Tafsir As-Saadi
43:84 - 43:89

اور وہ، وہ ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود اور وہ نہایت حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (84) اور بہت بابرکت ہے وہ ذات، جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو درمیان ہے ان دونوں کے، اور اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (85) اور نہیں اختیار رکھتے وہ، جن کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، سفارش کا، مگر وہ جس نے گواہی دی ساتھ حق کے اور وہ جانتے ہیں (86) اور اگر آپ سوال کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا ان کو تو یقیناً ضرور وہ کہیں گے: اللہ نے، پس وہ کہاں پھیرے جاتے ہیں؟ (87) قسم ہے اس (رسول) کے (یہ) کہنے کی کہ اے رب! بلاشبہ یہ لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائیں گے (88) پس منہ پھیر لیجیے ان سے اور کہہ دیجیے: سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے(89)

[84] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔‘‘ اورفرمایا:﴿وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا﴾(الرعد:13؍15) ’’آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے:﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الۡاَرۡضِ ﴾(الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
[85]﴿وَتَبٰرَكَ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اور بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں، زمین اور جو ان کے درمیان موجود ہے، سب پر حکومت ہے۔‘‘(تبارک) کا معنی ہے کہ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، اس کی بھلائیاں بے شمار، اس کی صفات لامحدود اور اس کی سلطنت بہت عظیم ہے۔ بنابریں فرمایا کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز پر حاوی ہے، اس کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ تمام امور غیب کا وہ اکیلا ہی علم رکھتا ہے، جن کا علم کوئی نبئ مرسل، کوئی مقرب فرشتہ اور مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ یہاں افادۂ حصر کے لیے ظرف کو مقدم رکھا ہے یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ اس کا کامل اقتدار اور اس کی وسعت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ تمھارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔
[86] یہ اس کا کامل اقتدار ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کا، کوئی ہستی کوئی اختیار نہیں رکھتی اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی کسی قسم کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ پس فرمایا:﴿وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی انبیاء اور فرشتے اور دیگر لوگوں میں سے ایسی تمام ہستیاں جنھیں اللہ کے سواپکارا جاتا ہےوہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گی اور صرف اسی کے حق میں سفارش کر سکیں گی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَقِّ ﴾ یعنی جس نے دل سے حق کا اقرار کرتے ہوئے اور جس امر کی شہادت دی جا رہی ہے اس کا علم رکھتے ہوئے زبان سے حق کی شہادت دی اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ شہادت حق کے ساتھ شہادت ہو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی وحدانیت کی شہادت، اس کے رسولوں کے لیے ان کی نبوت و رسالت کی شہادت اور دین کے اصول و فروع، اس کے حقائق اور شرائع کی شہادت جنھیں لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ دے گی اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پائیں گے اور اس کا ثواب حاصل کریں گے۔
[87] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ یعنی اگر آپ مشرکین سے توحید ربوبیت کے بارے میں پوچھیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے، تو وہ اقرار کریں گے کہ اللہ واحد جس کا کوئی شریک نہیں، اس کائنات کا خالق ہے۔ ﴿فَاَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾ یعنی تب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس اکیلے کے لیے اخلاص سے کہاں منہ موڑے جا رہے ہیں۔ پس ان کا توحید ربوبیت کا اقرار، ان پر توحید الوہیت کے اقرار کو لازم ٹھہراتا ہے اور یہ شرک کے بطلان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
[88]﴿وَقِيۡلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور پیغمبر کا یہ کہنا کہ اے میرے رب! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(الزخرف:43؍85)’’اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے۔‘‘ پر معطوف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کی تکذیب کے وقت، اپنے رب کے پاس شکوہ کرتے ہوئے، نہایت حزن و غم اور اپنی قوم کے عدم ایمان پر نہایت حسرت کے ساتھ دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حال کا علم رکھتا ہے اور ان کو فوراً سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ نہایت بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔
[89] اس لیے فرمایا: ﴿فَاصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾(الفرقان:25؍63) ’’جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں‘‘ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾(الفرقان: 25؍63) ’’تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔‘‘ پس رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔