Tafsir As-Saadi
41:26 - 41:29

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہ سنو تم اس قرآن کو اور غل مچاؤ اس (کے پڑھنے کے وقت) میں تاکہ تم غالب آ جاؤ (26) پس البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا عذاب سخت اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے ان کو برے عملوں کا جو تھےوہ کرتے(27) یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا آگ، ان کے لیے اس میں گھر ہے ہمیشہ کا، بدلہ اس کا جو تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے(28) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اے ہمارے رب! دکھا ہم کو وہ دونوں (فریق) جنھوں نے گمراہ کیا تھا ہم کو جنوں اور انسانوں میں سے، کر دیں ہم انھیں نیچے اپنے قدموں کے تاکہ ہوں وہ سب سے نچلے لوگوں میں سے(29)

[26] اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ ﴾ ’’اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو‘‘ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو۔ اگر تمھیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ ﴿وَالۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’(جب پڑھا جائے تو)خوب شور مچاؤ‘‘ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمھارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی تلاوت کی اجازت نہ دو۔ اس قرآن مجید سے اعراض کے بارے میں یہ ان کی زبانِ حال اور زبانِ مقال ہے۔﴿لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ اگر تم نے یہ سب کچھ کیا ﴿تَغۡلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم غالب رہو۔‘‘ یہ دشمنوں کی طرف سے گواہی ہے اور واضح ترین حق وہ ہوتا ہے جس کی گواہی خود دشمن دیں۔ کیونکہ انھوں نے اس شخص پر جو حق لے کر آیا، اپنے غلبے کا حکم صرف اعراض اور روگردانی کے حال میں ایک دوسرے کو روگردانی کی وصیت کی صورت میں لگایا۔ ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس کی تلاوت میں خلل نہ ڈالیں اور اسے غور سے سنیں تو وہ کبھی غالب نہیں آسکتے کیونکہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت کو اصحاب حق اور اعدائے حق سب جانتے ہیں۔
[27] چونکہ یہ سب کچھ ان کے ظلم اور عناد کے باعث تھا، اس لیے ان کی ہدایت کی توقع باقی نہیں رہی اب ان کے لیے عذاب اور سزا باقی رہ گئی تھی۔ بنابریں فرمایا:﴿فَلَنُذِيۡقَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِيۡدًا١ۙ وَّلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی، جو وہ کرتے تھے، سزا دیں گے۔‘‘ اس سے مراد کفر اور معاصی ہے اور یہ ان کے بدترین اعمال ہیں۔ یہ عذاب کی سزا ان کے شرک کی جزا ہے۔ ﴿وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18/49) ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘
[28]﴿ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا ہے‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ جنگ کی۔ ان کی جزا ان کے کفر، تکذیب، مجادلہ اور جنگ کے سبب سے ﴿النَّارُ١ۚ لَهُمۡ فِيۡهَا دَارُ الۡخُلۡدِ ﴾ ’’جہنم کی آگ (ہے) جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔‘‘ یعنی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے گھڑی بھر کے لیے ان سے عذاب دور نہیں ہو گا اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔ ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ اس بات کی سزا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ یہ نہایت واضح آیات اور قطعی دلائل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کا انکار کرنا سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑا ظلم ہے۔
[29]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کافروں نے کہا‘‘ اس سے مراد متبعین ہیں اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا کلام ہے یعنی یہ کفار ان لوگوں پر سخت غصے کی وجہ سے یہ بات کہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا ﴿رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھلادے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی جن و انس کی دونوں اصناف، جنھوں نے گمراہی اور عذاب کی طرف ہمیں دعوت دی اور اس راہ میں ہماری قیادت کی، وہ ہمیں دکھا۔ ﴿نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’ہم انھیں اپنے پاؤ ں تلے روند ڈالیں، تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار لوگوں میں شمار ہوں۔‘‘ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں فتنے میں مبتلا کیا اور ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سبب بنے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہنمی ایک دوسرے کے خلاف سخت بغض رکھیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔