Tafsir As-Saadi
44:1 - 44:16

حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔
[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔
[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔
[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔