Tafsir As-Saadi
44:51 - 44:59

بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)

[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔