اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، بلاشبہ میں بیزار ہوں ان (بتوں) سے جن کی تم عبادت کرتے ہو (26) سوائے اس (اللہ) کے جس نے پیدا کیا مجھے، پس بے شک وہ عنقریب رہنمائی کرے گا میری (27) اور کرد یا اس (کلمہ ٔ توحید)کو ایک کلمہ باقی رہنے والا اپنی اولاد میں، تاکہ وہ رجوع کریں (28)بلکہ فائدہ پہنچایا میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو، یہاں تک کہ آیا ان کے پاس حق اور رسول کھول کر بیان کرنے والا(29) اور جب آیا ان کے پاس حق، تو کہا انھوں نے، یہ تو جادو ہے اور بلاشبہ ہم اس کےساتھ کفر کرنے والے ہیں (30) اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں نازل کیا گیا یہ قرآن کسی آدمی پر ان دونوں شہروں میں سے، جو بڑا ہو (31) کیا وہ تقسیم کرتے ہیں رحمت آپ کے رب کی؟ ہم ہی نے تقسیم کی ہے ان کے درمیان ان کی روزی زندگانیٔ دنیا میں اور بلند کیا ہم نے ان کے بعض کو اوپر بعض کے درجوں میں، تاکہ بنائے ان کا بعض، بعض کو خدمت گار، اور رحمت آپ کے رب کی بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں (32)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیمu کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اس زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں، جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے، خبر دی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’اور جب ابراہیم(u) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لیے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ﴿اِنَّنِيۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو، بلاشبہ میں ان سے بیزار ہوں۔‘‘ یعنی میں اس خود ساختہ معبود سے جس کی تم عبادت کرتے ہو، سخت نفرت کرتا ہوں اور اس کی عبادت کرنے والوں سے عداوت رکھتا ہوں اور ان سے دور رہتا ہوں۔
[27]﴿اِلَّا الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ ﴾ ’’ہاں جس نے مجھے پیدا کیا۔‘‘ پس میں اسی کو اپنا سرپرست بناتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ حق کے علم و عمل کے راستے میں میری راہ نمائی فرمائے گا اور جس طرح اس نے مجھے پیدا کیا اور ان امور کے ذریعے سے میری تدبیر کی جو میرے بدن اور میری دنیا کے لیے درست ہیں، اسی طرح ﴿فَاِنَّهٗ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ ان امور میں بھی میری راہ نمائی فرمائے گا جو میرے دین اور میری آخرت کے لیے درست ہیں۔
[28]﴿وَجَعَلَهَا ﴾ ’’اور اس کو کیا۔‘‘ یعنی اس خصلت حمیدہ کو جو تمام خصائل کی اساس ہے اور وہ ہے، صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرنا اور غیر اللہ کی عبادت سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کرنا، ﴿كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيۡ عَقِبِهٖ﴾ ’’باقی رہنی والی بات اس کے پیچھے آنے والوں میں۔‘‘ یعنی آپ کی ذریت میں ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید وہ اس بنا پر اس کلمۂ اخلاص کی طرف رجوع کریں کیونکہ اس کا آپ کی طرف منسوب ہونا شہرت رکھتا ہے، نیز اس بنا پر کہ آپ نے اپنی اولاد کو اس کلمۂ اخلاص کی وصیت کی اور آپ کی اولاد میں سے بعض جیسے: اسحاقu اور یعقوبu نے دوسرے نسبی بیٹوں کو اسی کلمۂ اخلاص کی وصیت کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّرۡغَبُ عَنۡ مِّلَّةِ اِبۡرٰؔهٖمَ اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ١ؕ وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا١ۚ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ۰۰اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰ وَوَصّٰى بِهَاۤ اِبۡرٰؔهٖمُ بَنِيۡهِ وَيَعۡقُوۡبُ١ؕ يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَؕ۰۰ اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ١ۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِيۡهِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ١ؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ۰۰ ﴾(البقرہ:2؍133-130) ’’ اور کون بے رغبتی کرسکتا ہے ملت ابراہیم سے سوائے اس کے جس نے اپنے نفس کو احمق بنالیا اور بے شک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں چن لیا اور یقینا وہ آخرت میں ضرور نیکو کاروں میں سے ہو گا اور جب ابراہیم سے اس کے رب نے کہا: فرمانبردار ہو جا! تو اس نے کہا :میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا ابراہیم نے اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو اسی (کلمۂ حق) کی وصیت کی: اے میرے بیٹو !بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے، پس تمھیں ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ کیا جب یعقوب کو موت آئی اس وقت تم موجود تھے؟ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا :میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ انھوں نے کہا: ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔ ‘‘
[29] یہ کلمۂ اخلاص ابراہیمuکی اولاد میں ہمیشہ موجود رہا ہے، یہاں تک کہ خوشحالی اور سرکشی ان پر غالب آ گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ مَتَّعۡتُ هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ ﴾ میں نے ان کو اور ان کے آباء واجداد کو مختلف انواع کی شہوات سے متمتع ہونے دیا یہاں تک کہ یہی شہوات ان کا مطمح نظر اور ان کا مقصد بن گئیں، ان کے دلوں میں ان شہوات کی محبت پھلتی پھولتی رہی، حتی کہ ان کی صفات اور بنیادی عقائد بن گئیں۔ ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس حق پہنچ گیا۔‘‘ جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ﴿وَرَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور صاف صاف سنانے والا رسول۔‘‘ یعنی آپ کی رسالت واضح تھی آپ کے اخلاق و معجزات سے آپ کی رسالت پر واضح اور نمایاں دلائل قائم ہوئے جو آپ لے کر مبعوث ہوئے ا ور انبیاء و مرسلین نے آپ کی تصدیق کی اور خود آپ کی دعوت سے بھی آپ کی رسالت پر دلائل قائم ہوتے ہیں۔
[30]﴿وَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور جب ان کے پاس حق پہنچ گیا۔‘‘ جو اس شخص پر جس میں ادنیٰ سا دین اور عقل ہے، واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرے۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ وَّاِنَّا بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا: یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔‘‘ اور یہ سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑی مخالفت ہے، پھر انھوں نے مجرد انکار اور روگردانی ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلایا۔ پس وہ اس وقت تک راضی نہ ہوئے جب تک کہ انھوں نے اس میں جرح و قدح نہ کی اور اسے جادو قرار نہ دے دیا، جسے بدترین لوگ اور سب سے بڑے افترا پرداز ہی پیش کرتے ہیں۔اور جس چیز نے ان کو اس رویے پر آمادہ کیا وہ ہے ان کی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کا ان کو اور ان کے آباء کو سامان زیست سے نوازنا۔
[31]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی انھوں نے اپنی عقل فاسد کے مطابق اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: ﴿لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ﴾ ’’یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہ کیا گیا؟‘‘ جو مکہ اور طائف کے لوگوں کے ہاں معظم اور معزز ہوتا اور وہ شخص ہوتا جو ان کے ہاں سردار شمار ہوتا ہے ، مثلاً: ولیدبن مغیرہ وغیرہ۔
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ﴾ یعنی کیا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانچی ہیں اور ان کے ہاتھ میں اس کی رحمت کی تدبیر ہے کہ جس کو چاہیں نبوت اور رسالت عطا کردیں اور جس کو چاہیں اس سے محروم کر دیں ﴿نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَرَفَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰؔتٍ ﴾ ’’ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کیا، اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کیے۔‘‘ یعنی اس دنیاوی زندگی میں ۔﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ حال یہ ہے کہ ﴿رَحۡمَتُ رَبِّكَ خَيۡرٌ مِّمَّا يَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’آپ کے رب کی رحمت اس (دنیا) سے بہتر ہے جو یہ اکٹھی کر رہے ہیں۔‘‘ جب بندوں کی معیشت اور ان کا دنیاوی رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہی اسے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کرتا ہے، اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق جس کو چاہتا ہے اس کے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کے رزق کو تنگ کر دیتا ہے تو اس کی رحمت دینی جس میں سب سے اعلیٰ و افضل نبوت اور رسالت ہے، اس چیز کی زیادہ مستحق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہو۔ پس اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت سے کسے سرفراز فرمائے۔ پس معلوم ہوا کہ کفار کا اعتراض لغو اور ساقط ہے۔ تمام دینی اور دنیاوی معاملات کی تدبیر اکیلے اللہ تعالیٰ ہی کے دست قدرت میں ہے۔ یہ ان کے اعتراض کی غلطی پر توجہ دلانا ہے، جو ان کے اختیار میں نہیں، یہ تو محض ان کا ظلم اور حق کو ٹھکرانا ہے۔ رہا ان کا یہ کہنا:﴿لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ﴾ اگر وہ لوگوں کے حقائق اور انسانی صفات کی معرفت رکھتے، جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے ہاں انسان کی بلند قدرومنزلت اور عظمت کا اندازہ کیا جاتا ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ حضرت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ، لوگوں میں عظیم ترین قدر و منزلت کے حامل، فخر میں سب سے اعلیٰ، عقل میں سب سے کامل، علم میں سب سے بڑھ کر، رائے اور عزم و حزم میں جلیل ترین، اخلاق میں بہترین، آپ کی رحمت کا دامن وسیع ترین، سب سے زیادہ شفقت رکھنے والے، سب سے زیادہ ہدایت یافتہ اور سب سے زیادہ متقی ہیں۔ آپ دائرۂ کمال کے مرکز اور انسانی اوصاف کی انتہائی بلندیوں پر فائز ہیں، آگاہ رہو کہ علی الاطلاق آپ ہی مرد کائنات ہیں۔ اس بات کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں، پس یہ مشرکین آپ پر کسی شخص کو کیوں کر فضیلت دے رہے ہیں جس میں ذرہ بھر یہ کمالات نہیں اور اس کے جرم و حمق کی انتہا یہ ہے کہ اس نے پتھر کو اپنا معبود بنا لیا، اس کی عبادت کرتا ہے، مصائب و حاجات میں اس کو پکارتا اور اس کا قرب حاصل کرتا ہے، جو اس کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، وہ کچھ عطا کر سکتا ہے نہ کسی چیز سے محروم کر سکتا ہے، وہ سراسر اپنے مالک پر بوجھ ہے اور کسی ایسے شخص کا محتاج ہے جو اس کے مصالح کی دیکھ بھال کرے۔ کیا یہ بیوقوفوں اور پاگلوں کا فعل نہیں؟ ایسے شخص کو کیوں کر عظیم قرار دیا جا سکتا ہے ؟ یا خاتم المرسلین اور بنی آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ پر کیوں کر فضیلت دی جاتی ہے؟ لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے، سمجھتے ہی نہیں۔ اس آیت کریمہ میں بندوں کی ایک دوسرے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ فضیلت میں پنہاں اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے ﴿لِّيَؔتَّؔخِذَ بَعۡضُهُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِيًّا ﴾ ’’تاکہ ایک، دوسرے سے خدمت لے۔‘‘ یعنی تاکہ وہ کاموں اور صنعت و حرفت میں ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اگر مال کے لحاظ سے تمام لوگ برابر ہوتے تو وہ ایک دوسرے کے محتاج نہ رہتے اور اس طرح ان کے بہت سے مصالح اور منافع معطل ہو کر رہ جاتے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ دینی نعمت دنیاوی نعمت سے بہتر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ ﴾(یونس:10؍؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے، اسی پر ان کو خوش ہونا چاہیے یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جن کو یہ جمع کرتے ہیں۔‘‘