزِّلُ لَكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ﴾ ’’اور وہ آسمان سے تمھارے لیے رزق اتارتا ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے، جس سے تمھیں رزق دیا جاتا ہے، جس سے تم اور تمھارے مویشی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں۔دینی نعمتیں بھی اسی کی طرف سے ہیں اس سے مراد دینی مسائل، ان کے دلائل اور ان پر عمل ہے اور دنیاوی نعمتیں بھی اسی کی طرف سے ہیں، مثلاً: وہ تمام نعمتیں جو بارش سے وجود میں آتی ہیں، بارش سے زمین اور بندوں کو زندگی عطا ہوتی ہے اور یہ چیز قطعی طور پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا ہی معبود برحق ہے جس کے لیے اخلاص دین متعین ہے جیسا کہ وہ اکیلا ہی منعم حقیقی ہے۔ ﴿وَمَا يَتَذَكَّـرُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ ان آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتا ہے تو اس سے نہیں نصیحت حاصل کرتا ہے ﴿اِلَّا مَنۡ يُّنِيۡبُ ﴾ مگر وہی شخص جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی خشیت، اس کی اطاعت اور اس کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور یہ آیات اس کے حق میں رحمت بن جاتی ہیں اور ان آیات سے اسی کی بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔
[14] چونکہ آیات الٰہی کا ثمرہ تذکر ہے اور تذکر اللہ تعالیٰ کے اخلاص کا موجب ہے اس لیے اخلاص کے حکم کو ’’فاء‘‘ کے ذریعے سے اس پر مرتب فرمایا جو سببیت پر دلالت کرتی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿فَادۡعُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ، دونوں کو شامل ہے۔ اخلاص کا معنی ہے تمام عبادات واجبہ و مستحبہ، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں قصد کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرنا۔ یعنی ان تمام امور میں، جن پر تم دین کے طور پر عمل کرتے ہو اور جن کو تم اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بناتے ہو، ان میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص سے کام لو۔ ﴿وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’خواہ یہ کفار کے لیے ناگوار ہی کیوں نہ ہو‘‘ اس لیے تم ان میں ان کی پروا نہ کرو۔ یہ چیز تمھیں تمھارے دین سے نہ پھیر دے، کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمھیں اللہ کے راستے سے روک نہ دے۔ کیونکہ کفار اخلاص کو بہت ناپسند کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾(الزمر:39؍45) ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کراہت سے تنگ ہو جاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب اللہ کے سوا خود ساختہ معبودوں کا نام لیا جاتا ہے تو یہ خوش ہو جاتے ہیں۔‘‘
[15] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے جلال و کمال کا ذکر فرمایا جو عبادت میں اخلاص کا تقاضا کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿رَفِيۡعُ الدَّرَجٰؔتِ ذُو الۡعَرۡشِ ﴾ ’’وہ درجاتِ عالی کا مالک اور صاحب عرش ہے۔‘‘ یعنی وہ بلند اور اعلیٰ ہے جو عرش پر مستوی ہے، عرش اس کے لیے مختص ہے، اس کے درجات بہت بلند ہیں وہ ان کی وجہ سے مخلوقات سے علیحدہ ہے اور ان کے ساتھ اس کامرتبہ بلند ہے۔ اس کے اوصاف جلیل القدر اور اس کی ذات اس سے بلندتر ہے کہ اس کا قرب حاصل کیا جائے سوائے پاک اور طاہر و مطہر عمل کے ذریعے سے اور وہ ہے اخلاص جو مخلص مومنین کے درجات کو بلند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور تمام مخلوق پر فوقیت عطا کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رسالت اور وحی کی نعمت کا ذکر کرتا ہے، فرمایا:﴿يُلۡقِي الرُّوۡحَ ﴾ ’’وہ نازل کرتا ہے روح۔‘‘ یعنی وحی، جو قلب و روح کے لیے وہی حیثیت رکھتی ہے جو اجساد کے لیے ارواح کی ہے۔ جیسے روح کے بغیر بدن زندہ ہوتا ہے نہ زندہ رہ سکتا ہے، اسی طرح روح اور قلب، روحِ وحی کے بغیر درست رہ سکتے ہیں نہ فلاح سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں۔ ﴿يُلۡقِي الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِهٖ﴾ ’’اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے۔‘‘ جس میں بندوں کی منفعت اور مصلحت ہے ﴿عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کے رسول مراد ہیں جن کو اس نے فضیلت بخشی اور انھیں اپنی وحی اور بندوں کو دعوت دینے کے لیے مختص فرمایا۔انبیاء و مرسلین مبعوث کرنے کا فائدہ بندوں کے لیے، ان کے دین، دنیا اور آخرت میں سعادت کا حصول اور ان کے دین، دنیا اور آخرت میں بدبختی کو دور کرنا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿لِيُنۡذِرَ ﴾ تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کی طرف وحی بھیجی گئی ہے۔ ﴿يَوۡمَ التَّلَاقِ﴾ ’’ملاقات کے دن سے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ملاقات کے دن سے ڈرائے اور انھیں ان اسباب کو تیار کرنے کے لیے آمادہ کرے جو ان کو اس صورت حال سے نجات دیتے ہیں جس میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس دن کو (یَوْمَ التَّلَاقْ) کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس دن خالق اور مخلوق کی ملاقات ہو گی، مخلوق ایک دوسرے سے ملاقات کرے گی اور عمل کرنے والے اپنے اعمال اور ان کی جزا کا سامنا کریں گے۔
[16]﴿يَوۡمَ هُمۡ بٰرِزُوۡنَ ﴾ ’’جس روز سب لوگ ظاہر ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی جس روز یہ زمین پر ظاہر ہوں گے اور ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے، جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہو گا، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ سب تک پہنچ سکے گی۔ ﴿لَا يَخۡفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنۡهُمۡ شَيۡءٌ ﴾ ’’ ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہ رہے گی۔‘‘ یعنی ان کی ذات چھپ سکے گی نہ ان کے اعمال، اور نہ ان اعمال کی جزا ہی اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی ہو گی ﴿لِمَنِ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’آج بادشاہی کس کی ہے؟‘‘ یعنی اس عظیم دن کا کون مالک ہے؟ جس نے اولین و آخرین، آسمانوں اور زمین کی مخلوق کو جمع کیا ہے، آج اقتدار میں خود ساختہ شراکت ختم اور تمام اسباب منقطع ہو گئے، اور کچھ باقی نہیں رہا سوائے اچھے برے اعمال کے۔ ﴿لِلّٰهِ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ﴾ ’’اللہ اکیلے کے لیے جو سب پر غالب ہے۔‘‘ یعنی آج اقتدار کی مالک وہ ذات بابرکات ہے جو اپنی ذات، اسماء و صفات اور افعال میں منفرد ہے اور کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الۡقَهَّارِ ﴾ تمام مخلوقات پر غالب و قاہر ہے، تمام مخلوقات اس کی مطیع، اس کے سامنے عاجز ہے خاص طور پر اس دن لوگوں کے سر اس حیّ و قیّوم ہستی کے سامنے جھک جائیں گے اور اس روز اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کر سکے گا۔
[17]﴿اَلۡيَوۡمَ تُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ ﴾ ’’آج ہر نفس کو، جو اس نے کمایا، اس کی جزا دی جائے گی۔‘‘ یعنی اس نے دنیا کے اندر، تھوڑی یا بہت، جو بھی نیکی اور بدی کا اکتساب کیا ہے، آج اس کی جزا دی جائے گی۔ ﴿لَا ظُلۡمَ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’آج کسی پر ظلم نہیں ہوگا‘‘ آج کسی نفس پر، برائیوں میں اضافہ کر کے یا اس کی نیکیوں میں کمی کر کے، ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ﴾ ’’بلاشبہ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔‘‘ یعنی اس دن کو دور نہ سمجھو یہ دن ضرور آنے والا ہے اور ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے۔ نیز وہ قیامت کے روز اپنے بندوں کا بہت جلد حساب لے لے گا کیونکہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ قدرت کاملہ کا مالک ہے۔