Tafsir As-Saadi
46:11 - 46:12

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، اگر ہوتا وہ (دین) بہتر نہ پہل کرتے وہ ہم سے اس کی طرف، اور جب نہ ہدایت پائی انھوں نے اس (قرآن) کے ذریعے سے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے قدیم (11) اور اس (قرآن) سے پہلے کتاب تھی موسیٰ کی، پیشوا اور رحمت، اور یہ (قرآن) کتاب ہے تصدیق کرنے والی عربی زبان میں، تاکہ وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا، اور خوش خبری نیکی کرنے والوں کے لیے (12)

[12,11] حق کا انکار کرنے والے، اس سے عناد رکھنے والے اور اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے کفار کہتے ہیں۔ ﴿ لَوۡ كَانَ خَيۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ﴾ ’’اگر یہ بہتر ہوتا تو یہ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔‘‘ یعنی مومنین ہم پر سبقت نہ لے جا سکتے، ہم اس بھلائی کی طرف سب سے پہلے آگے بڑھنے والے اور اس کی طرف سب سے زیادہ سبقت کرنے والے ہوتے۔ ان کا یہ قول ایک لحاظ سے باطل ہے… کون سی دلیل اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حق کی علامت یہ ہے کہ اہل تکذیب اہل ایمان پر سبقت لے جائیں؟ کیا وہ زیادہ پاک نفس اور عقل و خرد میں زیادہ کامل ہیں؟ کیا ہدایت ان کے ہاتھ میں ہے؟ مگر یہ کلام جو ان سے صادر ہوا، جسے وہ اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اس شخص کے کلام کی مانند ہے جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ اس چیز کی مذمت کرنا شروع کر دے۔اسی لیے فرمایا:﴿ وَاِذۡ لَمۡ يَهۡتَدُوۡا بِهٖ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠ هٰؔذَاۤ اِفۡكٌ قَدِيۡمٌ﴾ ’’اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہتے ہیں کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔‘‘ یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر انھوں نے اس قرآن سے راہ نمائی حاصل نہ کی اور یوں وہ عظیم ترین نوازشات اور جلیل ترین عطیات سے محروم ہو گئے۔اسے جھوٹ کہہ کر اس میں جرح و قدح کی، حالانکہ یہ حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔یہ قرآن ان کتب سماویہ کی موافقت بھی کرتا ہے جو اس سے قبل نازل ہو چکی ہیں، خاص طور پر تورات کی جو قرآن کریم کے بعد افضل ترین کتاب ہے۔ ﴿ كِتٰبُ مُوۡسٰۤى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً﴾ ’’موسیٰ(u)کی کتاب جو راہنما اور رحمت ہے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل اس کتاب کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں اور انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہوتی ہے۔﴿ وَهٰؔذَا﴾ یعنی یہ قرآن ﴿ كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ﴾ گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے، ان کی صداقت کی گواہی دیتا ہے اور ان کی موافقت کر کے ان کی تصدیق کرتا ہے ﴿ لِّسَانًا عَرَبِيًّا﴾ اللہ تعالی نے اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ اس کو اخذ کرنا سہل اور اس سے نصیحت حاصل کرنا آسان ہو ﴿ لِّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ تاکہ یہ ان لوگوں کو برے انجام سے خبردار کرے جنھوں نے کفر، فسق اور نافرمانی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اگر وہ اپنے ظلم پر جمے رہیں تو ان کو دردناک عذاب سے ڈرائے۔ اور اپنے خالق کی عبادت میں احسان کرنے اور مخلوق کو نفع پہنچانے والوں کے لیے، دنیا و آخرت میں ثواب جزیل کی خوشخبری دے۔اور ان اعمال کا ذکر کرے جن سے ڈرایا گیاہے اور ان اعمال کا ذکر کرے جن پر خوشخبری دی گئی ہے۔