Tafsir As-Saadi
42:47 - 42:48

تم حکم قبول کرو اپنے رب کا پہلے اس کے کہ آ جائے وہ دن کہ نہیں ہے پھرنا اس کا اللہ کی طرف سے نہیں ہو گی تمھارے لیے کوئی جائے پناہ اس دن اور نہ ہو گا تمھارے لیے(چھپ کر)انجان بن جانا (47) پس اگر وہ منہ موڑیں، تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگران، نہیں ہے آپ کے ذمے مگر پہنچا دینا ہی اور بلاشبہ جب ہم چکھاتے ہیں انسان کو اپنی طرف سے رحمت تو وہ خوش ہوتا ہے ساتھ اس کے، اور اگر پہنچتی ہے ان کو کوئی تکلیف، بسبب ان (اعمال) کے جو آگے بھیجے ان کے ہاتھوں نے، تو بلاشبہ انسان بہت ہی ناشکرا ہے (48)

[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی دعوت پر لبیک کہیں، وہ جس چیز کا حکم دے اس کی تعمیل کریں اور جس چیز سے روکے اس سے اجتناب کریں اس کو ٹالنے کی بجائے اس پر جلدی سے عمل کریں قیامت کے دن کے آنے سے پہلے کہ جب وہ آئے گا تو اس کو روکا جا سکے گا نہ کسی رہ جانے والی چیز کا تدارک ہو سکے گا۔ اس دن بندے کے پاس کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی جہاں وہ پناہ لے کر اپنے رب سے بچ سکے اور اس سے بھاگ سکے۔ بلکہ فرشتے تمام خلائق کو پیچھے سے گھیرے ہوئے ہوں گے اور ان کو پکار کر کہا جائے گا:﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جانے کی طاقت رکھتے ہو تو پھر نکل جاؤ ، تم نکل نہیں سکتے مگر طاقت کے ساتھ۔‘‘ اس روز بندہ اپنے کیے ہوئے جرائم کا انکار نہیں کرسکے گا، بلکہ اگر وہ انکار کرے گا تو اس کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس آیت اور اس نوع کی دیگر آیات کریمہ میں جھوٹی امیدوں کی مذمت کی گئی ہے اور ہر وہ عمل جو بندے کو پیش آسکتا ہے، فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ تاخیر میں بہت سی آفتیں ہیں۔
[48]﴿فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا ﴾ بیان کامل کے بعد اگر یہ لوگ اس چیز سے منہ موڑیں جو آپ نے پیش کی۔ ﴿فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ﴾ ’’تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ کہ آپ ان کے اعمال کی نگرانی کریں اور آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے ۔ ﴿اِنۡ عَلَيۡكَ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’آپ کے ذمے صرف (احکام) پہنچا دینا ہے۔‘‘ جب آپ نے اپنی ذمہ داری کو پورا کر دیا تو اللہ تعالیٰ پر آپ کا اجر واجب ٹھہرا، خواہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کریں یا روگردانی کریں، ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے جس نے ان کے چھوٹے بڑے اور ظاہری، باطنی اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی حالت بیان کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے یعنی اسے جسمانی صحت، رزق کی فراوانی اور عزت و جاہ عطا کرتا ہے۔ تو ﴿فَرِحَ بِهَا ﴾ ’’وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس طرح خوش ہوتا ہے کہ اس کی خوشی انھی چیزوں پر مرتکز ہو کر رہ جاتی ہے، اس سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس کے اس رویے سے، ان چیزوں پر اس کی طمانیت اور منعم حقیقی سے روگردانی لازم آتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ﴾’’ اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی کوئی مرض یا فقر وغیرہ لاحق ہوتا ہے ﴿بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ كَفُوۡرٌ ﴾ ’’ان اعمال کے سبب جو انھوں نے کیے، تو انسان بہت ہی ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی اس کی فطرت میں سابقہ نعمت کی ناشکری اور اسے جو تکلیف پہنچتی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ سے ناراضی رچی بسی ہوئی ہے۔