Tafsir As-Saadi
43:9 - 43:14

اور البتہ اگر سوال کریں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو یقیناً وہ ضرور کہیں گے کہ پیدا کیا ان کو بڑے زبردست خوب جاننے والے نے(9) وہ جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور بنائے تمھارے لیے اس میں راستے، تاکہ تم راہ پاؤ (10) اور وہ جس نے نازل کیا آسمان سے پانی ایک اندازے سے، پھر زندہ کر دیا ہم نے اس کےذریعے سے مردہ شہر کو، اسی طرح تم (دوبارہ) نکالے جاؤ گے (11) اور وہ جس نے پیدا کیے جوڑے سب، اور بنائیں تمھارے لیے کشتیاں اور چوپائے کہ سوار ہوتے ہو تم(ان پر)(12) تاکہ جم کر بیٹھو تم ان کی پیٹھوں پر ، پھر یاد کرو تم نعمت اپنے رب کی، جب برابر ہو کر بیٹھ جاؤ تم ان پر اور کہو تم، پاک ہے وہ (اللہ) جس نے تابع کر دیا ہمارے اس کو اور نہیں تھے ہم اس کو قابو میں کر لینے والے (13) اور بے شک ہم طرف اپنے رب کی ضرور لوٹنے والے ہیں (14)

[9] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ لَيَقُوۡلُنَّ خَلَقَهُنَّ الۡعَزِيۡزُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غالب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کر سکتی ہیں نہ رزق عطا کر سکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے؟
[10] پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی کامل نعمت و اقتدار پر دلالت کرتے ہیں، زمین کی اشیاء کو دلیل بنایا جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیں، اس زمین کو بندوں کے لیے ٹھکانا بنایا جہاں وہ ہر اس چیز پر متمکن ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ ﴿وَّجَعَلَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾ ’’اور اس میں تمھارے لیے راستے بنا دیے۔‘‘ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے پہاڑی سلسلوں کے درمیان گزر گاہیں بنائیں جہاں سے گزر کر تم ان پہاڑوں کے پاس واقع ممالک کو جاتے ہو۔ ﴿لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ﴾ تا کہ تم ان راستوں پر سفر کے دوران راہ پاؤ اور ضائع نہ ہو جاؤ اور تاکہ تم اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرو۔
[11]﴿وَالَّذِيۡ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ ﴾ ’’اور وہ ذات جس نے آسمان سے پانی اتارا اندازے کے ساتھ۔‘‘ وہ اس پانی میں کمی بیشی نہیں کرتا نیز پانی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے، یہ پانی کم نہیں ہوتا کہ فائدہ مفقود ہو جائے اور نہ اتنا زیادہ ہوتا ہے جس سے انسانوں اور زمین کو نقصان پہنچے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے سے اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے اور اس کے ذریعے سے زمین کو سختی سے بچاتا ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿فَاَنۡشَرۡنَا بِهٖ بَلۡدَةً مَّؔيۡتًا ﴾ یعنی ہم نے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ ﴿كَذٰلِكَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴾ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے پانی کے ذریعے سے بنجر اور مردہ زمین کو زندہ کیا اسی طرح جب تم اپنے بزرخ کے مرحلے کو پورا کر لو گے، تو وہ تمھیں زندہ کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[12]﴿وَالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ’’اور وہ ذات جس نے تمام چیزوں کے جوڑے پیدا کیے۔‘‘ یعنی وہ تمام اصناف جو زمین سے اگتی ہیں، خود ان کی ذات میں اور ان تمام اشیاء میں سے جن کا انھیں علم نہیں ، مثلاً: رات دن، گرمی سردی اور مذکر مونث وغیرہ میں سے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡفُلۡكِ ﴾ ’’اور تمھارے لیے کشتیاں بنائیں‘‘ یعنی تمام بادبانی اور دخانی کشتیاں جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ ﴿وَالۡاَنۡعَامِ مَا تَرۡؔكَبُوۡنَۙ ۰۰ ﴾’’اور چوپائے بھی جن پر تم سوار ہوتے ہو۔‘‘
[13]﴿لِتَسۡتَوٗا عَلٰى ظُهُوۡرِهٖ﴾ ’’ تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو۔‘‘ اور یہ آیت تمام مویشیوں کی پیٹھ کو شامل ہے، یعنی تم ان سواریوں کی پیٹھ پر استقرار پکڑو۔ ﴿ثُمَّ تَذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ رَبِّكُمۡ اِذَا اسۡتَوَيۡتُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ پھر جب تم ان پر ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ، تو اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس ہستی کا ذکر کرو جس نے ان کو تمھارے لیے مسخر کیا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَتَقُوۡلُوۡا سُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ سَخَّرَ لَنَا هٰؔذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقۡرِنِيۡنَ﴾ اور کہو: اگر اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں اور مویشیوں کو ہمارے لیے مسخر نہ کیا ہوتا تو ہم ان کو مسخر کرنے کی طاقت اور قدرت نہیں رکھتے تھے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے ان سواریوں کو ہمارے لیے مسخر کیا اور ان کے اسباب مہیا کیے۔ اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رب جو مذکورہ اوصاف سے متصف ہے جس نے بندوں پر ان نعمتوں کا فیضان کیا ہے وہی اس چیز کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کی نماز پڑھی جائے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوا جائے۔