کہہ دیجیے! اگر ہو (اللہ) رحمان کی کوئی اولاد تو میں سب سے پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں (81) پاک ہے رب آسمانوں اور زمین کا اور رب عرش کا، اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں (82) پس چھوڑ دیجیے ان کو وہ الجھے رہیں (اپنے جہل میں) اور کھیلیں کودیں یہاں تک کہ ملیں وہ اپنے اس دن کو جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (83)
[81] اے رسول ! ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، جس نے کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے ﴿قُلۡ اِنۡ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ١ۖ ۗ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے: اگر رحمٰن کے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔‘‘ اس بیٹے کی کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا جز ہوتا ہے۔ میں تمام مخلوق میں ان تمام اوامر پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہوں، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، مگر (تم دیکھ رہے ہو) کہ میں اس کا انکار کرنے والا پہلا شخص ہوں اور اس کی نفی کرنے میں سب سے زیادہ سخت ہوں، پس اس سے اس مشرکانہ قول کا بطلان ثابت ہو گیا۔ جو لوگ انبیائے کرام کے احوال کو جانتے ہیں اور انھیں یہ معلوم ہے کہ انبیاء کامل ترین مخلوق ہیں، ہر بھلائی پر عمل کرنے اور اس کی تکمیل کے لیے وہ پیش پیش رہتے ہیں اور ہر برائی کو ترک کرنے، اس کا انکار کرنے اور اس سے دور رہنے میں سب سے آگے ہیں تو ایسے لوگوں کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ پس اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا، تو محمد بن عبداللہ (ﷺ) جو سب سے افضل رسول ہیں، اولین شخص ہوتے جو اس کی عبادت کرتے اور اس کی عبادت کرنے میں مشرکین آپ پر کبھی سبقت نہ لے جاسکتے۔ آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا اولین شخص ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے میری عبادت یہ ہے کہ اس نے جس چیز کا اثبات کیا ہے میں اس کا اثبات کرتا ہوں اور جس چیز کی اس نے نفی کی ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں، پس یہ قولی و اعتقادی عبادت ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ اگر یہ بات حق ہوتی تو میں پہلا شخص ہوتا جو اس کا اثبات کرتا، لہٰذا اس سے اور عقل و نقل کے اعتبار سے مشرکین کے دعوے کا بطلان اور فساد معلوم ہوگیا۔
[82]﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں، آسمانوں اور زمین کا رب (اور) عرش عظیم کا رب اس سے پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ شریک، معاون مددگار اور اولاد وغیرہ ان تمام چیزوں سے پاک اور منزہ ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
[83]﴿فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا ﴾ ’’پس آپ انھیں چھوڑ دیں کہ وہ بے ہودہ کھیل کود میں لگے رہیں۔‘‘ یعنی یہ باطل میں مبتلا ہو کر محال امور سے کھیلتے ہیں، ان کے علوم ضرر رساں ہیں ان میں کوئی نفع نہیں، وہ ایسے علوم میں بحث کرتے اور ان میں مشغول ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے یہ لوگ حق اور دعوت کی مخالفت کرتے ہیں جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ ان کے اعمال محض لہوولعب ہیں جو نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں نہ ان سے معارف حاصل ہوتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے انھیں اس انجام کی وعید سنائی ہے جس کا قیامت کے روز انھیں سامنا کرنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتاہے وہ اس کو دیکھ لیں۔‘‘ تب انھیں معلوم ہو گا کہ انھیں اس میں کیا حاصل ہوا کہ وہ دائمی بدبختی اور ہمیشہ رہنے والے عذاب میں پھنس گئے ہیں۔