اور بنا لیا انھوں نے اس کے لیے، اس کےبندوں میں سے ایک حصہ، بلاشبہ انسان البتہ بہت ناشکرا ہے صریح (15) کیا لیں اس نے ان میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے، بیٹیاں اورنوزا تم کو ساتھ بیٹوں کے (16) حالانکہ جب خوشخبری دی جاتی ہے ایک کو ان میں سے ساتھ اس کے کہ بیان کی اس نے رحمان کے لیے مثال تو ہو جاتا ہے اس کا چہرہ سیاہ اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے (17) کیا (اس کو اولاد ٹھہرایا ہے؟) جس کی پرورش کی جاتی ہے زیور میں اور وہ بحث و حجت میں نہیں ہے (بات کو) واضح کرنے والی (18) اور ٹھہرایا ہے انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو بندے ہیں رحمن کے، عورتیں، کیا وہ حاضر تھے ان کی پیدائش کے وقت؟ضرور لکھی جائے گی شہادت ان کی اور وہ سوال کیے جائیں گے(19) اور انھوں نے کہا: اگر چاہے رحمن تو نہ عبادت کریں ہم ان کی، نہیں ہے واسطے ان کے اس کی بابت کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر اٹکل پچو باتیں کرتے (20) یا دی ہے ہم نے ان کو کوئی کتاب اس سے پہلے، پس وہ اس کو تھامنے والے ہیں؟ (21)(نہیں)بلکہ انھوں نے کہا: بلاشبہ پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر اور ہم تو ان کے نشانات ِقدم ہی کے پیچھے چلنے والے ہیں (22) اور اسی طرح نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا ان کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر اور ہم تو ان کے نشانات ِ قدم ہی کی اقتدا کرنے والے ہیں (23) پیغمبر نے کہا: خواہ لاؤ ں میں تمھارے پاس صحیح تر، اس سے کہ پایا تم نے اس پر اپنے باپ دادوں کو؟ انھوں نے کہا، یقیناً ہم تو ساتھ اس کے، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں (24) تو بدلہ لیا ہم نے ان سے، پس دیکھیے! کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا؟ (25)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے: ۱۔ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔ ۲۔ بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور نعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
[16] ۳۔ کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ بیٹیاں کمزور ترین صنف ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تو بیٹیاں ہوں اور ان کو وہ بیٹے عطا کرے اور بیٹوں کے ذریعے سے ان کو فضیلت عطا کرے۔ اس صورت میں تو مخلوق اللہ تعالیٰ سے افضل ہے اور اللہ سے بالاوبلندتر ہے۔
[17] ۴۔ وہ صنف، جس کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے، یعنی بیٹیاں، تو یہ کمزور ترین اور خود ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند صنف ہے حتیٰ کہ ان کی کراہت کا یہ حال ہے۔ ﴿وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمۡ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجۡهُهٗ مُسۡوَدًّا ﴾ ’’ان میں سے کسی کو بیٹی کی ولادت کی، جسے وہ رحمان کی طرف منسوب کرتا ہے، خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے‘‘ یعنی سخت ناپسندیدگی اور ناراضی کے باعث اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے۔ ایسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے لیے کیوں کر مقرر کرتے ہیں جسے وہ خود ناپسند کرتے ہیں۔
[18] ۵۔ عورت اپنے وصف، اپنی منطق اور اپنے بیان کے اعتبار سے ناقص ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَوَمَنۡ يُّنَشَّؤُا فِي الۡؔحِلۡيَةِ ﴾ ’’کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے۔‘‘ یعنی اپنے حسن و جمال میں کمی کی وجہ سے آرائش کرتی ہے اور ایک امر خارج سے خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ﴿وَهُوَ فِي الۡخِصَامِ ﴾ اور بحث اور جھگڑے کے وقت، جو اس چیز کا موجب ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واضح کرے۔ ﴿غَيۡرُ مُبِيۡنٍ ﴾ تو وہ اپنی بات کو واضح اور اپنے مافی الضمیر کو کھول کر بیان نہیں کرسکتی تو یہ مشرکین اسے اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے منسوب کرتے ہیں۔
[19] ۶۔ انھوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں، عورتیں قرار دے دیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے بارے میں جسارت کی، انھوں نے ان کو بندگی اور اطاعت کے مرتبہ سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی بعض صفات میں مشارکت کے مرتبہ پر فائز کر دیا، پھر ان کو مذکر کے مرتبہ سے نیچے مؤنث کے مرتبہ پر لے آئے۔ پس پاک ہے وہ ذات ہے جس نے ان لوگوں کے تناقض کو ظاہر کر دیا جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھا۔ ۷۔ اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کے ذریعے سے ان کے دعوے کا رد کیا کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو تخلیق فرمایا، پس وہ کسی ایسے معاملے میں کیسے بات کرتے ہیں جس کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ اس ضمن میں ان کے پاس کوئی علم نہیں۔ ان سے اس شہادت کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، اس شہادت کو ان پر لازم کر دیا جائے گا اور اس پر ان کو سزا دی جائے گی۔
[20]﴿وَقَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔‘‘ فرشتوں کی عبادت کرنے کے لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو دلیل بنایا۔ مشرکین ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو دلیل بناتے چلے آئے ہیں۔ یہ عقلی اور شرعی طور پر فی نفسہ باطل دلیل ہے۔ کوئی عقل مند شخص تقدیر کی دلیل کو قبول نہیں کر سکتا۔ اگر وہ کسی حال میں اس راہ پر گامزن ہوتا ہے تو اس پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ رہا شرعی طور پر مشیت الٰہی کو دلیل بنانا، تو اللہ تعالیٰ نے مشیت کی دلیل کو باطل ٹھہرا دیا ہے۔ مشرکین اور رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے سوا کسی نے مشیت الٰہی کو دلیل نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حجت قائم کر دی ہے۔ اب بندوں کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہی۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿مَا لَهُمۡ بِذٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍ١ۗ اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ﴾ ’’ان کو اس کا کچھ علم نہیں وہ محض اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں۔‘‘ جس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی اور وہ شب کو اونٹنی کی مانند ٹیڑھی چال چلتے ہیں۔ ﴿اَمۡ اٰتَيۡنٰهُمۡ كِتٰبًا مِّنۡ قَبۡلِهٖ فَهُمۡ بِهٖ مُسۡتَمۡسِكُوۡنَ۠ ﴾ ’’کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس سے سند پکڑتے ہیں؟‘‘ یعنی جو ان کے افعال کی صحت اور اقوال کی صداقت کے بارے میں خبر دیتی ہو، مگر معاملہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیﷺ کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور آپ کے سوا اور کوئی ڈرانے والا ان کے پاس نہیں آیا ۔جب عقل و نقل سے دونوں امور کی نفی ثابت ہو گئی، تب وہاں باطل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔
[22] ہاں، ایک شبہ باقی ہے جو کمزور ترین شبہ ہے اور وہ ہے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلیدجس کی وجہ سے یہ کافر اللہ کے رسولوں کی دعوت کو ٹھکراتے رہے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ قَالُوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ ﴾ ’’بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے۔‘‘ یعنی ایک دین اور ملت پر ﴿وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم انھی کے قدم بقدم چل رہے ہیں۔‘‘ اس لیے ہم اس چیز کی پیروی نہیں کریں گے جو محمد (ﷺ) لے کر آئے ہیں۔
[23]﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ﴾ ’’اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت دینے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا۔‘‘ یعنی بستی کے وہ لوگ جو نعمتوں سے نوازے گئے تھے اور وہ اشراف جن کو دنیا نے سرکش اور مال و دولت نے مغرور بنا دیا تھا اور وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے تھے۔ کہا: ﴿اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھی کے نقش قدم کی اقتدا کر رہے ہیں۔ ‘‘پس ان لوگوں کا یہ رویہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور نہ یہ پہلے لوگ ہی ہیں جنھوں نے یہ بات کہی ہو۔ ان گمراہ مشرکین کا اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو دلیل بنانے کا مقصد حق اور ہدایت کی اتباع نہیں، بلکہ یہ تو محض تعصب ہے جس کا مقصد اپنے باطل موقف کی تائید و نصرت ہے۔
[24] بنابریں ہر رسول نے، ایسے لوگوں سے جنھوں نے اس باطل شبہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی، کہا ہے:﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾ ’’اگرچہ میں تمھارے پاس ایسا دین لاؤ ں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہ اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ یعنی کیا تم ہدایت کی خاطر میری پیروی کرو گے؟ ﴿قَالُوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا: جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ارادہ حق اور ہدایت کی اتباع نہ تھا۔ ان کا مقصد تو صرف باطل اور خواہشات نفس کی پیروی تھا۔
[25]﴿فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ پس اس باطل شبہ کی بنیاد پر ان کے حق کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کا ہم نے ان سے انتقام لیا۔ ﴿فَانۡظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ پس ان لوگوں کو اپنی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔