اور نہ جدا جدا ہوئے وہ، مگر بعد اس کے کہ آ گیا ان کے پاس علم (محض) سرکشی سے آپس میں، اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے سے (طے) تھی آپ کے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک، تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بلاشبہ وہ لوگ جو وارث بنائے گئے اس کتاب کے ان کے بعد، البتہ شک میں ہیں اس کی بابت، جو اضطراب انگیز ہے (14) پس اسی (دین) کی طرف آپ بلائیں اور ثابت قدم رہیں جیسے حکم دیا گیا ہے آپ کو اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور کہہ دیجیے: ایمان لایا میں ساتھ اس کےجو نازل کی اللہ نے کتاب سے، اور حکم دیا گیا ہوں میں کہ انصاف کروں تمھارے درمیان، اللہ رب ہے ہمارا اور رب ہے تمھارا، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال، نہیں کوئی جھگڑا ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ (روز قیامت)یکجائی کر دے گا ہمارے درمیان اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (15)
[14] اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر مجتمع رہنے کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع کیا۔ اس کے بعد انھیں خبردار کیا کہ وہ اس بات پر غرور نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتاب نازل فرمائی۔ کیونکہ اہل کتاب نے کتاب نازل ہونے کے بعد جو اجتماع و اتحاد کی موجب تھی، ایک دوسرے سے اختلاف کیا ، لہٰذا ان کا عمل کتاب اللہ کے حکم کے خلاف تھا اور یہ سب کچھ ان کی طرف سے بغاوت اور عدوان کی وجہ سے صادر ہوا۔ کیونکہ انھوں نے آپس میں بغض، کینہ اور حسد کا رویہ رکھا جس سے ان کے درمیان عداوت پیدا ہوئی اور اس طرح اختلاف پیدا ہوا۔ اے مسلمانو! ان جیسا رویہ اختیار کرنے سے بچو۔ ﴿وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لیے فیصلہ نہ ٹھہر چکا ہوتا۔‘‘ یعنی فیصلہ کن عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر کر دینے کا فیصلہ ﴿لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ مگر اللہ کی حکمت اور اس کا حکم اس تاخیر کے متقاضی تھے۔ ﴿وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡرِثُوا الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی علم سے انتساب رکھنے والے لوگ جو ان کے وارث ہوئے اور ان کے جانشین ٹھہرے۔ ﴿لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ مُرِيۡبٍ ﴾ بہت زیادہ شک و اشتباہ میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ان میں اختلاف واقع ہو گیا۔ جہاں ان کے اسلاف نے بغاوت اور عناد کے سبب سے ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کیا وہاں اخلاف نے بھی شک و ریب کی بنا پر اختلاف کیا۔ اختلاف مذموم میں سب لوگ شریک تھے۔
[15]﴿فَلِذٰلِكَ فَادۡعُ ﴾ یعنی اس دین قویم اور صراط مستقیم کی طرف اپنی امت کو دعوت دیجیے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرمائیں اور رسول مبعوث کیےاور انھیں اس کی ترغیب دیجیے اور اس کی خاطر ان لوگوں سے جہاد کیجیے جو اس کو قبول نہیں کرتے۔ ﴿وَاسۡتَقِمۡ ﴾ ’’اور خود بھی استقامت اختیار کیجیے‘‘ ﴿كَمَاۤ اُمِرۡتَ ﴾ ’’جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔‘‘ استقامت سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت ہے، جس میں کوئی افراط و تفریط نہ ہو بلکہ اس میں دائمی طور پر اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب ہو۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تکمیل کے لیے استقامت کے التزام اور دوسروں کی تکمیل کے لیے اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا نیز ہمیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دیے گئے حکم کا اطلاق امت پر بھی ہوتا ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ حکم صرف آپ کے ساتھ مخصوص نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ یعنی دین سے منحرف لوگوں ، یعنی کفارومنافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔ یہ اتباع یا تو ان کے دین کے کسی حصے کی اتباع کے ذریعے سے یا اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو ترک کرنے یا استقامت کو ترک کرنے سے واقع ہوتی ہے۔ اگر آپ نے علم کے آ جانے کے بعد بھی، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں )وَلَا تَتَّبِـعْ دِینَھُمْ( نہیں کہا کیونکہ حقیقت میں ان کا دین جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مشروع فرمایا ہے، وہی دین ہے جو تمام انبیاء و مرسلین کا دین ہے، مگر ان کے متبعین نے اس دین کی پیروی نہ کی بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے اور اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا۔ ﴿وَقُلۡ ﴾ ان کے مناظرہ اور بحث کرنے پر کہہ دیجیے ﴿اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنۡ كِتٰبٍ ﴾ ’’جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ آپ کا بحث و مناظرہ، اس عظیم اصول پر مبنی ہونا چاہیے جو اسلام کے شرف و جلال پر دلالت کرتا ہے اور تمام ادیان پر اس کے نگران ہونے کا اور یہ اہل کتاب جس دین پر چلنے کے دعویدار ہیں، وہ بھی اسلام کا ایک جزو ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے کہ اگر اہل کتاب، بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لا کر اور دیگر کا انکار کر کے مناظرہ کریں تو یہ قابل قبول نہیں کیونکہ جس کتاب کی طرف یہ لوگ دعوت دیتے ہیں اور جس رسول کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، اس کی صداقت کی شرط یہ ہے کہ وہ اس قرآن کی اور اس کو لانے والے کی تصدیق کرتا ہو۔ پس ہماری کتاب اور ہمارا رسول (ﷺ) ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰi تورات اور انجیل پر ایمان لائیں جن کی قرآن مجید نے تصدیق کی ہے ان کے بارے یہ بھی خبر دی ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق اور اس کی صحت کا اقرار کرتی ہیں۔ مجرد تورات و انجیل اور حضرت موسیٰ و عیسیٰi، جو ہمارے اوصاف بیان کرتے ہیں نہ ہماری کتاب کی موافقت کرتے ہیں، تو ان پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم نہیں دیا۔ ﴿وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں۔‘‘ یعنی ان امور میں فیصلہ کرتے وقت جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو ۔ اے اہل کتاب! تمھاری عداوت اور میرے خلاف تمھارا بغض مجھے تمھارے درمیان انصاف کرنے سے روک سکتا ہے نہ اہل کتاب وغیرہ میں مختلف اقوال کے قائلین کے درمیان فیصلے میں عدل سے باز رکھ سکتا ہے اور نہ ان کے ساتھ جو حق ہے اسے قبول کرنے اور ان کے باطل کو رد کرنے سے روک سکتاہے۔ ﴿اَللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ ہی ہمارا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی وہ سب کا رب ہے، تم ہم سے زیادہ اس کے مستحق نہیں ہو۔ ﴿لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡ ﴾ ’’ہمارے اچھے برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اچھے برے اعمال تمھارے لیے ہیں۔‘‘ ﴿لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے۔‘‘ حقائق کے عیاں ہو جانے، باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد حجت بازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ کیونکہ بحث و مباحثہ کا مقصد محض حق اور باطل کو واضح کرنا ہوتا ہے تاکہ ہدایت یافتہ شخص اس سے راہ نمائی حاصل کرے اور گمراہ پر حجت قائم ہو جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اہل کتاب مباحثہ نہیں کرتے اور یہ مراد ہو بھی کیسے سکتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَا تُجَادِلُوۡۤا اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾(العنکبوت:29؍46) ’’اہل کتاب کے ساتھ بحث مباحثہ نہ کرو، مگر احسن طریقے سے۔‘‘ اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ذکر کر دی ہے۔ ﴿اَللّٰهُ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا١ۚ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا ، پھر وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس وقت واضح ہو جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔