Tafsir As-Saadi
41:36 - 41:39

اور اگر ابھارے آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقیناً وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (36) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند، نہ سجدہ کرو تم سورج کو اور نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے پیدا کیا ان (سب) کو، اگر ہو تم صرف اسی کی عبادت کرتے (37) پس اگر وہ تکبر کریں، تو وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں، وہ تسبیح کرتے ہیں اس کی رات کو اور دن کو اور وہ نہیں تھکتے (38) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ دیکھتے ہیں آپ زمین کو دبی ہوئی(بنجر) پس جب نازل کیا ہم نے اس پر پانی تو وہ لہلہانے لگی اور ابھر آئی(بلند ہو کر) بلاشبہ وہ (اللہ) جس نے زندہ کیا اس(زمین)کو البتہ زندہ کرنے و الا ہے مردوں کو، بے شک وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(39)

[36] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انسان کو اپنے دشمن انسان کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے، یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ انسان شیطان کو، جو اس کا دشمن ہے، کیسے دور ہٹائے؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’اگر تمھیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔‘‘ یعنی آپ کسی بھی وقت، شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں، یعنی شیطان کا وسوسہ، اس کا شر کو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا، یا اس کے کسی حکم کی اطاعت کا خدشہ محسوس کریں۔ ﴿فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’تو اللہ کی پناہ مانگیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ کیونکہ وہ آپ کی بات اور عاجزانہ دعا کو سنتا ہے، وہ آپ کے حال کو جانتا ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ اس کی حمایت و حفاظت کے ضرورت مند ہیں۔
[37] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهِ ﴾ ’’اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت، نفوذ مشیت، لامحدود قوت اور بندوں پر بے پایاں رحمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ ﴾ ’’دن اور رات ہیں۔‘‘ دن اپنی روشنی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ لوگ دن کی روشنی میں اپنے کام کاج کے لیے چلتے پھرتے ہیں۔ رات اپنی تاریکی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ مخلوق رات کی تاریکی میں آرام کرتی ہے۔ ﴿وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ ﴾’’اور سورج اور چاندہیں۔‘‘ جن کے بغیر بندوں کی معاش، ان کے ابدان اور ان کے حیوانات کے ابدان درست نہیں رہتے۔ سورج اور چاند کے ساتھ مخلوق کے بے شمار مصالح وابستہ ہیں۔﴿لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ ﴾ ’’سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو‘‘ کیونکہ یہ دونوں تو مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں ﴿وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ خَلَقَهُنَّ ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اسی اکیلے کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق عظیم ہے اور اس کے سوا تمام مخلوقات کی عبادت چھوڑ دو خواہ وہ کتنی ہی بڑی اور ان کے فوائد کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ مصالح اور فوائد ان کے خالق کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہیں۔ جو نہایت بابرکت اور بلند ہے، ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس اسی کے لیے اپنی عبادت کو خاص کرو اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرو۔
[38]﴿فَاِنِ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ اگر وہ تکبرو استکبار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آیات و براہین کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اللہ ان سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مکرم بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿فَالَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’پس جو تیرے رب کے پاس ہیں‘‘ یعنی مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ لَهٗ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُوۡنَ﴾ ’’وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اکتاتے نہیں، کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر عبادت کا داعیہ بھی نہایت قوی ہوتا ہے۔
[39]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ﴾ ’’اور اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت اور ملکیت و تدبیر کائنات اور وحدانیت میں متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ایک نشانی یہ ہے ﴿اَنَّكَ تَرَى الۡاَرۡضَ خَاشِعَةً ﴾ ’’کہ بے شک تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس کے اندر کوئی نباتات نہیں ہوتی ﴿فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں۔‘‘ یعنی بارش برساتے ہیں ﴿اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’تو وہ شاداب ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات کے ساتھ لہلہا اٹھتی ہے۔ ﴿وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور ابھرنے لگتی ہے‘‘ یعنی وہ ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے، جس سے تمام بندوں اور زمین کی زندگی ہوتی ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاهَا ﴾ ’’بے شک جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا‘‘ جس نے اس کے مر جانے اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ وہ قبروں سے مردوں کو بھی قیامت کے روز زندہ کرے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جس طرح اس کی قدرت زمین کے مردہ اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے میں بھی بے بس نہیں۔