نہیں تھکتا انسان بھلائی مانگنے سے اور اگر پہنچے اسے تکلیف، تو وہ انتہائی مایوس سخت ناامید ہو جاتا ہے (49) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے رحمت اپنی طرف سے بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو وہ یقیناً کہتا ہے: یہ تو میرے لیے ہے اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر میں لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو بلاشبہ میرے لیے اس کےپاس البتہ بھلائی ہی ہو گی، پس البتہ ہم ضرور بتلائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ اس کےجو انھوں نے عمل کیے اور البتہ ہم ضرورچکھائیں گے ان کو عذاب سخت (50) اور جب احسان کرتے ہیں ہم انسان پر تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور دور ہو جاتا ہے اپنے پہلو کے ساتھ اور جب پہنچتی ہے اسے تکلیف تو دعائیں کرنے والا ہو جاتا ہے لمبی چوڑی (51)
[49] اس آیت کریمہ میں انسان کی فطرت و طبیعت کا بیان ہے کہ وہ خیر پر صبر کر سکتا ہے نہ شر پر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے نکال کر حالت کمال میں منتقل کر دے۔ فرمایا: ﴿لَا يَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَيۡرِ ﴾ یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے، اپنی فوزوفلاح، مال، اولاد اور دیگر دنیاوی مطالب و مقاصد کے لیے دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں اکتاتا اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہتا ہے وہ قلیل یا کثیر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا، اگر اسے دنیا کی ہر چیز مل جائے تب بھی وہ مزید دنیا طلب کرتا رہے گا۔ ﴿وَاِنۡ مَّسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔‘‘ یعنی بیماری ،فقر اور مختلف مصائب وغیرہ اسے لاحق ہوں۔ ﴿فَيَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴾ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت اسے ہلاک کر ڈالے گی اور ایسے اسباب اختیار کرنے کی فکر کرتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ اس رویے سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان لوگوں کو اگر بھلائی، نعمت اور کوئی محبوب چیز عطا ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس چیز سے بھی ڈرتے ہیں کہ یہ نعمتیں کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج اور مہلت نہ ہوں۔ اگر انھیں اپنی جان، مال اور اولاد میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے، تو صبر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔
[50] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ اَذَقۡنٰهُ ﴾ ’’اور اگر ہم اسے چکھاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ شخص جو بھلائی کی دعا سے اکتاتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو مایوس ہو جاتا ہے۔ ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت۔‘‘ یعنی اس برائی کے بعد جو اسے پہنچتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے مرض سے شفا دیتا ہے یا اس کا فقر دور کر کے غنی بنا دیتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ وہ بغاوت اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے:﴿هٰؔذَا لِيۡ ﴾ یعنی یہ مجھے عطا ہوا ہے کیونکہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ ﴿وَمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً ﴾ ’’اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہوگی‘‘ یہ اس کی طرف سے انکار قیامت ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور رحمت کی ناسپاسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی۔ ﴿وَّلَىِٕنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰى رَبِّيۡۤ اِنَّ لِيۡ عِنۡدَهٗ لَلۡحُسۡنٰى ﴾ فرض کیا اگر قیامت کی گھڑی آہی جائے اور مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے تو میرے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی بھلائی ہے۔ جس طرح دنیا میں مجھے نعمتوں سے نوازا گیا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی مجھے نعمتوں سے بہرہ مند کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے بڑی جسارت اور بلاعلم قول ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَلَنُنَبِّئَنَّ۠ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا١ٞ وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’پس کافر جو عمل کرتے ہیں، وہ ہم انھیں ضرور بتائیں گے اور انھیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ یعنی نہایت سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
[51]﴿وَاِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَى الۡاِنۡسَانِ ﴾ یعنی جب ہم انسان کو صحت اور رزق وغیرہ کی نعمت سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ ﴿اَعۡرَضَ ﴾ تو وہ اپنے رب اور اس کی شکر گزاری سے روگردانی کرتا ہے۔ ﴿وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ﴾ اور تکبر اور خود پسندی کی بنا پر کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ ﴿وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اسے برائی پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی اگر مرض اور فقر اسے آ لیتا ہے۔ ﴿فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِيۡضٍ ﴾ تو عدم صبر کی بنا پر بہت دعائیں کرتا ہے، پس کوئی بھی تنگی میں صبر کرتا ہے نہ فراخی میں شکر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہو۔