Tafsir As-Saadi
42:51 - 42:53

اور نہیں لائق واسطے کسی بشر کے یہ کہ کلام کرے اس سے اللہ، مگر الہام (دل میں القا) کر کے یا پردے کے پیچھے سے یا بھیج کر فرشتہ، پس وہ (وحی) پہنچاتا اس کےحکم سے جو وہ چاہتا، بلاشبہ وہ بہت بلند ہے نہایت حکمت والا (51) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک روح (قرآن) اپنے حکم سے، نہیں تھے آپ جانتے، کیا ہے کتاب اور نہ ایمان، اور لیکن بنا دیا ہم نے اس کو نور، ہدایت کرتے ہیں ہم اس کےذریعے سے جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے اور بلاشبہ آپ البتہ رہنمائی کرتے ہیں طرف سیدھے راستے کی (52) اللہ کے راستے کی، وہ (اللہ) جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، آگاہ رہو! اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب معاملات (53)

[51] چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے تکبر اور سرکشی کی بنا پر کہتے تھے: ﴿لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ ﴾(البقرہ:2؍118) ’’ہمارے ساتھ اللہ کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعے سے ان کا رد کیا اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں میں سے صرف اپنے خاص بندوں یعنی رسولوں سے کلام کرتا ہے اور وہ بھی ذیل کی صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں:(۱)یا تو وہ ان کے ساتھ وحی کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ فرشتہ بھیجے بغیر اور بالمشافہ مخاطب ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے قلب پر وحی کا القا کرتا ہے۔(۲)﴿اَوۡ ﴾ یا اس کے ساتھ بالمشافہ کلام کرتا ہے، مگر ﴿مِنۡ وَّرَآئِ حِجَابٍ ﴾پردے کے پیچھے سے جیسا کہ حضرت موسیٰ بن عمرانp کو شرف کلام حاصل ہوا۔(۳)﴿اَوۡ ﴾ یا اللہ تعالیٰ فرشتے کے توسط سے کلام کرتا ہے پس ﴿يُرۡسِلَ رَسُوۡلًا ﴾ ’’وہ کسی پیغام رساں کو بھیجتا ہے۔‘‘ مثلاً: جبریلu کو یا دیگر فرشتوں میں سے کسی فرشتے کو۔ ﴿فَيُوۡحِيَ بِـاِذۡنِهٖ﴾ پس وہ فرشتہ مجرد اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اپنے رب کے حکم سے وحی القا کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ﴾ ’’بے شک وہ‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے اوصاف میں بہت بلند اور افعال میں بہت عظیم ہے، وہ ہر چیز پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کی مطیع ہے۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ تمام مخلوقات اور شرائع میں سے ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھنے میں حکمت والا ہے۔
[52]﴿وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی بھیجی تو ﴿اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ﴾ ’’ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح بھیجی۔‘‘ اور وہ روح یہ قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو روح کے نام سے موسوم کیا کیونکہ روح سے جسد زندہ ہوتا ہے اور قرآن سے قلب و روح زندہ ہوتے ہیں۔ قرآن سے دین و دنیا کے مصالح کو زندگی ملتی ہے کیونکہ اس میں خیر کثیر اور بے پایاں علم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولﷺ اور اپنے اہل ایمان بندوں پر ان کی طرف سے کسی سبب کے بغیر، محض احسان ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ ﴾ ’’آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یعنی آپ پر قرآن نازل ہونے سے پہلے ﴿مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾ ’’کتاب کو نہ ایمان کو‘‘ یعنی آپ کے پاس کتب سابقہ کی خبروں کا علم تھا نہ شرائع الٰہیہ پر ایمان و عمل کا علم بلکہ آپ تو امی تھے، لکھ سکتے تھے نہ پڑھ سکتے تھے۔ پس آپ کے پاس یہ کتاب آئی۔ ﴿جَعَلۡنٰهُ نُوۡرًؔا نَّهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ہم نے اسے نور اور ہدایت بنایا ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔‘‘ جس سے ہمارے بندے کفروبدعت کی تاریکیوں اور ہلاک کر دینے والی خواہشات میں، روشنی حاصل کرتے ہیں، اس کتاب کے ذریعے سے حقائق کو پہچانتے ہیں اور اس کتاب سے راہ نمائی حاصل کر کے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ ﴿وَاِنَّكَ لَتَهۡدِيۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ یعنی آپ ان کے سامنے صراط مستقیم واضح کرتے ہیں، صراط مستقیم کی ترغیب دینے اور اس کے متضاد راستوں پر چلنے سے روکتے اور ان سے ڈراتے ہیں۔
[53] پھر اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيۡ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی یہ وہ راستہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا اور انھیں آگاہ کیا کہ یہ راستہ اس کے پاس اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ یعنی تمام اچھے برے معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔