Tafsir As-Saadi
41:52 - 41:54

کہہ دیجیے: بھلا دیکھو تو! اگر ہو وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے، پھر انکار کرو تم اس کا، تو کون زیادہ گمراہ ہے اس شخص سے کہ ہے وہ مخالفت میں دور کی (52) عنقریب دکھائیں گے ہم ان کو اپنی نشانیاں کناروں میں اور ان کے نفسوں میں، یہاں تک کہ واضح ہو جائے گا ان کے لیے کہ بے شک وہ (قرآن)حق ہے، کیا کافی نہیں ہے آپ کا رب (اس بات پر) کہ بے شک وہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (53) خبردار! بے شک وہ لوگ شک میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سے، خبردار! بے شک وہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے (54)

[52]﴿قُلۡ ﴾ قرآن کی تکذیب اور کفران نعمت میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجیے: ﴿اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ ﴾ ’’مجھے بتایئے اگر یہ ہو‘‘ یعنی یہ قرآن ﴿مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ بغیر کسی شک و شبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ ﴿ثُمَّ كَفَرۡتُمۡ بِهٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ هُوَ فِيۡ شِقَاقٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہےجو اس (قرآن) کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کی مخالفت اورعناد میں، کیونکہ حق تم پر واضح ہو چکا ہے اس کے باوجود تم نے اس سے منہ موڑا۔ تم نے حق کو نہیں بلکہ باطل اور جہالت کو اختیار کیا ہے۔ تب تم لوگوں میں سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے بڑھ کر ظالم ہو۔
[53] اگر تمھیں اس کی حقیقت اور صحت میں کوئی شک ہے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور دلائل قائم کرے گا، مثلاً: آسمان اور زمین کی نشانیاں اور ایسے بڑے بڑے حوادث دکھائے گا جنھیں اللہ تعالیٰ وجود میں لاتا ہے جو صاحب بصیرت کے لیے حق پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿وَفِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور خود ان کے نفسوں میں بھی۔‘‘ ایسی نشانیاں ہیں جو اس کی تعجب خیز کاریگری اور اس کی لامحدود قدرت میں سے ہیں، نیز اہل تکذیب پر عذاب اور عبرتناک سزاؤ ں کے نزول اور اہل ایمان کی نصرت میں ان کے لیے دلائل ہیں۔ ﴿حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ ﴾ ’’حتی کہ ان پر واضح ہوجائے گا۔‘‘ ان آیات سے جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ﴿اَنَّهُ الۡحَقُّ ﴾ ’’بلاشبہ وہ حق ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، جس سے حق واضح ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ایمان کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’کیا یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر شے پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی کیا ان کے لیے اس حقیقت پر اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی نہیں کہ قرآن حق ہے اور اس کو پیش کرنے والی ہستی سچی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صداقت کی گواہی دی ہے اور وہ سب سے سچا گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ہستی کی تائید فرمائی اور نصرت سے نوازا جو اس شخص کے لیے شہادت قولی کو متضمن ہے، جو اس میں شک کرتا ہے۔
[54]﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں، اس لیے وہ آخرت کے لیے کوئی کام کرتے ہیں نہ آخرت کی طرف التفات کرتے ہیں۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍ مُّؔحِيۡطٌ ﴾ آگاہ رہو! بے شک اس نے اپنے علم، قدرت اور غلبہ سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔