کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو یا راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اور (ان کو) جو ہیں صریح گمراہی میں؟ (40) پس اگر ہم لے جائیں آپ کو (دنیا سے) تو بے شک ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں (41) یا دکھا دیں ہم آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کیا ہے ہم نے ان سے، تو بلاشبہ ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں (42) پس آپ مضبوطی سے تھام لیں اس چیز کو جو وحی کی گئی آپ کی طرف، بلاشبہ آپ اوپر سیدھے راستے کے ہیں (43) اور بلاشبہ وہ البتہ ایک نصیحت ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب تم سوال کیے جاؤ گے (44) اور پوچھیے(ان سے) جن کو ہم نے بھیجا آپ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے، کیا بنائے ہم نے سوائے رحمن کے کوئی اور معبود کہ وہ پوجے جائیں؟ (45)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو، اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انھیں ہدایت کی طرف بلائے۔ ﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ ﴾ ’’کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔‘‘ جو سنتے نہیں۔﴿اَوۡ تَهۡدِي الۡعُمۡيَ ﴾ ’’یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ جو دیکھتے نہیں یاکیا آپ اس شخص کی راہ نمائی کر سکتے ہیں ﴿مَنۡ كَانَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ہدایت نہیں پاسکتا۔ قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہو گئی اور انھوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لیے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انھیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور ان کی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔
[41] اب ان لوگوں کے لیے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عذاب انھیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنۡهُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔
[42]﴿اَوۡ نُرِيَنَّكَ الَّذِيۡ وَعَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’یا تمھیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے‘‘ ﴿فَاِنَّا عَلَيۡهِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔‘‘ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے پر موقوف ہے۔یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال۔
[43] سو آپ ﴿فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِيۡۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ ﴾ اپنے افعال میں اس چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور ان صفات سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے کا آپ کو یہ وحی حکم دیتی ہے، اس کی طرف دعوت دیں، اس کو اپنی ذات اور دوسروں پر نافذ کرنے کی خواہش رکھیں۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو آپ پر اس سے تمسک کرنے اور اس سے راہ نمائی حاصل کرنے کو اور زیادہ واجب کرتی ہے۔ جب آپ جانتے ہیں کہ یہ حق، عدل اور سچائی ہے تو آپ اسی اصل اصیل پر قائم رہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے شرک، اوہام اور ظلم وجور کو بنیاد بنا رکھا ہے۔
[44]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَ ﴾ ’’تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔‘‘ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ ’’اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟
[45]﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔‘‘یہاں تک کہ وہ الٰہ مشرکین کے لیے ایک قسم کی حجت بن جاتے جس میں وہ انبیاء و مرسلین میں کسی کی اتباع کرتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں اور انبیاء و مرسلین کے احوال کی خبر دریافت کریں تو آپ ایک بھی ایسا رسول نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لینے کی دعوت دیتا ہو، آپ دیکھیں گے اول سے لے کر آخر تک تمام رسول، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ﴾(النحل:16؍36) ’’ہم نے ہر قوم میں ایک رسول مبعوث کیا، جو انھیں دعوت دیتا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اپنی قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں، عقل صحیح کی رو سے نہ رسولوں کی تعلیمات میں سے نقل صحیح کی رو سے۔