Tafsir As-Saadi
45:14 - 45:15

کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جو ایمان لائے، درگزر کریں وہ ان لوگوں سے جو نہیں امید رکھتے اللہ کے دنوں کی (جن میں وہ گرفت کرتا ہے) تاکہ بدلہ دے وہ کچھ لوگوں کو ساتھ اس کے جو تھے وہ کماتے (14) جس نے عمل کیا نیک تو (اس کا فائدہ) اسی کے لیے ہے اور جس نے کیا برا کام تو اسی پر (اس کا وبال) ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے (15)

[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ حسن اخلاق سے کام لیں اور ان مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کریں جو ایام الٰہی کی امید نہیں رکھتے یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے امیدوار ہیں نہ گناہ گاروں کے بارے میں سنت الٰہی سے خائف ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے گا۔ پس اے مومنوں کے گروہ! اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان، تمھارے درگزر اور تمھارے صبر کی جزا کے طور پر تمھیں ثواب جزیل سے بہرہ مند کرے گا۔ اگر کفار و مشرکین اپنی تکذیب پر جمے رہے تو تم پر رسوا کن وہ سخت عذاب نازل نہیں ہو گا جو ان پر نازل ہوگا۔ بنابریں فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا١ٞ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برا عمل کرتا ہے تو وہی اس کا خمیازہ بھگتے گا، پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: