[23]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے بھیجا۔‘‘ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوۡسٰؔى﴾ موسیٰ بن عمرانu کو ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ‘‘ جو موسیٰu کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
[24] اور جن کی طرف بھیجا گیا، وہ تھے﴿فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ ﴾ فرعون، اس کا وزیر ہامان، ﴿وَقَارُوۡنَ ﴾ ’’اور قارون‘‘قارون موسیٰu کی قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس نے اپنے مال و دولت کی وجہ سے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ ان سب لوگوں نے نہایت سختی سے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ ﴿فَقَالُوۡا سٰحِرٌؔ كَذَّابٌ ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔‘‘
[25]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰu کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے:﴿ اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَؔ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ١ؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال‘‘ وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ ’’مگر ناکام‘‘ کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔ قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾
[26]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوۡنِيۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰؔى وَلۡيَدۡعُ رَبَّهٗ﴾ ’’مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰu کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰu کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰu کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا تھا ، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّبَدِّلَ دِيۡنَكُمۡ ﴾ ’’مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔‘‘ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوۡ اَنۡ يُّظۡهِرَ فِي الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴾ ’’یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔‘‘ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔‘‘
[27]﴿وَقَالَ مُوۡسٰۤى ﴾ ’’موسیٰ(u) نے کہا:‘‘ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰu نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا:﴿اِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ ﴾ ’’میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔‘‘ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔‘‘ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰu کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ’’قاعدہ‘‘ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
[28] ان جملہ اسباب میں سے وہ صاحب ایمان شخص بھی ہے جو آل فرعون سے تعلق رکھتا تھا بلکہ کاروبار مملکت میں شامل تھا۔ لازماً اس کی بات سنی جاتی ہو گی خاص طور پر جب وہ ان سے موافقت کا اظہار کرتا تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کیونکہ اس صورت میں عام طور پر وہ اس کی رعایت رکھتے تھے اگر وہ ظاہر میں ان کی موافقت نہ کرتا تو وہ یہ رعایت نہ رکھتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے قریش سے محفوظ رکھا۔ ابو طالب ان کے نزدیک ایک بڑا سردار تھا ان کے دین ہی کی موافقت کرتا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تووہ آپ کی اس طرح حفاظت نہ کر سکتا۔اس توفیق یافتہ، عقل مند اور دانا مومن نے اپنی قوم کے فعل کی قباحت واضح کرتے ہوئے کہا:﴿اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ يَّقُوۡلَ رَبِّيَ اللّٰهُ ﴾ ’’کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘ یعنی تم اس کے قتل کو کیونکر جائز سمجھتے ہو، اس کا گناہ صرف یہی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور اس کا قول دلائل سے خالی بھی نہیں۔ اس لیے صاحب ایمان نے کہا:﴿وَقَدۡ جَآءَكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔‘‘ کیونکہ حضرت موسیٰu کے معجزات اتنے مشہور ہو گئے کہ چھوٹے بڑے سب جانتے تھے۔ اس لیے یہ چیز حضرت موسیٰu کے قتل کی موجب نہیں بن سکتی… تم نے اس سے پہلے، جب حضرت موسیٰu تمھارے پاس حق لے کر آئے، اس کا دلیل کے ذریعے سے ابطال کیوں نہیں کیا کہ دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا ہوتا، پھر اس کے بعد غور کرتے کہ آیا اس پر دلیل میں غالب آنے کے بعد، اس کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اب جبکہ حجت اور دلیل میں وہ تمھیں نیچا دکھا چکا ہے۔ تمھارے درمیان اور اس کے قتل کے جواز کے درمیان بہت فاصلہ حائل ہے جسے طے نہیں کیا جاسکتا، پھر اس نے ان سے عقل کی بات کہی جو ہر حال میں ہر عقل مند کو مطمئن کر دیتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَاِنۡ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبۡكُمۡ بَعۡضُ الَّذِيۡ يَعِدُكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا اور اگر سچا ہوگا تو اس عذاب کا بعض حصہ تم پر واقع ہوکر رہے گا، جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی حضرت موسیٰu کا معاملہ دور امور میں سے کسی ایک پر معلق ہے یا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں یا وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال انھی پر ہے اور اس کا ضرر بھی انھی کے ساتھ مختص ہے تمھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ تم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اور اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور انھوں نے تمھارے سامنے اپنی صداقت کے دلائل بھی پیش کیے ہیں اور تمھیں یہ وعید بھی سنائی ہے کہ اگر تم نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تمھیں اس دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں بھی تمھیں جہنم میں داخل کرے گا ، لہٰذا ان کی وعید کے مطابق تم دنیا میں بھی اس عذاب کا ضرور سامنا کرو گے۔ یہ اس صاحب ایمان شخص اور اس کی طرف سے حضرت موسیٰu کی مدافعت کا نہایت لطیف پیرا یہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کو ایسا جواب دیا جو ان کے لیے کسی تشویش کا باعث نہ تھا۔ پس اس نے معاملے کا دارومدار ان مذکورہ دو حالتوں پر رکھا اور دونوں لحاظ سے جناب موسیٰ کا قتل ان کی سفاہت اور جہالت تھی۔پھر وہ صاحب ایمان شخص...رَضِیَ اللّہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَغَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ… اس بارے میں، ایک ایسے معاملے کی طرف منتقل ہوا جو اس سے بہتر اور حضرت موسیٰu کے حق کے قریب ہونے کو زیادہ واضح کرتا ہے، چنانچہ اس نے کہا:﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ ﴾ ’’بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھا ہوا ہو‘‘ یعنی جو حق کو ترک اور باطل کی طرف متوجہ ہوکر تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔ ﴿كَذَّابٌ ﴾ ’’جھوٹا ہو۔‘‘ جو حدود سے تجاوز پر مبنی اپنے موقف کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ راہ صواب نہیں دکھاتا نہ اس کے مدلول میں اور نہ اس کی دلیل میں اور نہ اسے راہ راست کی توفیق ہی سے بہرہ مند کرتا ہے۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ موسیٰu نے حق کی طرف دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی اور انھوں نے عقلی دلائل و براہین اور آسمانی معجزات کے ذریعے سے اس حق کو واضح کر دیا… جسے یہ راستہ مل جائے، ممکن نہیں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا اور کذاب ہو، یہ اس کے کامل علم و عقل اور اس کی معرفت الٰہی کی دلیل ہے۔
[29] پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا:﴿يٰقَوۡمِ لَكُمُ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو‘‘ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا مِنۢۡ بَاۡسِ اللّٰهِ ﴾ ’’تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔‘‘ ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾ ’’اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔‘‘ یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَمَنۡ يَّنۡصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنۡ جَآءَنَا ﴾تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔﴿قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰu کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔‘‘ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤ اُرِيۡكُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰى ﴾ ’’میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے‘‘ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰu کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا:﴿وَمَاۤ اَهۡدِيۡكُمۡ اِلَّا سَبِيۡلَ الرَّشَادِ ﴾ ’’میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔ اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
[30]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ ’’وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا:‘‘ یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا:﴿يٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ مِّثۡلَ يَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
[31] پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔‘‘ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَا اللّٰهُ يُرِيۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا‘‘ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
[32] اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ التَّنَادِ﴾ ’’اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا١ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ﴾(الاعراف: 7؍44، 45) ’’ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔‘‘ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ النَّارِ اَصۡحٰؔبَ الۡجَنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍50) ’’جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔‘‘ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ﴾(الزخرف: 43؍77) ’’تم جہنم میں رہو گے۔‘‘ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ﴾(المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنؤن: 23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾(القصص: 28؍64) ’’اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔‘‘
[33] پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے‘‘ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍ ﴾ ’’تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ﴾(الطلاق: 86؍9، 10) ’’جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔‘‘
﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
[34]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ ﴾ ’’اور یوسف(u) بھی تمھارے پاس آئے۔‘‘ یعنی یوسف بن یعقوبi ﴿مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی موسیٰu کی تشریف آوری سے پہلے یوسفu اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔‘‘ یعنی حضرت یوسفu کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔‘‘ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ﴾ ’’تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾ ’’اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔‘‘ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰu کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف: 61؍5) ’’جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍258)’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
[35] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حد سے گزرنے والے شکی شخص کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں‘‘ جن آیات کی وجہ سے حق اور باطل میں امتیاز ہوا اور ظاہر و باہر ہونے کی بنا پر ایسے تھیں جیسے نگاہ کے لیے سورج۔ وہ ان آیات کے روشن اور واضح ہونے کے باوجود ان کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ ان کا ابطال کر سکیں۔ ﴿بِغَيۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰىهُمۡ ﴾ ’’بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند (دلیل)آئی ہو۔‘‘ یعنی بغیر کسی حجت و برہان کے۔ یہ ہر اس شخص کا وصف لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑتا ہے کیونکہ دلیل کے ساتھ جھگڑنا ممکن نہیں کوئی چیز حق کا سامنا نہیں کر سکتی اور یہ ممکن نہیں کہ دلیل شرعی یا دلیل عقلی حق کے معارض ہو۔﴿كَبُرَ ﴾ یہ قول بڑی ناراضی والا ہے جو باطل کے ذریعے سے حق کو ٹھکرانے کومتضمن ہے ﴿مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’(سخت)ناپسندیدہ ہے یہ رویہ اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک‘‘ اللہ تعالیٰ ایسی بات کہنے والے پر سخت ناراض ہے۔ کیونکہ یہ حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کو متضمن ہے۔ان اوصاف پر اور اس شخص پر جو ان اوصاف سے متصف ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مومن بندے بھی اپنے رب کی موافقت میں اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اس لیے ان کی ناراضی اس شخص کی قباحت اور برائی کی دلیل ہے جس پر یہ ناراض ہوں۔﴿كَذٰلِكَ ﴾ یعنی اسی طرح جیسے آل فرعون کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ ﴿يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴾ ’’اللہ ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتاہے۔‘‘ جو حق کو ٹھکرا کر اپنے رویے میں تکبر کا اظہار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ حقارت سے پیش آکر تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے ظلم اور تعدی کی کثرت کی بنا پر جابروں کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
[36، 37]﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے حضرت موسیٰu کی مخالفت اور آپ کی اللہ رب العلمین، جو عرش پر مستوی اور مخلوق سے بلند ہے، کے اقرار کی طرف دعوت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا:﴿يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِيۡ صَرۡحًا ﴾ ’’اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ ‘‘ یعنی ایک بہت عظیم الشان اور بہت بلند عمارت بناؤ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھ لوں ﴿اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ﴾ ’’موسیٰ کے معبود کو اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ میں موسیٰ کو اس کے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتا ہوں کہ ہمارا کوئی رب ہے اور وہ آسمانوں کے اوپر ہے… مگر وہ چاہتا تھا کہ فرعون احتیاط سے کام لے کر معاملے کی خود خبر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کرتے ہوئے، جس نے فرعون کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا… فرمایا:﴿وَؔكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ﴾’’اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا۔‘‘ شیطان اس کی بداعمالی کو سجاتا رہا، اس برے عمل کی طرف اسے دعوت دیتا رہا ،اس عمل کو خوبصورت اور نیک عمل بنا کر اس کے سامنے پیش کرتا رہا حتی کہ وہ اسے اچھا عمل سمجھنے لگا اور اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی اور اپنے اس عمل کے بارے میں اس طرح مناظرہ کرنے لگا جس طرح حق پرست مناظرہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ سب سے بڑا مفسد تھا۔﴿وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور راہ راست سے روک دیاگیا‘‘ اس باطل کے سبب سے جو اس کے سامنے مزین کیا گیا تھا، راہ حق سے روکا گیا۔ ﴿وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور نہیں تھا مکر فرعون کا۔‘‘ جس کے ذریعے سے اس نے حق کے خلاف سازش کی اور اس کے ذریعے سے لوگوں پر ظاہر کیا کہ اس کا موقف حق اور حضرت موسیٰu کا موقف باطل ہے۔ ﴿اِلَّا فِيۡ تَبَابٍ ﴾ ’’مگر تباہی کا۔‘‘ یعنی خسارے اور ہلاکت کا شکار ہو گا اور یہ سازش فرعون کو دنیا و آخرت میں بدبختی کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔
[38]﴿وَقَالَ الَّذِيۡۤ اٰمَنَ ﴾ اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ﴾ ’’اے میری قوم! میری اتباع کرو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ دکھاؤ ں گا۔‘‘ ہدایت کا راستہ وہ نہیں جو فرعون کہتا ہے کیونکہ وہ صرف گمراہی اور فساد کی راہ دکھاتا ہے۔
[39]﴿يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ ﴾ ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند یوم (کافائدہ) ہے۔‘‘ دنیا کی زندگی ایک متاع ہے جس کی نعمتوں سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ، پھر یہ متاع مضمحل ہو کر منقطع ہو جائے گی اس لیے یہ متاع دنیا تمھیں ان مقاصد کے بارے میں دھوکے اور فریب میں نہ ڈال دے جن کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴾ ’’اور (ہمیشہ) رہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے۔‘‘ جو اقامت گاہ اور سکون و استقرار کا گھر ہے تمھیں چاہیے کہ تم آخرت کو ترجیح دو اور ایسے عمل کرو جو تمھیں آخرت میں سعادت سے ہم کنار کریں۔
[40]﴿مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةً ﴾ ’’جو شخص برائی کرے گا‘‘ جس نے شرک، فسق یا معصیت کا ارتکاب کیا ﴿فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اسے صرف اسی کی سزا دے گا جو اس نے برائی کی ہے اور اسی قدر اس کو عذاب دے گا جس قدر اس نے برائی کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برائی کا بدلہ برائی ہے۔ ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت‘‘ یعنی اعمالِ قلوب، اعمالِ جوارح اور اقوالِ لسان میں سے ﴿وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو بلا حدوحساب اجر عطا کیا جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ انھیں اتنا اجر عطا کرے گا کہ ان کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔
[41] اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَيٰقَوۡمِ مَا لِيۡۤ اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى النَّجٰؔوةِ ﴾ ’’اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَى النَّارِ﴾ اور اللہ کے نبی موسیٰu کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔