حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8)
[2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔
[3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔
[5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔
[6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔
[8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔