مقرر کیا ہے اس نے تمھارے لیے(وہ)دین کہ وصیت کی اس نے اس کی نوح کو اور وہ جس کی وحی کی ہم نے آپ کی طرف اور وہ کہ وصیت کی ہم نے اس کی ابراہیم اور موسٰی اور عیسٰی کو، یہ کہ قائم رکھو تم اس دین کو اور نہ جدا جدا ہو تم اس میں، گراں گزرتی ہے مشرکین پر وہ (بات)کہ بلاتے ہیں آپ ان کو اس کی طرف، اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع کرتا ہے (13)
[13]یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو سرفراز فرمایا۔ اس نے ان کے لیے دین اسلام مشروع کیا، جو تمام ادیان میں سب سے افضل اور سب سے پاک دین ہے۔ دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے چنے ہوئے بندوں کے لیے مشروع کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے چنے ہوئے بندوں میں سے بھی خاص بندوں کے لیے اس دین کو مشروع کیا، جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا، جو ہر لحاظ سے تمام مخلوق میں سب سے کامل اور جن کا درجہ سب سے بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین ان کے لیے مشروع فرمایا، ضروری ہے کہ وہ مقدس ہستیوں کے مناسب حال اور ان کے کمال کے موافق ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے دین کو قائم کرنے کے سبب سے کمال سے سرفراز فرمایا اور اپنے لیے چن لیا۔ اگر دین اسلام نہ ہوتا تو تمام مخلوق میں کوئی بھی بلندی پر نہ پہنچ سکتا۔ اسلام سعادت کی روح اور کمال کی بنیاد ہے۔ اسلام وہی ہے جو اس کتاب کریم میں دیا گیا ہے اور جس کی طرف یہ کتاب دعوت دیتی ہے، یعنی توحید، اعمال صالحہ، مکارم اخلاق اور آداب وغیرہ۔﴿اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ ﴾ یعنی اس نے تمھیں حکم دیا ہے کہ تم دین کے تمام اصول و فروع کو قائم کرو۔ ان کو خود اپنی ذات پر نافذ کرو، پھر دوسروں پر نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرو۔ نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرو، گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔ ﴿وَلَا تَتَفَرَّقُوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔‘‘ تاکہ تم دین کے اصول و فروع پر متفق رہو۔ اس امر پر پوری توجہ رکھو کہ مسائل تم میں تفرقہ ڈال کر کہیں تمھیں گروہ در گروہ تقسیم نہ کر دیں اور یوں تم ایک دوسرے کے دشمن نہ بن جاؤ باوجودیکہ تمھارا دین ایک ہے۔ دین پر اجتماع اور عدم تفرقہ میں وہ اجتماعات عامہ بھی شامل ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ، مثلاً: حج، عیدین، جمعہ، نماز پنجگانہ اور جہاد وغیرہ ۔ یہ ایسی عبادات ہیں جو اجتماعات اور عدم تفرق کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔ ﴿كَبُرَ عَلَى الۡمُشۡرِكِيۡنَ مَا تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَيۡهِ ﴾ یعنی جب آپ ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں تو یہ بات ان پر بے انتہا شاق گزرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾(الزمر39؍45) ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب اللہ کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ مشرکین کہتے تھے: ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖ ۚ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾(ص:38؍5) ’’کیا اس نے ان سارے معبودوں کی بجائے ایک ہی معبود بنا دیا، یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘ ﴿اَللّٰهُ يَجۡتَبِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ میں برگزیدہ بنالیتا ہے۔‘‘ اللہ اپنی مخلوق میں ان لوگوں کو اپنے لیے منتخب کرتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت، اس کی ولایت اور اس کی نعمت کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اس طرح اس نے اس امت کا انتخاب کیا اور اسے تمام امتوں پر فضیلت سے نوازا اور اس کے لیے بہترین دین چنا۔ ﴿وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يُّنِيۡبُ ﴾ ’’اور جو اس کی طرف رجوع کرے وہ اسے اپنی طرف راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ بندے کی طرف سے یہ سبب جس کے ذریعے سے وہ ہدایت الٰہی کی منزل تک پہنچتا ہے، اپنے رب کی طرف انابت، دلی محرکات کا اس کی طرف میلان اور اپنے رب کی رضا کو اپنا مقصد بنانا یہ تمام اسباب، طلب ہدایت کے حصول کو آسان بناتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ ﴾(المائدہ:5؍16) ’’اس کتاب کے ذریعے سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يُّنِيۡبُ ﴾ اور فرمایا: ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾(لقمن:31؍15) ’’اور چلو اس شخص کے طریق پر جو ہماری طرف رجوع کیے ہوئے ہو۔‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں صحابہ کرام کے احوال معلوم ہیں اور ان کی شدت انابت بھی جو اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام خاص طور پر خلفائے راشدین کا قول حجت ہے۔ (y)