Tafsir As-Saadi
41:34 - 41:35

اور نہیں برابر ہوتی نیکی اور نہ برائی، ٹالیے(برائی کو) ایسی بات سے کہ وہ احسن ہو، تو یکایک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے(ایسا ہو جائے گا) گویا کہ وہ دوست ہے نہایت گہرا (34) اور نہیں سکھلائی جاتی یہ (خصلت) مگر انھی لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور نہیں سکھلائی جاتی یہ (خصلت) مگر اسی کو جو بڑا نصیبے والا ہے (35)

[34]﴿وَلَا تَسۡتَوِي الۡحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ﴾ ’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوسکتیں‘‘ یعنی نیکی اور اطاعت کا فعل، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سرانجام دیا گیا اور بدی اور گناہ کا فعل جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہو، کبھی برابر نہیں ہو سکتے، مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور مخلوق کے ساتھ برا سلوک دونوں برابر نہیں ہو سکتے، اپنی ذات میں برابر ہو سکتے ہیں نہ اپنے اوصاف میں اور نہ اپنی جزا میں۔ فرمایا:﴿هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمن: 55؍60) ’’نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے احسانِ خاص کا ذکر فرمایا، اس کا بڑا مقام ہے اور وہ ہے اس شخص کے ساتھ احسان کرنا، جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾ ’’آپ (بدی کا) ایسی بات سے دفاع کیجیے جو اچھی ہو‘‘ یعنی جب کبھی لوگوں میں سے کوئی شخص آپ کے ساتھ برا سلوک کرے، خاص طور پر وہ شخص، جس کا آپ پر بہت بڑا حق ہے، مثلاً: عزیز و اقارب اور دوست احباب وغیرہ۔ یہ برا سلوک قول کے ذریعے سے ہو یا فعل کے ذریعے سے، اس کا مقابلہ ہمیشہ حسن سلوک سے کریں۔ اگر اس نے آپ سے قطع رحمی کی ہے تو آپ اس سے صلہ رحمی کریں، اگر وہ آپ پر ظلم کرے، آپ اس کو معاف کریں اگر وہ آپ کے بارے میں آپ کی موجودگی میں کوئی بات کہے یا غیر موجودگی میں کوئی بات کہے تو آپ اس کا مقابلہ نہ کریں بلکہ اس کو معاف کر دیں اور اس کے ساتھ انتہائی نرمی سے بات کریں۔ اگر وہ آپ سے بول چال چھوڑ دے تو آپ اس سے اچھی طرح بات کریں اور اسے کثرت سے سلام کریں۔ جب آپ اس کی برائی کے بدلے حسن سلوک سے پیش آئیں گے تو آپ کو عظیم فائدہ حاصل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ ﴾ ’’کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمھارا گرم جوش دوست ہے۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ قریبی اور انتہائی مشفق ہے۔
[35]﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ ﴾ ’’اور نہیں نصیب ہوتی یہ (صفت)‘‘ یعنی اس خصلت حمیدہ کی توفیق نہیں دی جاتی ہے۔ ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا ﴾’’مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں۔‘‘ جو اپنے نفس کو ان امور کا پابند بناتے ہیں، جنھیں ان کے نفس ناپسند کرتے ہیں اور انھیں ایسے امور پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ نفس انسانی کی جبلت ہے کہ وہ برائی کا مقابلہ برائی اور عدم عفو سے کرتا ہے۔ تب وہ احسان کیوں کر کر سکتا ہے؟ جب انسان اپنے نفس کو صبر کا پابند بنالیتا ہے اور اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے بے پایاں ثواب کو جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اسی جیسا سلوک کرنا اسے کچھ فائدہ نہیں دے گا اور عداوت صرف شدت ہی میں اضافے کا باعث ہو گی اور یہ بھی علم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اس کی قدرومنزلت کم نہیں ہو گی، بلکہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رفعت عطا کرتا ہے، تب معاملہ اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اس فعل کو سرانجام دیتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’اور یہ مقام انھی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں۔‘‘ یہ خاص لوگوں کی خصلت ہے جس کے ذریعے سے بندے کو دنیا و آخرت میں رفعت عطا ہوتی ہے اور یہ مکارم اخلاق میں سب سے بڑی خصلت ہے۔