Tafsir As-Saadi
42:36 - 42:39

پس جو بھی دیے گئے ہو تم کسی چیز سے تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ کہیں بہتر اور بہت پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر وہ بھروسا کرتے ہیں (36) اور وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اور جب غصے ہوتے ہیں تو وہ معاف کر دیتے ہیں (37) اور وہ جنھوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کی انھوں نے نماز اور ان کا کام ہے مشورہ کرنا آپس میں، اور اس میں سے جو دیا ہم نے ان کو، وہ خرچ کرتے ہیں (38) اور وہ لوگ کہ جب پہنچتا ہے ان کو ظلم تو وہ بدلہ لیتے ہیں(39)

[36] اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیارکرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿فَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’پس جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ۔ ﴿فَمَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔‘‘ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے۔ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ بے پایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ﴿خَيۡرٌ ﴾ لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیا کی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ ﴿وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور زیادہ پائدار ہیں۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں کوئی تکدر ہے نہ یہ ختم ہونے والی ہیں اور نہ یہ کہیں اور منتقل ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو اس ثواب سے بہرہ مند کیا جائے گا ، چنانچہ فرمایا :﴿لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ﴾ یعنی جنھوں نے ایمان صحیح، جو ظاہری اور باطنی ایمان کے اعمال کو مستلزم ہے اور توکل کو جمع کر لیا ہے جو ہر عمل کا آلہ ہے پس ہر عمل جس کی مصاحبت میں توکل نہ ہو، غیرمکمل ہے۔ اور جس چیز کو بندہ پسند کرتا ہے اسے حاصل کرنے اور جسے ناپسند کرتا ہے اسے دور کرنے میں قلب کے اللہ تعالیٰ پر پورے وثوق کے ساتھ بھروسہ کرنے کا نام توکل ہے۔
[37]﴿وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓىِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔‘‘ کبائر اور فواحش میں، دونوں کے گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود، فرق یہ ہے کہ فواحش وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کے لیے نفس انسانی میں داعیہ موجود ہوتا ہے، مثلاً: زنا وغیرہ اور کبائر وہ گناہ ہیں جن کے لیے نفس میں داعیہ موجود نہیں ہوتا، یہ مفہوم دونوں کے اکٹھا استعمال کے وقت ہے۔ اور رہا ان کا انفرادی وجود، تو وہ سب کبائر میں داخل ہیں۔ ﴿وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ﴾ ’’اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے مکارم اخلاق اور محاسن عادات سے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے، حلم ان کی فطرت اور حسن خلق ان کی طبیعت بن گیا ہے حتیٰ کہ جب کبھی کوئی شخص کسی قول یا فعل کے ذریعے سے انھیں ناراض کر دیتا ہے تو وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے، بلکہ قصور بخش دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں حسن سلوک اور عفوودرگزر سے کام لیتے ہیں۔ پس اس عفوودگزر پر، خود ان کی ذات میں اور دوسروں میں بہت سے مصالح مترتب اور بہت سے مفاسد دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ:41؍34، 35) ’’برائی کو نیکی کے ذریعے سے دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص بھی جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے، جگری دوست بن جائے گا، اس وصف سے صرف وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں، جو صبر کرتے ہیں اور یہ وصف صرف انھیں لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘
[38]﴿وَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور جو اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطمحِ نظر اور اس کے قرب کا حصول ان کی غرض و غایت بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دعوت کا جواب دینے سے مراد ہے، نماز قائم کرنا اور زکاۃ ادا کرنا، اس لیے ان کا استجابت پر عطف کیا ہے، یہ خاص پر عام کے عطف کے باب میں سے ہے، جو اس کے فضل و شرف کی دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ یعنی اس کے ظاہر و باطن اور فرائض و نوافل کو قائم کرتے ہیں۔ ﴿وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ﴾ ’’اور ہم نے جو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ اور اقارب پر خرچ کرنا وغیرہ اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: عام مخلوق پر صدقہ کرنا۔ ﴿وَاَمۡرُهُمۡ ﴾ ان کے دینی اور دنیاوی معاملات ﴿شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’باہم مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘ یعنی مشترکہ امور میں ان میں سے کوئی بھی اپنی رائے کو مسلط نہیں کرتا۔ یہ وصف ان کی اجتماعیت، آپس کی الفت، مودت اور محبت ہی کا حصہ ہے۔ ان کا کمال عقل ہے کہ جب وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرتے ہیں جس میں غوروفکر کی ضرورت ہو تو وہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں بحث و تمحیص اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں، جب ان پر مصلحت واضح ہو جاتی ہے تو اسے جلدی سے قبول کر لیتے ہیں، جیسے غزوہ، جہاد، امارت یا قضا وغیرہ کے لیے عمّال مقرر کرنے میں مشورہ کرنا اور دینی مسائل میں بحث و تحقیق کرنا کیونکہ یہ اعمال مشترکہ امور میں شمار ہوتے ہیں تاکہ صحیح رائے واضح ہو جائے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ یہ بھی اسی آیت کریمہ کے تحت آتا ہے۔
[39]﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ ’’اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم و تعدی ہو۔‘‘ یعنی ان کے دشمنوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی کی جاتی ہے ﴿هُمۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ بدلہ لیتے ہیں۔‘‘ اپنی قوت و طاقت کی بنا پر ان سے بدلہ لیتے ہیں، وہ کمزور اور بدلہ لینے سے عاجز نہیں ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان، اللہ پر توکل، کبائر و فواحش سے اجتناب جس سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، مکمل اطاعت، اپنے رب کی دعوت کو قبول کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کے راستوں میں خرچ کرنے، اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنے، دشمن کے خلاف قوت استعمال کرنے اور اس سے مقابلہ کرنے سے متصف کیا ہے۔ وہ ان خصائل کمال کے جامع ہیں اور یوں ان سے کمتر افعال کے صدور اور مرقومہ بالاخصائل کی اضداد کی نفی لازم آتی ہے۔