پھر کر دیا ہم نے آپ کو اوپر ایک طریقے کے دین کے، پس آپ پیروی کریں اس کی اور نہ پیروی کریں ان لوگوں کی خواہشات کی جو نہیں علم رکھتے (18) بلاشبہ وہ ہرگز نہیں کام آئیں گے آپ کے اللہ سے کچھ بھی، اور بے شک ظالم لوگ، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے، اور اللہ دوست ہے متقیوں کا(19)
[18] یعنی ہم نے آپ کے لیے ایک شریعت کامل کو مشروع کیا جو ہمارے حکم شرعی سے، ہر بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور ہر برائی سے روکتی ہے۔ ﴿فَاتَّبِعۡهَا﴾ ’’پس اس کی اتباع کرو۔‘‘ کیونکہ اس کی اتباع میں ابدی سعادت، صلاح اور فلاح ہے۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور ان لو گوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کی خواہشات علم کے تابع ہیں نہ علم کی پیروی کرتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کی خواہش اور ارادہ شریعتِ رسولﷺ کے خلاف ہے تو ان کی خواہشات ان لوگوں کی خواہشات کے زمرے میں آتی ہیں جو علم سے بے بہرہ ہیں۔
[19]﴿اِنَّهُمۡ لَنۡ يُّغۡنُوۡا عَنۡكَ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی اگر تو ان کی خواہشات نفس کی پیروی کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تجھے کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے کہ تجھے کوئی بھلائی حاصل ہو یا تجھ سے کوئی برائی دور ہو۔ تیرے لیے درست نہیں کہ تو ان کی موافقت کرے اور ان سے موالات رکھے، کیونکہ آپ اور وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ متقیوں کا دوست ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ متقین کو ان کے تقویٰ اور نیک عمل کے سبب سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔