کیا نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پس وہ دیکھتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو تھے ان سے پہلے، تھے وہ زیادہ سخت ان سے قوت میں اور نشانیوں میں (جو چھوڑ گئے وہ) زمین میں، پس پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، اور نہ تھا ان کے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا (21) یہ اس سبب سے کہ بے شک وہ تھے کہ آتے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ ، تو انھوں نے انکار کیا، پس پکڑ لیا ان کو اللہ نے، بلاشبہ وہ بڑا قوت والا سخت سزا دینے والاہے (22)
[21، 22] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَوَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں؟‘‘ یعنی انھوں نے اپنے قلوب و ابدان کے ساتھ، گزشتہ قوموں کے آثار میں غوروفکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کے لیے چل پھر کر نہیں دیکھا؟ ﴿فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ یعنی جو ان سے پہلے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے تھے۔ وہ دیکھیں گے کہ ان کا بدترین انجام ہوا وہ تباہ و برباد کر دیے گئے اور انھیں فضیحت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ ﴿كَانُوۡا ﴾ وہ ان لوگوں سے زیادہ طاقت ور تھے، یعنی وہ تعداد، سازوسامان اور جسمانی طور پر بہت طاقتور تھے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ بہت زیادہ تھے، ﴿اٰثَارًا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین میں (چھوڑے ہوئے)آثار کے لحاظ سے‘‘ یعنی عمارات اور باغات وغیرہ کے لحاظ سے انھوں نے بہت زبردست آثار زمین میں چھوڑے۔ آثار کی قوت آثار چھوڑنے والے کی قوت اور اس کی شان و شوکت پر دلالت کرتی ہے۔﴿فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں پکڑ لیا‘‘ اپنے عذاب کے ساتھ ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’ان کے گناہوں کی وجہ سے‘‘ جبکہ انھوں نے گناہوں پر اصرار کیا اور ان پر جمے رہے ۔ ﴿اِنَّهٗ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک وہ صاحب قوت اور سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کی قوت کے سامنے ان کی قوت کسی کام نہ آئی بلکہ قوم عاد، سب سے طاقتور قوم تھی، جو کہا کرتے تھے:﴿مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٰمٓ السجدۃ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا بھیجی جس نے ان کے قویٰ مضمحل کر دیے اور ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کا نمونہ بیان فرمایا یعنی فرعون اور اس کے لشکروں کی مثال ، چنانچہ فرمایا:
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسٰی کو ساتھ اپنی نشانیوں اور (ساتھ) دلیل واضح کے (23) طرف فرعون اور ہامان اور قارون کے، پس انھوں نے کہا، (یہ تو)جادوگر ہے بڑا جھوٹا (24) پس جب آیا وہ ان کے پاس حق لے کر ہماری طرف سے تو انھوں نے کہا، قتل کرو بیٹوں کو ان لوگوں کے جو ایمان لائے ساتھ اس (موسیٰ)کے اور زندہ رکھو ان کی عورتوں(بیٹیوں) کو، اور نہیں تھی چال کافروں کی مگر ناکام ہی (25) اور کہا فرعون نے، چھوڑو مجھے(تاکہ) قتل کر دوں میں موسیٰ کو اور چاہیے کہ پکارے وہ اپنے رب کو، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ بدل دے گا تمھارے دین کو، یا یہ کہ پھیلائے گا وہ زمین میں فساد (26) اور کہا موسیٰ نے، بے شک میں پناہ میں آتا ہوں اپنے رب کی اور تمھارے رب کی ہراس متکبر سے جو نہیں ایمان رکھتا یوم حساب پر(27) اور کہا ایک مرد مومن نے آلِ فرعون میں سے (جو) چھپاتا تھا ایمان اپنا، کیا قتل کرتے ہو تم ایک آدمی کو اس بات پر کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تحقیق وہ لایا ہے تمھارے پاس روشن دلائل تمھارے رب کی طرف سے ، اوراگر ہے وہ جھوٹا تو اسی پر وبال ہے اس کےجھوٹ کا اور اگر وہ ہے سچا تو پہنچے گا تم کو کچھ حصہ اس (عذاب)کا جس کا وہ وعدہ کرتا ہے تم سے، بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا اس شخص کو کہ ہے وہ حد سے بڑھنے والا بہت جھوٹا (28) اے میری قوم! تمھارے لیے ہی بادشاہی ہے آج جبکہ غالب ہو تم زمین میں، پس کون مدد کرے گا ہماری اللہ کے عذاب سے اگر آ گیا وہ ہمارے پاس؟ کہا فرعون نے ، نہیں دکھاتا میں تمھیں مگر وہی جو میں دیکھتا ہوں اور نہیں رہنمائی کرتا میں تمھاری مگر بھلائی ہی کے راستے کی(29) اورکہا اس شخص نے جو ایمان لایا تھااے میری قوم! بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر مانند دن(گزشتہ)گروہوں کے سے(30) مانند حال قوم نوح اور عاد اور ثمود کے اور ان لوگوں کے جو ان کے بعد ہوئے اور نہیں اللہ چاہتا ظلم کرنا بندوں پر (31) اور اے میری قوم! بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر ایک دوسرے کو پکارنے کے دن سے (32) جس دن پھرو(بھاگو)گے تم پیٹھ پھیرتے ہوئے، نہیں ہو گا تمھارے لیے اللہ(کے عذاب) سے کوئی بچانے والا اور جس کو گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کو کوئی ہدایت دینے والا (33) اور البتہ تحقیق آیا تمھارے پاس یوسف(بھی)اس سے پہلے ساتھ واضح دلائل کے، پس ہمیشہ رہے تم شک میں اس سے جو وہ لایا تمھارے پاس، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گیا تو تم نے کہا ہرگز نہیں بھیجے گا اللہ اس کے بعد کوئی رسول، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ اس شخص کو کہ ہو وہ حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا (34) وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی دلیل کے جو آئی ہو ان کے پاس (یہ جھگڑنا) بڑی ناراضی کا باعث ہے نزدیک اللہ کے اور نزدیک ان لوگوں کے جو ایمان لائے، اسی طرح مہرلگا دیتا ہے اللہ دل پر ہر متکبر سر کش کے (35) اور کہا فرعون نے اے ہامان! تو بنا میرے لیے ایک بلند عمارت تاکہ پہنچوں میں راستوں پر (36) راستوں پر آسمانوں کے، پس جھانک کر دیکھوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بے شک میں تو یقیناً گمان کرتا ہوں اسے جھوٹا اور اسی طرح مزین کر دیا گیا فرعون کے لیے اس کا براعمل اور روک دیا گیا وہ (سیدھے) راستے سے اور نہیں تھی چال فرعون کی مگر تباہی ہی میں (37) اور کہا اس شخص نے جو ایمان لایا تھا، اے میری قوم!پیروی کرو تم میری، میں بتلاؤ ں گا تمھیں راستہ بھلائی (نیکی) کا (38) اے میری قوم! بلاشبہ یہ زندگانی ٔ دنیا تو کچھ فائدہ اٹھا لینا ہے، اور بے شک آخرت، وہی ہے گھر ٹھہرنے کا(39) جس نے کی کوئی برائی تو نہیں بدلہ دیا جائے گا وہ مگر اسی کے برابر اور جس نے کیا کوئی نیک کام، وہ مرد ہو یا عورت درآں حالیکہ وہ مومن ہو، تو یہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں، رزق دیے جائیں گے وہ اس میں بے حساب (40) اوراے میری قوم! کیا ہے میرے لیے کہ میں تو بلاتا ہوں تمھیں نجات کی طرف اور تم بلاتے ہو مجھے آگ کی طرف؟ (41) تم بلاتے ہو مجھے کہ کفر کروں میں اللہ کے ساتھ اورشریک ٹھہراؤ ں اس کے ساتھ اس کو کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور میں بلاتا ہوں تمھیں طر ف غالب بہت بخشنے والے کی (42) نہیں شک (اس میں)کہ وہ چیز، کہ بلاتے ہو تم مجھے اس کی طرف نہیں ہے اس کے لیے پکار (قبول کرنا) دنیا میں اور نہ آخرت میں اور بلاشبہ لوٹنا ہمارا اللہ کی طرف ہے اور بلاشبہ حد سے بڑھنے والے ہی ہیں دوزخی (43) پس عنقریب یاد کرو گے تم جو کہتا ہوں میں تم سے اور سونپتا ہوں میں اپنا معاملہ اللہ کی طرف، بلاشبہ اللہ خوب دیکھنے والا ہے بندوں کو (44) پس بچا لیا اس کو اللہ نے اس تدبیر کی برائیوں سے جو انھوں نے کی اورگھیر لیا آل فرعون کو برے عذاب نے (45)(وہ) آگ ہے، پیش کیے جاتے ہیں وہ اس پر صبح اور شام اور جس دن قائم ہو گی قیامت (کہا جائے گا) داخل کرو آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں (46)