اور جس دن (ہانک ہانک کر) جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف، پس وہ رو کے جائیں گے(19) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے اس کےپاس تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ، ساتھ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کرتے (20) اور وہ کہیں گے اپنی جلدوں سے کیوں گواہی دی تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گی بلوایا ہمیں اللہ نے جس نے بلوایا ہر چیز کو اور اسی نے پیدا کیا تمھیں پہلی مرتبہ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (21) اور نہیں تھے تم پردہ کرتے اس(خوف) سے کہ گواہی دیں گے تمھارے خلاف تمھارے کان اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھاری جلدیں اورلیکن گمان کیا تم نے کہ بلاشبہ اللہ نہیں جانتا بہت سے ان عملوں کو جو تم کرتے (تھے)(22) اور یہ تمھارا گمان وہ جو گمان کیا تم نے اپنے رب کے بارے میں، اسی نے ہلاک کیا تم کو، پس ہو گئے تم خسارہ پانے والوں میں سے (23) پس اگر وہ صبر کریں تو بھی آگ ہی ٹھکانا ہے ان کے لیے ، اور اگر وہ معافی طلب کریں گے تو نہیں ہوں گے وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے (24)
[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی، کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہو گا، جب ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿اِلَى النَّارِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے۔‘‘ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے وہ اپنی مددخود کر سکیں گے نہ ان کی مدد کی جا سکے گی۔
[20]﴿حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے۔ ﴿شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَاَبۡصَارُهُمۡ وَجُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ان کا ہر ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا ’’میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔‘‘ پھر ان تین اعضاء کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضاء کرتے ہیں، یا انھی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔
[21] جب یہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضاء پر سخت ناراض ہوں گے ﴿وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے:‘‘ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہو گی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿لِمَ شَهِدۡتُّمۡ عَلَيۡنَا ﴾ ’’تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟‘‘ حالانکہ ہم تمھارا دفاع کیا کرتے تھے ﴿قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡطَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔‘‘ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ ﴿وَّهُوَ خَلَقَكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور اس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا‘‘ جس طرح اس نے تمھاری ذوات و اجسام کو تخلیق فرمایا اسی طرح تمھاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انھی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے پر استدلال ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔
[22]﴿وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ يَّشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُؔكُمۡ وَلَا جُلُوۡدُكُمۡ ﴾ ’’اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے چمڑے تمھارے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یعنی تم اپنے اعضاء کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہو نہ اس سے بچ سکتے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ظَنَنۡتُمۡ ﴾ ’’لیکن تم یہ سمجھتے رہے‘‘ گناہوں کا ارتکاب کر کے ﴿اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ کو تمھارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے تم سے یہ گناہ صادر ہوئے۔
[23] ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِيۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا‘‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرۡدٰىكُمۡ ﴾ ’’وہی تمھیں لے ڈوبا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔‘‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔
[24]﴿فَاِنۡ يَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ﴾ ’’اب اگر یہ صبر کریں (یا نہ کریں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔‘‘ اس پر کسی بھی حالت میں صبر نہیں ہوگا۔ اگر کسی حال میں صبر کا امکان فرض کر لیا جائے تاہم آگ کے سامنے صبر کرنا ممکن نہیں اور اس آگ پر صبر کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جس کی حرارت بے انتہا شدید ہے، اس کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت سے ستر گنا زیادہ ہے، اس کا پانی شدید گرم ہو گا، اس کی پیپ بے انتہا بدبودار ہو گی، جہنم کے ٹھنڈے طبقے کی ٹھنڈک کئی گنا زیادہ ہو گی، اس کی زنجیریں، طوق اور گرز بہت بڑے ہوں گے۔ اس کے داروغے نہایت درشت مزاج ہوں گے اور ان کے دلوں سے ہر قسم کا رحم نکل چکا ہو گا اور آخری چیز یہ کہ جبار کی سخت ناراضی ہو گی ، چنانچہ جب وہ اسے مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ فرمائے گا:﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون: 23؍108)’’دفع ہو جاؤ ، اسی میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘﴿وَاِنۡ يَّسۡتَعۡتِبُوۡا۠﴾ ’’اگر وہ توبہ کرنا چاہیں‘‘ یعنی اگر وہ عتاب الٰہی کا ازالہ چاہتے ہوئے درخواست کریں گے کہ انھیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کر سکیں۔ ﴿فَمَا هُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِيۡنَ ﴾ ’’تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا تھا، اس گزرے ہوئے عرصے کے دوران ان کو غوروفکر کا موقع دیا گیا اور ان کے پاس برے انجام سے خبردار کرنے والے بھی آئے۔ ان کی حجت منقطع ہو گئی، نیز ان کی عتاب دور کرنے کی التجا بھی محض جھوٹ ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر ان کو لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا اور بے شک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘