Tafsir As-Saadi
40:10 - 40:12

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ پکارے (کہے) جائیں گے، البتہ ناراضی اللہ کی زیادہ بڑی ہے تمھاری ناراضی سے اپنے آپ پر جبکہ تم بلائے جاتے تھے ایمان کی طرف، تو تم انکار کرتے تھے (10) وہ کہیں گے اے ہمارے رب! موت دی تو نے ہمیں دو مرتبہ اورزندہ کیا تو نے ہمیں دو مرتبہ، پس اقرار کیا ہم نے اپنے گناہوں کا، پس کیا (اب) نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے؟ (11) یہ اس سبب سے کہ بلاشبہ جب پکارا جاتا تھا اللہ اکیلے کو تو انکار کرتے تھے تم اوراگر شریک ٹھہرایا جاتا(کسی کو)اس کے ساتھ تو تم (اسے)مان لیتے تھے، پس حکم تو اللہ ہی کا ہے جو نہایت بلند اور بہت بڑا ہے (12)

[10] اللہ تبارک و تعالیٰ اس فضیحت و رسوائی کا ذکر کرتا ہے جس کا کفار کو سامنا کرنا ہو گا، نیز ان کی دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کے رد ہونے اور ان پر زجروتوبیخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اسے مطلق بیان کیا ہے تاکہ یہ کفر کی تمام انواع کو شامل ہو، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار وغیرہ۔ جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، تو اقرار کریں گے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث جہنم کے مستحق ہیں وہ اپنے آپ پر شدید غیظ و غضب کا اظہار کریں گے۔ تب اس وقت ان کو پکار کر کہا جائے گا:﴿لَمَقۡتُ اللّٰهِ ﴾ یعنی تم پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی ﴿اِذۡ تُدۡعَوۡنَ اِلَى الۡاِيۡمَانِ فَتَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جب تمھیں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کے متبعین نے ایمان کی دعوت دی، تمھارے سامنے دلائل و براہین بیان کیے جن سے حق واضح ہو گیا، مگر تم نے کفر کو اپنائے رکھا اور ایمان سے منہ موڑ لیا، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں تخلیق فرمایا تھا اور تم اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کے سائے سے نکل گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر غصے اور ناراض ہوگیا۔ پس یہ ناراضی ﴿اَكۡبَرُ مِنۡ مَّؔقۡتِكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾ ’’تمھاری اپنی ناراضی سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘ یعنی اس کریم ہستی کی یہ ناراضی ہمیشہ تم پر نازل رہی حتی کہ تم اس حالت کو پہنچ گئے۔ آج تم پر اللہ تعالیٰ کا غیظ وغضب اور اس کا عذاب نازل ہوگا جبکہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے ثواب سے سر فراز ہوں گے۔
[11] تب وہ واپس لوٹائے جانے کی تمنا کریں گے اور کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اے ہمارے رب تونے ہمیں دو مرتبہ موت دی۔‘‘ ایک قول کے مطابق اس سے مراد پہلی موت اور دو مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان کی موت ہے یا اس سے مراد ان کے وجود میں لائے جانے سے پہلے عدم محض اور وجود میں لائے جانے کے بعد کی موت ہے۔ ﴿وَاَحۡيَيۡتَنَا اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اور دو مرتبہ تونے ہمیں زندہ کیا۔‘‘ یعنی دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی، ﴿فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَهَلۡ اِلٰى خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِيۡلٍ ﴾ ’’پس ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟‘‘ یعنی وہ نہایت حسرت سے یہ التجا کریں گے، مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
[12] انھیں اسباب نجات اختیار نہ کرنے پر سخت زجروتوبیخ کی جائے گی۔ ان سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِيَ اللّٰهُ وَحۡدَهٗ﴾ ’’یہ اس سبب سے کہ جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھا۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے لیے اخلاص عمل کے لیے بلایا جاتا اور شرک سے روکا جاتا تھا ﴿كَفَرۡتُمۡ ﴾ ’’تو تم انکار کرتے تھے۔‘‘ تمھارے دل اس سے ناگواری محسوس کرتے اور تم اس سے سخت نفرت کرتے تھے ﴿وَاِنۡ يُّشۡرَكۡ بِهٖ تُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے تھے۔‘‘ تمھارے اس رویے نے تمھیں اس منزل پر پہنچایا۔ تم ایمان لانے سے انکار کرتے اور کفر پر ایمان لاتے رہے۔ تم اس طرز عمل پر راضی رہے جو دنیاوآخرت میں فساد اور شر کا باعث تھا اور اس طرز عمل کو برا سمجھتے رہے جس میں دنیاوآخرت کی بھلائی اور اصلاح تھی۔ تم بدبختی، ذلت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے اسباب کو ترجیح دیتے رہے اور فوزوفلاح اور کامیابی کے اسباب سے منہ موڑتے رہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا١ۚ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾(الاعراف:7؍146)’’اگر وہ سیدھا راستہ دیکھیں تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ان کو گمراہی کا راستہ نظر آجائے تو اس پر چل پڑیں گے۔‘‘﴿فَالۡحُكۡمُ لِلّٰهِ الۡعَلِيِّ الۡكَبِيۡرِ ﴾ ’’تو (آج) فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے جو عالی مقام (اور سب سے) بڑا ہے۔‘‘ (العلی) سے مراد وہ ہستی ہے جو علو ذات، علو قدر اور علو قہر یعنی ہر لحاظ سے مطلق بلندی کی مالک ہے۔ اس کے علو قدر میں سے اس کا کمال عدل ہے کہ وہ تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ تقویٰ شعار لوگوں اور فاسق و فاجر لوگوں کو مساوی قرار نہیں دیتا۔ (الکبیر) جو اپنے اسماء و صفات اور افعال میں کبریاء اور عظمت و مجد کا مالک ہے جو ہر آفت، ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔ اور جب فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور تمھارے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم میں دائمی خلود کا فیصلہ کیا ہے تو اس کے فیصلے میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔