اور جو کچھ کہ اختلاف کیا تم نے اس میں کسی چیز سے تو فیصلہ اس کا اللہ کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں (10)(وہ) پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا، بنائے اس نے تمھارے لیے تمھارے ہی نفسوں سے جوڑے اور چوپاؤ ں سے بھی (ان کے) جوڑے، پھیلاتا ہے وہ تم کو اس میں، نہیں ہے اس کی مثل کوئی چیز اور وہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (11) اسی کے لیے ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی وہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (12)
[10]﴿وَمَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِيۡهِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔‘‘ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ ﴿فَحُكۡمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں، وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو، وہ باطل ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّيۡ ﴾ ’’یہی اللہ میرا رب ہے۔‘‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاقِ امت حجتِ قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ تب معلوم ہوا کہ جس چیز پر ہم اتفاق کریں تو امت کا اتفاق، اس کے حق ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے کیونکہ امت مجموعی طور پر معصوم عن الخطا ہے۔ اس لیے یہ لازمی امر ہے کہ کسی مسئلہ پر امت کا اتفاق، کتاب و سنت کے موافق ہو۔ ﴿عَلَيۡهِ تَوَؔكَّلۡتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر بھروسا کیا۔‘‘ جلب منفعت، دفع مضرت اور اپنی حاجت کے پورا ہونے کے بارے میں پورے وثوق کے ساتھ اسی پر اعتماد کرتا ہوں ﴿وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾ اور میں اپنے دل و جان سے اس کی طرف اور اس کی عبادت و اطاعت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔یہ دو ایسے اصول ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عظیم میں نہایت کثرت سے ذکر فرماتا ہے، کیونکہ ان دونوں کے جمع ہونے سے بندۂ مومن کو کمال حاصل ہوتا ہے۔ اور ان دونوں کے نہ ہونے یا ان میں سے کسی ایک سے محروم ہونے سے بندۂ مومن کمال سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحۃ:1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد کے طلب گار ہیں‘‘ اور فرمایا: ﴿فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ ﴾(ہود:11؍123) ’’اس کی عبادت کیجیے اور اس پر بھروسہ کیجیے۔‘‘
[11]﴿فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت، مشیت اور حکمت سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اسی نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جوڑے بنائے۔‘‘ تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کر سکو، تمھاری نسل بڑھ سکے اور تمھیں فائدہ حاصل ہو ﴿وَّمِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اور چوپایوں کے جوڑے بنائے۔‘‘ تمام اصناف سے نر اور مادہ دونوں اقسام بنائیں تاکہ ان کی نسل باقی رہ کر بڑھتی رہے اور تمھاری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں۔ اس لیے اس کو ’’لام‘‘ کے ذریعے سے متعدی بنایا ہے، جو تعلیل پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس نے یہ جوڑے تمھارے لیے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کے لیے بنائے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿يَذۡرَؤُكُمۡ فِيۡهِ ﴾ یعنی وہ تمھیں پھیلاتا اور بڑھاتا ہے اور تمھارے مویشیوں کو بھی بڑھاتا ہے، اس طریقے سے کہ اس نے تمھارے لیے تم میں سے تمھارے جوڑے بنائے اور تمھارے لیے تمھارے مویشیوں کے جوڑے بنائے۔ ﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ ’’ کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں۔‘‘ یعنی اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کی ذات میں، اس کے اسماء میں، اس کی صفات میں اور اس کے افعال میں مشابہت رکھتی ہے نہ مماثلت کیونکہ اس کے تمام اسماء، اسمائے حسنیٰ ہیں اور اس کی تمام صفات، صفات کمال و عظمت ہیں۔ اس نے اپنے افعال کے ذریعے سے اتنی بڑی کائنات کو بغیر کسی مددگار کے وجود بخشا۔ پس اس جیسی کوئی چیز نہیں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اپنے کمال میں واحد اور متفرد ہے۔ ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور وہ خوب سننے والا ہے۔‘‘ یعنی مخلوقات کی مختلف زبانوں اور متنوع حاجات کے باوجود وہ سب کی آوازیں سنتا ہے ﴿الۡبَصِيۡرُ ﴾ ’’خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ سیاہ رات میں، ٹھوس پتھر پر سیاہ چیونٹی کے رینگنے کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے حیوان کے جسم میں سرایت کرتی ہوئی خوراک اور درخت کی باریک سے باریک ٹہنی میں سرایت کرتے ہوئے پانی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ آیت کریمہ، صفات کے اثبات اور مخلوقات سے مماثلت کی نفی کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کے مذاہب پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ میں مشبہہ ’’اہل تشبیہ‘‘ کا رد ہے اور ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ ﴾ میں معطلہ ’’صفاتِ الٰہی کا انکار کرنے والوں‘‘ کا رد ہے۔
[12]﴿لَهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اس کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔‘‘ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا وہی مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں رحمت و رزق اور ظاہری و باطنی نعمتوں کی کنجیاں ہیں۔ تمام مخلوق ہر حال میں جلب مصالح اور دفع ضرر کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ کسی کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں، اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور محروم کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی ہستی شر کو دور نہیں کر سکتی۔ فرمایا:﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾(فاطر:35؍2) ’’اللہ لوگوں پر جس رحمت کا دروازہ کھول دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے، اس کے بعد اسے کوئی بھیجنے (کھولنے) والا نہیں۔‘‘ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ وہ اصناف رزق میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کشادہ رزق عطا کرتا ہے ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾ جس کے لیے چاہتا ہے اس کا رزق تنگ کر دیتا، یہاں تک کہ اسے صرف بقدر حاجت رزق عطا کرتا ہے اور حاجت سے زیادہ عطا نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ اس کے علم و حکمت کے تابع ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ اپنے بندوں کے احوال کو خوب جانتا ہے۔‘‘ ہر شخص کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کی مشیت تقاضا کرتی ہے اور جو اس کی حکمت کے لائق ہے۔